گرمی کی لہر: سندھ، جنوبی پنجاب کی آب و ہوا

گرمی کی لہر: سندھ، جنوبی پنجاب کی آب و ہوا
خواجہ عابد حسین
گرمی کے موسم میں جب پارہ 48سے 50ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو انسان کی سانس بھی رک سی جاتی ہے۔ آج کل ملتان سمیت سندھ، جنوبی پنجاب کے علاقے اسی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ تمام علاقے ایک قدیم اور تاریخی شہر ہیں، صدیوں سے اپنی تپتی دھوپ اور شدید گرمی کے لیے مشہور رہا ہے۔ ’’ ملتان کی دھوپ‘‘ کا تذکرہ تو صدیوں پرانے سفرناموں اور لوک داستانوں میں ملتا ہے۔ یہ شہر نہ صرف اپنی مزارات، تاریخی عمارتوں اور سوتی مصنوعات کے لیے جانا جاتا ہے بلکہ اپنے موسم کی شدت کے لیے بھی مشہور ہے۔ اِن دنوں جب ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان اور دیگر علاقوں میں درجہ حرارت 48۔50ڈگری کے قریب پہنچ رہا ہے، احتیاط ضروری ہے۔ ڈاکٹروں کے حوالے سے مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اچانک بہت ٹھنڈا پانی نہ پئیں، فوراً نہانیں، اور جسم کو اچانک ٹھنڈک نہ دیں۔ یہ مشورے جزوی طور پر درست ہیں۔
احتیاط کیوں ضروری ہے؟
جسم جب شدید گرمی میں ہو تو خون کی رگیں پھیل جاتی ہیں۔ اچانک بہت ٹھنڈا پانی پینے یا برف والا مشروب لینے سے جسم پر دبا پڑتا ہے۔ دل کی دھڑکن متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو پہلے سے ہائی بلڈ پریشر، دل کے مسائل یا دمہ کے مریض ہوں۔ ملائیشیا، انڈونیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک میں بھی حالیہ گرمی کی لہروں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں۔
کیا کرنا چاہئے:
کمرے کے درجہ حرارت والا پانی آہستہ آہستہ پیئیں۔ ناریل کا پانی، لیموں پانی ( نمک اور چینی کے ساتھ)، اور عام پانی استعمال کریں۔ گرم ناریل کا پانی واقعی جسم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں، سر ڈھکیں، چھتری استعمال کریں۔ دوپہر 12بجے سے 4بجے تک غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ گھر میں پھلوں، دہی، لسی اور سبزیوں پر مشتمل غذا استعمال کریں۔
کیا نہ کریں:
باہر سے گھر آ کر فوراً فریج کا ٹھنڈا پانی یا آئس کریم نہ کھائیں۔ دھوپ سے آ کر فوراً نہائیں۔ کم از کم 20۔30 منٹ جسم کو نارمل ہونے دیں۔ بچوں اور بوڑھوں کا خاص خیال رکھیں۔ وہ زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ملتان کی قدیم تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ شہر ہزاروں سال سے ان موسموں کا سامنا کر رہا ہے۔ ہمارے بزرگوں کا کہنا تھا کہ ’’ گرمی میں صبر اور احتیاط ہی بچائو ہے‘‘ ۔ جدید سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ جسم کو اچانک تبدیلی سے بچائیں۔
حکومت اور انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ واٹر سپلائی، شفاخانوں میں ایمرجنسی سہولیات اور عوامی آگاہی مہم کو مزید موثر بنائیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں، بوڑھوں اور مزدوروں کی مدد کریں۔





