کراچی کا سادہ مطالبہ ’’ مفت بجلی نہیں، مسلسل بجلی چاہیے

کراچی کا سادہ مطالبہ ’’ مفت بجلی نہیں، مسلسل بجلی چاہیے‘‘
شکیل سلاوٹ
کراچی ایک بار پھر شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے۔ درجہ حرارت بلند ہے، ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہے، اور لاکھوں شہری دن رات گرمی کی شدت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں جب گھروں کے پنکھے، واٹر کولر، ایئر کنڈیشنر اور پانی کی موٹریں ہی عوام کی بنیادی ضرورت بن جاتی ہیں، طویل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ شہریوں کے لیے ایک اضافی عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کی سب سے بڑی پریشانی صرف بجلی کے بل نہیں بلکہ بجلی کی عدم دستیابی ہے۔ گرمی کی شدت میں جب کئی کئی گھنٹوں تک بجلی غائب رہتی ہے تو بزرگ افراد، بچے، بیمار شہری اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عوام کی جانب سے ایک اہم اور قابل غور پیغام سامنے آ رہا ہے: ’’ ہمیں مفت بجلی نہیں چاہیے، صرف لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے‘‘ ۔
یہ مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ گزشتہ عام انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے عوام کو بجلی کے شعبے میں ریلیف فراہم کرنے کے متعدد وعدے کیے تھے۔ ان وعدوں میں کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو خصوصی رعایتیں دینے اور بعض صورتوں میں سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے گھرانوں کے لیے مفت بجلی کی تجاویز بھی شامل تھیں۔ انتخابی جلسوں اور منشوروں میں عوام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ توانائی کے بحران اور مہنگی بجلی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
آج جب شدید گرمی کی لہر کراچی کے شہریوں کو متاثر کر رہی ہے تو عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر حکومت فوری طور پر مفت بجلی فراہم نہیں کر سکتی تو کم از کم ہیٹ ویو کے دوران طویل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ تو کیا جا سکتا ہے۔ شہریوں کا موقف ہے کہ گرمی کے ان چند مشکل ہفتوں میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہی ان کے لیے سب سے بڑا ریلیف ثابت ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد مفت بجلی کے وعدوں سے زیادہ عملی اقدامات کی منتظر ہے۔ ایک مزدور، ایک دکاندار، ایک رکشہ ڈرائیور یا ایک متوسط طبقے کے خاندان کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ رات کے وقت پنکھا چلتا رہے، پانی کی موٹر کام کرتی رہے اور بچے سکون سے سو سکیں۔ اگر بجلی موجود نہ ہو تو مفت یا سستی بجلی کا تصور بھی اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔
ہیٹ ویو کے دوران بجلی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور ماہرینِ صحت بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران مناسب ٹھنڈک، پانی کی دستیابی اور وینٹی لیشن انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ کراچی ماضی میں شدید ہیٹ ویو کے المناک اثرات دیکھ چکا ہے، جہاں سیکڑوں افراد گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہوئے تھے۔ ان تجربات کے بعد یہ توقع فطری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے گرمی کے موسم میں خصوصی اقدامات کریں گے۔
اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر ہیٹ ویو ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے کراچی اور دیگر بڑے شہری مراکز میں لوڈشیڈنگ کم یا ختم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کریں تو اس کے مثبت نتائج فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عوامی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ حکومتی کارکردگی پر عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔
سیاسی اعتبار سے بھی یہ ایک اہم موقع ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت کر رہی ہے جبکہ وفاق میں مسلم لیگ ( ن) حکومت کا اہم حصہ ہے۔ دونوں جماعتوں کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہو سکتا ہے جہاں وہ انتخابی وعدوں کی روح کے مطابق عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔ عوام کو شاید اس وقت مفت بجلی سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ جو بجلی دستیاب ہے وہ بلا تعطل ان تک پہنچے۔
کراچی کے شہریوں کا موقف نہایت سادہ اور حقیقت پسندانہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سو یونٹ مفت بجلی کا وعدہ فی الحال عملی مشکلات کی وجہ سے پورا نہیں ہو سکتا تو کم از کم ہیٹ ویو کے دوران کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے۔ یہ اقدام نہ صرف عوامی صحت کے تحفظ میں مددگار ہوگا بلکہ حکومتی نیک نیتی اور عوامی مسائل کے حل کے عزم کا بھی واضح ثبوت بن سکتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی وعدوں کو صرف انتخابی نعروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عوامی فلاح کے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ کراچی کے لاکھوں شہری اس وقت کسی بڑے پیکیج، سبسڈی یا نئی اسکیم کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ شدید گرمی میں انہیں مسلسل بجلی فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے گھروں میں سکون کا سانس لے سکیں۔
اگر حکومت اس مطالبے کو سنجیدگی سے لے اور ہیٹ ویو کے دوران لوڈشیڈنگ کے خاتمے یا نمایاں کمی کا اعلان کرے تو یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ عوام کو یہ پیغام بھی دے گا کہ ان کی مشکلات کو سمجھا جا رہا ہے اور ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایسے اقدامات ہی عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں، اور یہی اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کی اصل طاقت ہوتا ہے۔
کراچی کے شہری آج بھی امید رکھتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے ان کی آواز سنیں گے۔ شاید اس وقت عوام کو مفت بجلی سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ جب گرمی اپنی انتہا پر ہو تو ان کے گھروں کے پنکھے چلتے رہیں، پانی دستیاب رہے اور ان کے بچے سکون کی نیند سو سکیں۔ یہی وہ ریلیف ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے، اور یہی وہ قدم ہے جو عوامی حمایت حاصل کرنے میں حکومت کے لیے سب سے موثر ثابت ہو سکتا ہے۔







