Column

آرمی ہیلی کاپٹر حادثہ، قوم سوگوار

اداریہ۔۔۔
آرمی ہیلی کاپٹر حادثہ، قوم سوگوار
مظفرآباد کے قریب نیلم ویلی کے علاقے میں پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹر کا حادثہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے پورے ملک کو سوگوار کردیا ہے۔ یہ صرف ایک تکنیکی حادثہ نہیں بلکہ فرائض کی ادائیگی کے دوران جانوں کا عظیم نذرانہ تھا، وہ نذرانہ جسے ہماری مسلح افواج کا ہر سپاہی وطن کی سلامتی اور حفاظت کے لیے ہر لمحہ پیش کرنے کو تیار رہتا ہے۔ پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب ٹیک آف کر رہا تھا اور دورانِ پرواز فنی خرابی کا شکار ہوگیا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر میں موجود تمام اہلکار اس حادثے میں شہید ہوگئے۔ یہ خبر پورے ملک کے لیے ایک اجتماعی صدمے کی حیثیت رکھتی ہے۔ حادثے کی نوعیت ابتدائی طور پر تکنیکی بتائی جارہی ہے، تاہم مکمل تحقیقات کے بغیر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں خطہ جغرافیائی طور پر مشکل، پہاڑی اور موسمی اعتبار سے متغیر ہے، وہاں فضائی آپریشنز ہمیشہ اضافی چیلنجز کے حامل ہوتے ہیں۔ آرمی ایوی ایشن کے پائلٹس اور عملہ نہایت مشکل حالات میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں، جہاں معمولی تکنیکی خرابی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ نیلم ویلی اور اس کے اردگرد کا علاقہ اپنی جغرافیائی ساخت کے باعث نہایت پیچیدہ فلائنگ زون تصور کیا جاتا ہے۔ گھنے پہاڑ، تنگ وادیاں اور بدلتے ہوئے موسم اس خطے میں پرواز کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ اس کے باوجود پاک فوج کے پائلٹس اور ایوی ایشن یونٹس مسلسل اس علاقے میں نگرانی، لاجسٹک سپورٹ اور آپریشنل سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کا وہ معیار ہے جو دنیا کی چند ہی افواج میں دیکھا جاتا ہے۔ اس سانحے کے بعد فوری امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی ادارے کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی نے یہ ظاہر کیا کہ نظام فوری ردعمل کی صلاحیت رکھتا ہے، اگرچہ نقصان کو کم کرنا اس موقع پر ممکن نہ ہوسکا۔ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے اس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ یہ صرف رسمی بیانات نہیں ہوتے بلکہ ایک ایسے ادارے کی جذباتی کیفیت کا اظہار ہوتے ہیں جہاں ہر شہید صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک کہانی اور ایک فرض کی تکمیل ہوتا ہے۔ شہداء کی نمازِ جنازہ مظفرآباد میں ادا کی گئی جس میں قائم مقام صدر و وزیرِاعظم آزاد کشمیر، کور کمانڈر راولپنڈی، اعلیٰ سول و عسکری حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ منظر اس بات کا عکاس تھا کہ قوم اپنے محافظوں کی شہادت کو بھی پورے وقار کے ساتھ یاد رکھتی ہے۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے شہداء کو پیش کی جانے والی سلامی اس عزم کی علامت تھی کہ ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔یہ سانحہ ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ فضا، زمین اور پہاڑوں میں بھی ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ آرمی ایوی ایشن کے پائلٹس اور عملہ ہر روز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر نہ صرف فوجی آپریشنز بلکہ انسانی امداد، ریسکیو مشنز اور مشکل علاقوں میں رسد کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ ان کا کام صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مکمل احتیاط اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود بعض اوقات قدرتی یا تکنیکی عوامل ایسے واقعات کا سبب بن جاتے ہیں جنہیں روکنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے مواقع پر اصل عظمت اس بات میں ہوتی ہے کہ قوم اپنے شہداء کو کس طرح یاد رکھتی ہے اور ان کی قربانیوں کو کس طرح اپنے اجتماعی شعور کا حصہ بناتی ہے۔ شہداء کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیے گئے ہیں جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔ یہ اعزاز صرف رسمی نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہے کہ وطن کے لیے جان دینے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نیلم ویلی کا یہ سانحہ ایک جانب غم کی تصویر ہے تو دوسری جانب حوصلے اور عزم کی علامت بھی ہے۔ یہ حادثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے جوان ہر لمحہ وطن کی حفاظت کے لیے تیار رہتے ہیں اور اس راہ میں اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ قوم پر لازم ہے کہ وہ نہ صرف ان قربانیوں کو یاد رکھے بلکہ ان کے مشن اور جذبے کو اپنی اجتماعی طاقت کا حصہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے اور وطنِ عزیز کو ہر قسم کے حادثات اور آزمائشوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

شذرہ۔۔۔
ایچ آئی وی کا بڑھتا خطرہ، سنگین چیلنج
پاکستان میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک ایسے صحت عامہ کے بحران کی نشان دہی کر رہے ہیں جس پر فوری اور سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں قریباً تین لاکھ 66ہزار افراد ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔ یہ تعداد نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ اس بیماری کے پھیلائو کو روکنے کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ ایچ آئی وی کے پھیلا کی متعدد وجوہ ہیں، تاہم غیر محفوظ اور بار بار استعمال ہونے والی سرنجوں کو اس مسئلے کی بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ بدقسمتی سے ملک کے بعض علاقوں میں طبی اصولوں کی خلاف ورزی اور صحت کے مراکز میں احتیاطی تدابیر کا فقدان اس بیماری کے پھیلا میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر موثر عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں اسکریننگ کے عمل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ بروقت تشخیص ہی بیماری کے پھیلا کو محدود کرنے اور مریضوں کو مناسب علاج فراہم کرنے کا موثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد مجموعی متاثرہ افراد کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑی تعداد اب بھی تشخیص اور علاج کی سہولتوں سے محروم ہے۔ ایچ آئی وی کے حوالے سے معاشرتی رویے بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ لاعلمی، خوف اور سماجی بدنامی کے باعث بہت سے افراد ٹیسٹ کروانے یا علاج حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے عوامی آگاہی مہمات کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اس بیماری کے بارے میں درست معلومات حاصل کرسکیں اور بروقت طبی مدد لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ حکومت کی جانب سے ہیلپ لائن کے قیام کا اعلان ایک خوش آئند اقدام ہے، تاہم اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب احتیاطی تدابیر، آگاہی مہمات، معیاری طبی سہولتوں اور موثر نگرانی کے نظام کو یکجا کیا جائے۔ ایچ آئی وی اب ایک ناقابل علاج بیماری نہیں رہی، مگر اس کے پھیلا کو روکنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ یہی رویہ آنے والی نسلوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button