پانچ جولائی کا یومِ سیاہ اور پیپلز پارٹی

پانچ جولائی کا یومِ سیاہ اور پیپلز پارٹی
تحریر : فرخ بصیر
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 5جولائی 1977ء ایک سیاہ باب ہے۔ اس دن جنرل ضیاء الحق نے ’’ آپریشن فیئر پلے‘‘ کے نام پر فوجی بغاوت کر کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا دوسرا فوجی مارشل لا تھا، جو سب سے طویل اور سب سے زیادہ متنازع ثابت ہوا۔ یہ صرف ایک حکومت کی برطرفی نہیں تھی بلکہ اس نے پاکستان کی سیاست، آئین، عدلیہ، سیاسی و مذہبی بیانیے اور جمہوری ارتقا پر ایسے گہرے اثرات مرتب کیے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں، پیپلز پارٹی اس دن کو ’’ یوم سیاہ‘‘ کے طور پر مناتی ہے، کیونکہ ضیاء نے نہ صرف ایک عوامی حکومت کو ختم کیا بلکہ جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق پر کاری ضرب لگائی۔ آج، جب پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور قومی سطح پر آئینی عہدوں کے ساتھ ن لیگ کی وفاقی اور پنجاب حکومت کو سپورٹ کر رھی ہے تو اس دن کی یاد تازہ کرنا ضروری ہے کہ کس طرح ایک آمریت نے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا، اور آج پاکستان پیپلز پارٹی کیسے اس ورثے سے نمٹ رہی ہے؟
1977ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کر لی تو اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل سیاسی اتحاد پی این اے کے ساتھ مذاکرات کے باوجود 5جولائی کو فوج نے اقتدار سنبھال لیا، جنرل ضیاء الحق نے 90روز کے اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کر کے اس ملک پر 11برس تک آمریت کو طاری رکھا۔ ضیاء دور میں آئین میں براہ راست بہت سی تبدیلیاں کی گئیں۔ سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگیں، پریس پر سنسر شپ نافذ ہوئی، عوامی نمائندوں کو نااہل کیا گیا اور فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی کارکنوں کو سزائیں دی گئیں۔ سب سے المناک واقعہ 4اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تھی، جسے آج بھی پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کا سب سے متنازع فیصلہ قرار دیکر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9رکنی لارجر بنچ نے 6مارچ 2024 ء کو متفقہ رائے دی کہ بھٹو کو فیئر ٹرائل ( منصفانہ مقدمہ) اور ڈیو پروسس ( آئینی ضمانتوں) کا موقع نہیں ملا۔ لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی 1979ء کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 4اور 9کے تقاضوں پر پورا نہیں اتری۔ یہ ایک تاریخی غلطی تھی، اور عدالت نے اسے ’’ اصلاحِ تاریخ‘‘ قرار دیا۔ تاہم تاریخ ٹھیک رکھنے کیلئے ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ یہ ریفرنس 2011 ء میں صدر آصف علی زرداری نے دائر کیا تھا۔
ضیاء مارشل لا کے دوران معطل آئین میں قریباً 97تبدیلیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں قریباً 67شقیں متاثر ہوئیں اور صدر کے اختیارات بڑھائے گئے، پارلیمانی نظام کو نیم صدارتی بنایا گیا اورغیر جماعتی انتخابات کے بعد منتخب پارلیمنٹ کو اقتدار منتقل کیا گیا۔ اسی دور میں 8ویں ترمیم کے ذریعے بدنام زمانہ آرٹیکل 58ٹو بی منظور کرا کے صدر کو قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار دیدیا گیا جس کے نتیجے میں پارلیمانی جمہوریت کمزور اور صدارتی نظام غالب آیا تاہم صدر آصف علی زرداری نے اپنے پہلے دور صدارت میں 19اپریل 2010ء میں 18ویں ترمیم کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرنے والے آرٹیکل 58 ٹو بی کو ختم کر کے اسے باقاعدہ آئین کا حصہ بنا دیا۔ یہ ترمیم پاکستان کو پارلیمانی جمہوریت کی طرف واپس لانے میں اہم تھی، جس نے صدارتی اختیارات کم کر کے وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی طاقت بڑھائی۔5جولائی کے مارشل لا نے پاکستان میں ایک ایسی روایت کو مضبوط کیا جس کے تحت غیر منتخب قوتیں وقتاً فوقتاً سیاسی عمل پر اثر انداز ہوتی رہیں۔ اس عمل نے جمہوری اداروں کو کمزور اور سیاسی جماعتوں کو تقسیم کیا اور عوام کے ووٹ کی طاقت کو بارہا چیلنج کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں آج اصولی طور پر فوجی مداخلت کی مخالفت اور آئین کی بالادستی کی بات کرتی ہیں۔
آج پاکستان پیپلز پارٹی مرکز اور پنجاب میں آئینی عہدوں کے ساتھ ن لیگ کی حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ایک مضبوط سیاسی قوت بن چکی ہے جبکہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں وہ دیگر جماعتوں سے ملکر حکومت کر رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر اسمبلی کے 27جولائی کو ہونیوالے انتخابات میں جے یو آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر چکی ہے مگر پنجاب میں تنظیم نو کے بعد صورتحال میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، بالخصوص لاہور اور راولپنڈی ڈویژن میں نئی قیادتیں آنے کے بعد تنظیمیں سرگرمیوں میں بہت مثبت پیشرفت دیکھنے میں آ رہی ہے، صوبائی دارالحکومت کے مختلف ٹائون اور زونز میں جس تیزی سے کام ہو رہا ہے اس کے نتیجے میں آئندہ بلدیاتی الیکشن میں پیپلز پارٹی ن لیگ کیلئے چیلنج بن سکتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی شناخت ہیں۔ انہوں نے خارجہ پالیسی، پارلیمانی سیاست اور بین الاقوامی فورمز پر نسبتاً متوازن اور لبرل انداز اپنا کر اپنی الگ سیاسی پہچان قائم کر لی ہے۔
پارلیمنٹ ہو یا کوئی سیاسی جلسہ یا فورم ، وہ جمہوریت، آئین، خواتین و اقلیتوں کے حقوق، موسمیاتی تبدیلی اور وفاقی ہم آہنگی پر مضبوط نکتہ نظر کے ساتھ کھڑے نظر کرتے نظر آتے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا حکومتی تسلسل اس کی طاقت کے ساتھ ساتھ اس کا سب سے بڑا امتحان بھی ہے جس کا جواب پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، پینے کے صاف پانی، شہری انفرا سٹرکچر اور گورننس کو مزید بہتر بنا کر دینے کی جدو جہد میں مصروف ہے۔5جولائی کا یومِ سیاہ پاکستان کی پوری جمہوری تاریخ کا ایک سبق ہے۔ اس روز ملک بھر میں یوم سیاہ منا کر پاکستان پیپلز پارٹی سیاسی کارکنوں کو یاد دلاتی ہے کہ جب بھی آئینی تسلسل ٹوٹتا ہے تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں۔ اسی طرح یہ دن سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سبق دیتا ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ برداشت، مکالمے، شفافیت، مضبوط اداروں، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور عوامی احتساب کا مجموعہ ہے، پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ آئین کی بالادستی، عوام کے ووٹ کا احترام، آزاد ادارے اور مضبوط پارلیمان ہی ملک کے استحکام کی ضمانت ہیں۔
5جولائی 1977ء کو تاریخ نے ایک تلخ موڑ لیا تھا، مگر اس تلخی سے ہم سبق سیکھ کر ہی مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ آج کی پیپلز پارٹی اپنی تاریخی جدوجہد کو نئی نسل کے لیے موثر سیاسی وژن میں تبدیل کرنے میں مصروف ہے اور وہ عوام کی طاقت کو اقتدار کا سر چشمہ سمجھتی ہے تو اسے ماضی کی یادوں کے ساتھ ساتھ حال کی کارکردگی اور مستقبل کی ٹھوس حکمت عملی بھی پیش کرنا ہوگی۔





