Column

مکالمہ ہی مسائل کا حل ہے

مکالمہ ہی مسائل کا حل ہے
تحریر: رفیع صحرائی
قومیں اختلافِ رائے سے کمزور نہیں ہوتیں، بلکہ اختلاف کو دشمنی میں بدل دینے سے زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ مختلف نظریات، خیالات اور سیاسی موقف رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کو برداشت کریں، ایک دوسرے کا نقطہ نظر سنیں اور مسائل کا حل مکالمے کے ذریعے تلاش کریں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست گزشتہ کئی برسوں سے محاذ آرائی، الزام تراشی، انا پرستی اور سیاسی انتقام کی نذر ہوتی جا رہی ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان ریاست، معیشت اور عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات اور میثاقِ جمہوریت کی دعوت دی ہے۔ جمہوری روایات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو سیاسی حریف سمجھیں، دشمن نہیں۔ اختلافات اپنی جگہ مگر قومی مفاد کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دنیا کی کوئی بھی جمہوریت مستقل تصادم اور کشمکش کے ماحول میں ترقی نہیں کر سکتی۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بڑے سے بڑا تنازع بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوا ہے۔ جنگیں خواہ کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، ان کا اختتام کسی نہ کسی مرحلے پر بات چیت اور سمجھوتے پر ہوتا ہے۔ حالیہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور تصادم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع، کھربوں ڈالر کے نقصان اور انفراسٹرکچر کی تباہی کے باوجود بالآخر دنیا کو مذاکرات ہی کی طرف لوٹنا پڑا۔ اگر جنگ کے بعد بات چیت ناگزیر ہے تو پھر سیاست میں مذاکرات سے گریز کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔
قدرت کا اصول بھی یہی ہے کہ لچک میں بقا ہے۔ آندھی اور طوفان کے دوران سخت اور اکڑے ہوئے درخت اکثر ٹوٹ جاتے ہیں یا جڑوں سمیت اکھڑ جاتے ہیں جبکہ نرم اور لچکدار پودے وقتی طور پر جھک کر خود کو بچا لیتے ہیں اور حالات معمول پر آتے ہی دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سیاست میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ ضد، ہٹ دھرمی اور انا وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتی ہے لیکن مستقل سیاسی کامیابی اور قومی استحکام کا راستہ مفاہمت اور دانش مندی سے ہو کر گزرتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی بیانات میں اکثر حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت غالب آ جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے بجٹ کو بعض سیاسی مطالبات سے مشروط کرنے کی باتیں ہوں یا پھر مختلف حلقوں کی جانب سے سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ
کرنے کی دھمکیاں، یہ سب ایسے اقدامات ہیں جو جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد ہر جماعت کا حق ہے، مگر قومی معاملات کو تعطل کا شکار بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔
سیاسی عدم استحکام کا سب سے بڑا نقصان معاشی ترقی کو پہنچتا ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں، ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں اور ریاستی ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹ کر سیاسی تنازعات میں الجھ جاتے ہیں۔ بلوچستان اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ قدرت نے اس صوبے کو بے پناہ معدنی وسائل سے نوازا ہے۔ ریکوڈک جیسے منصوبے پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر سیاسی بے یقینی اور بداعتمادی ترقی کے سفر کو سست کر دیتی ہے۔
اسی طرح پاکستان کی تاریخ میں کالا باغ ڈیم کا معاملہ بھی ایک سبق ہے۔ تکنیکی اور معاشی فوائد سے قطع نظر، سیاسی اختلافات اس قدر گہرے ہو گئے کہ قومی اہمیت کا ایک بڑا منصوبہ کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب سیاسی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جائیں تو نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے۔
دوسری جانب دہشت گردی کا چیلنج بھی قومی یکجہتی کا متقاضی ہے۔ ہمارے فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ شہداء کے خاندانوں کی قربانیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ سیاسی قیادت کم از کم قومی سلامتی، معیشت اور آئینی استحکام جیسے معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے۔ جب دشمن ہماری صفوں میں انتشار دیکھتا ہے تو اس کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جبکہ قومی اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں مخالف کو مکمل طور پر غلط اور خود کو مکمل طور پر درست سمجھنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ حالانکہ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فریق اپنے موقف میں لچک پیدا کرے اور دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ بھی رکھے۔ سیاست کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ضرور ہے مگر ریاست اور عوام کی قیمت پر نہیں۔ اگر سیاسی رہنما اپنی انا کو قومی مفاد پر ترجیح دیں گے تو نقصان آنے والی نسلوں کو ہوگا۔
پاکستان اس وقت معاشی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے، توانائی بحران، آبی قلت، تعلیم، صحت اور بے روزگاری جیسے بے شمار چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ان مسائل کا حل کسی ایک جماعت یا حکومت کے بس کی بات نہیں۔ ان کے حل کے لیے قومی اتفاقِ رائے اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک قدم پیچھے ہٹیں، تلخ لہجوں کے بجائے سنجیدہ مکالمے کو فروغ دیں اور اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کریں۔
سیاست میں مستقل دشمنیاں نہیں ہوتیں، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ اور پاکستان کا سب سے بڑا مفاد یہی ہے کہ سیاسی قوتیں تصادم کے راستے کو چھوڑ کر مفاہمت، برداشت اور مکالمے کی راہ اختیار کریں۔ پچیس کروڑ عوام کا مستقبل کسی فرد، جماعت یا انا سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ اگر ہم نے یہ حقیقت بروقت نہ سمجھی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button