
لیوی بڑھانے نہیں عیاشی گھٹانے کی ضرورت
تحریر : سی ایم رضوان
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بقول امریکی صدر ٹرمپ پتھر کی طرح گر رہی ہیں اور یہ رحجان مزید بھی جاری رہے گا مگر پاکستان کی مجبور، اپنی عیاشیوں میں کمی نہ کرنے اور عوام کا خون چوسنے پر ہر وقت آمادہ، چوکس اور تیار رہنے والی حکومت نے تازہ کارروائی میں ڈیزل اور پٹرول پر لیوی کم کرنے کی بجائے بڑھا دی ہے۔ جس سے عوام میں غم و غصّے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اس واضح کمی کے باوجود پاکستان میں عوام کو اس کا پورا فائدہ نہ ملنا اور پٹرولیم لیوی میں مسلسل ظالمانہ تبدیلیاں اس وقت عوامی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہیں، دوسری طرف ان لیوی تبدیلیوں کے پیچھے چند اہم معاشی، سیاسی اور سٹریٹیجک وجوہات کار فرما ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پٹرولیم لیوی کیا ہے اور اسے کیوں بڑھایا جا رہا ہے۔ حالیہ بجٹ ( 2026۔27) میں حکومت نے پٹرولیم لیوی کا ایک بہت بڑا ہدف ( قریباً 1.67سے 1.73ٹریلین روپے) مقرر کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے اس لیوی کو بڑھانے اور برقرار رکھنے کی بنیادی وجوہات میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط ہیں۔ جن کے تحت آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے نئے قرضہ پروگراموں کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں اور لیوی کی وصولی سے مشروط کر رکھا ہے۔ آئی ایم ایف کسی بھی قسم کی پٹرول سبسسڈی کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ پٹرولیم لیوی کی خاص بات یہ بھی ذہن میں رہے کہ یہ رقم براہ راست وفاقی حکومت کے کھاتے میں جاتی ہے اور اسے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں میں تقسیم نہیں کرنا پڑتا۔ اس لئے وفاقی حکومت اپنے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے اس کا سہارا لیتی ہے۔
عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ جب دنیا میں تیل سستا ہوتا ہے تو پاکستان میں قیمتیں اسی تناسب سے نیچے کیوں نہیں آتیں؟ اس کے برعکس حکومت کے ہاں اس کی چند تکنیکی اور معاشی وجوہات میں ٹیکسز اور دیگر ڈیوٹیز کا بوجھ ایک بنیادی جزو ہے۔ جن سے عہدہ برا ہونے کے لئے عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہوتے ہی حکومت یا تو لیوی بڑھا دیتی ہے یا کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر چارجز نافذ کر دیتی ہی تاکہ اپنا ریونیو ہدف پورا کر سکے۔ ( مثال کے طور پر، جون کے وسط میں جہاں پٹرول پر لیوی کچھ کم کی گئی، وہیں ہائی سپیڈ ڈیزل پر اس میں اضافہ کیا گیا)۔ یاد رہے کہ پٹرول کی قیمت میں صرف خام تیل شامل نہیں ہوتا بلکہ اس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن، ڈیلرز کے کمیشن اور فریٹ مارجنز ( ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات) بھی شامل ہوتے ہیں، جو کم نہیں کیے جاتے اس لئے عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے فوائد عام پاکستانی تک نہیں پہنچ پاتے۔ عام سطح پر یہ موقف بھی درست ہے کہ حکومت نے عوام کو لوٹنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ عوامی اور اپوزیشن حلقوں کا ماننا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے دبائو میں آ کر اور اپنے شاہانہ اخراجات کو کم کرنے کے بجائے سارا بوجھ غریب عوام اور تنخواہ دار طبقے پر ڈال رہی ہے۔ اس پالیسی کو معاشی زبان میں ری گریسو Regressive Taxationکہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ امیر ہو یا غریب، تیل خریدنے پر دونوں برابر ٹیکس دیتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب پر پڑتا ہے۔ لیکن حکومت کی مجبوری یہ ہے کہ ملک شدید معاشی بحران اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اگر پٹرولیم لیوی سے ہدف پورا نہ کیا گیا تو ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا اور آئی ایم ایف پروگرام معطل ہو سکتا ہے، جس کے نتائج پورے ملک کے لئے اس سے بھی زیادہ ہولناک ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ جون 2026ء کے دوران اس نے پٹرول کی قیمتوں میں ماضی کے مقابلے کچھ کمی کر کے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، تاہم بجٹ کے اہداف کو برقرار رکھنا ان کی مجبوری ہے۔ یہ صورتحال حکومت کی نااہلی اور معاشی مجبوریوں دونوں کا ملغوبہ ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا دبائو اور دوسری طرف اندرونی طور پر ٹیکس نیٹ کو درست نہ کرنا ( جیسے بڑے تاجروں اور جاگیرداروں پر ٹیکس نہ لگانا) حکومت کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ پٹرول اور ڈیزل کو ’’ کیش کائو‘‘ ( کمانے کا آسان ذریعہ) کے طور پر استعمال کرے، جس کا سیدھا نقصان عام آدمی کی جیب کو پہنچ رہا ہے۔
پاکستان میں آئل کمپنیوں اور حکومت کے گٹھ جوڑ کا سوال بھی دہائیوں سے زیرِ بحث ہے۔ یہ تاثر بالکل عام ہے کہ مافیاز حکومت پر حاوی ہیں، لیکن اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض کمپنیوں کی طاقت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ حکومت کے اپنے مفادات، بیوروکریسی کی ملی بھگت اور پالیسیوں کی کمزوریوں کا ایک پورا جال ہے۔ اس نظام میں ریگولیٹر کی کمزوری اور کمپنیوں کا اثر و رسوخ بڑا اہم ہے۔ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ( اوگرا) کا کام کمپنیوں پر نظر رکھنا اور عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ لیکن عملی طور پر جب بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے والی ہوں یا ملک میں پٹرولیم لیوی تبدیل ہونی ہو، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور ڈیلرز اکثر سپلائی روک دیتے ہیں تاکہ بعد میں مہنگے داموں بیچ کر کروڑوں روپے کا ناجائز منافع کما سکیں۔ ماضی میں ایسے کئی بحرانوں پر تحقیقاتی کمیٹیاں بنیں، جنہوں نے کمپنیوں کو قصور وار ٹھہرایا، لیکن سزائیں اور جرمانے اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ کمپنیاں دوبارہ وہی کھیل کھیلنے سے نہیں ڈرتیں۔ بعض حکومتی عہدیداران اور ’’ مفادات کا ٹکرائو‘‘ سب سے اہم نکتہ ہے۔ پاکستان کی سیاست اور حکومت میں ایسے لوگ شامل ہیں اور ہمیشہ سے رہے ہیں جن کے اپنے کاروبار، شوگر ملز، ٹیکسٹائل یا پٹرولیم سیکٹر سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب کاروبار کرنے والے لوگ خود پالیسی بنانے والی سیٹوں پر بیٹھ جاتے ہیں، تو وہ ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جن سے ان کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے۔ اس طرح کے ناجائز فائدوں سے حکومتوں سے زیادہ امیر ہو جانے والی بڑی بڑی آئل کمپنیاں اور کاروباری گروپس سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے دوران بھاری فنڈز بھی فراہم کرتے ہیں۔ حکومت میں آنے کے بعد یہ جماعتیں ان کمپنیوں کو ریلیف دینے پر مجبور ہوتی ہیں۔ ان حالات میں ییوروکریسی کا کردار بھی بے شرمانہ ہوتا ہے۔ وزارتِ توانائی اور پٹرولیم ڈویژن میں بیٹھے بعض طاقتور افسر ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر انہی بڑی ملٹی نیشنل یا مقامی آئل کمپنیوں میں بھاری تنخواہوں پر مشیر یا کنسلٹنٹ لگ جاتے ہیں۔ اس لئے وہ سروس کے دوران ان کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے سے گریز کرتے ہیں۔ ایک سچائی یہ بھی ہے کہ حکومت خود ان کمپنیوں کو پوری طرح نکیل نہیں ڈالنا چاہتی، کیونکہ حکومت خود اس کاروبار میں سب سے بڑی شراکت دار ہے۔ مثال کے طور پر پی ایس او یعنی پاکستان سٹیٹ آئل سرکاری کمپنی ہے، جو مارکیٹ کا سب سے بڑا حصہ کنٹرول کرتی ہے۔ اس کا منافع حکومت کو جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر کمپنیاں جتنا زیادہ پٹرول بیچیں گی، حکومت کو اتنا ہی زیادہ ٹیکس ( لیوی) اکٹھا کرنے میں آسانی ہو گی۔ حکومت کمپنیوں کے مارجنز ( منافع کے فیصد) میں اکثر اضافہ کرتی رہتی ہے تاکہ کمپنیاں ملک میں پٹرول کی امپورٹ جاری رکھیں اور سپلائی چین متاثر نہ ہو۔ اگر کمپنیاں امپورٹ بند کر دیں تو ملک کا پورا پہیہ جام ہو جائے گا، اور ظاہر ہے حکومت یہ رسک نہیں لے سکتی۔ یعنی یہ آئل کمپنیاں حکومت سے بڑی نہیں ہیں، لیکن وہ حکومت کی معاشی کمزوریوں اور نظام کی خرابیوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔ حکومت میں بیٹھے کچھ عہدیدار براہِ راست یا بالواسطہ ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں ہر بحران کے بعد بچ نکلتی ہیں اور نقصان صرف عام صارف کا ہوتا ہے۔ یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ حکومت کی اپنی اندرونی کمزوری اور ساختی خرابیاں اسے مزید بلیک میلنگ اور معاشی دلدل کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں ایک کمزوری دوسری بڑی کمزوری کو جنم دیتی ہے۔ حکومت کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ملک کے طاقتور اور بااثر طبقات ( جیسے بڑے جاگیردار، رئیل اسٹیٹ مافیا، اور ہول سیل تاجروں) کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی سیاسی ہمت نہیں رکھتی۔
جب حکومت وہاں سے ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہوتی ہے، تو بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے اس کے پاس سب سے آسان راستہ پٹرول، ڈیزل اور بجلی پر ٹیکس یا لیوی بڑھانا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام میں حکومت کی رہی سہی مقبولیت بھی ختم ہو جاتی ہے، اور وہ سیاسی طور پر مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اندرونی طور پر آمدنی کے ذرائع مضبوط نہیں ہیں، اس لئے حکومت کو ہر چند ماہ بعد آئی ایم ایف کے سامنے جانا پڑتا ہے۔
جب آپ کسی سے ادھار مانگنے جاتے ہیں، تو آپ کی سودے بازی کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ حکومت پاکستان بھی مجبوراً آئی ایم ایف کی شرائط کو مانتی ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آتا ہے، کاروبار بند ہوتے ہیں، معیشت مزید سکڑ جاتی ہے جس سے حکومت کی اپنی آمدنی مزید کم ہو جاتی ہے اور وہ اگلے قرضے کے لئے اور زیادہ کمزور ہو کر آئی ایم ایف کے پاس جاتی ہے۔ جب حکومت آئی ایم ایف کی شرائط یا معاشی مجبوریوں کی وجہ سے آئل کمپنیوں، شوگر ملز یا بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں ( IPPs) پر انحصار کرتی ہے، تو وہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے سے ڈرتی ہے۔ حکومت کو خوف ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے کسی مافیا پر ہاتھ ڈالا اور انہوں نے سپلائی بند کر دی، تو ملک میں بحران پیدا ہو جائے گا جسے سنبھالنا حکومت کے بس میں نہیں ہو گا۔ حکومت کی یہ بے بسی مافیاز کو مزید شیر بنا دیتی ہے، اور وہ اگلی بار حکومت کو اور زیادہ بلیک میل کرتے ہیں۔ حکومت کی اپنی معاشی حالت اس وقت ایک ایسے مریض جیسی ہے جو عارضی سکون کے لئے تیز دوائیں ( قرضے اور پٹرول پر بھاری ٹیکس) کھا رہا ہے، لیکن وہ دوائیں اس کے اندرونی اعضاء ( ملکی معیشت اور عوامی اعتماد) کو مزید کھوکھلا کر رہی ہیں۔ لہٰذا جب تک حکومت پاکستان اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے لئے کڑوے فیصلے ( امیروں پر ٹیکس اور حکومتی اخراجات میں اصل کٹوتی) نہیں کرے گی، اس کی یہ کمزوری اسے دن بدن مزید لاچار کرتی چلی جائے گی۔
سی ایم رضوان







