
جھنگ میں پیش آئے ایشال فاطمہ کیس کو میڈیا اور دیگر حلقوں کی جانب سے ریپ اور قتل کا واقعہ قرار دیا جا رہاے تاہم اب تک سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹ کے بعض اہم نکات نے کیس کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں کسی طرح کی جنسی زیادتی کی جانب اشارہ نہیں کیا گیا۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق معائنے کے دوران متاثرہ لڑکی کے جسم کے نجی اعضا پر کسی قسم کے واضح زخم یا تشدد کے نشانات نہیں پائے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اندام نہانی کی اندرونی دیواریں اور بیرونی اعضا بظاہر صحت مند حالت میں تھے۔ رپورٹ کے مطابق ہائمن (بکارت کی جھلی) مکمل طور پر محفوظ حالت میں نہیں تھی، تاہم طبی ماہرین کے مطابق صرف ہائمن کی حالت کی بنیاد پر جنسی زیادتی کی تصدیق یا تردید نہیں کی جا سکتی۔ مزید تحقیقات کے لیے اندام نہانی سے نمونے حاصل کیے گئے جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھجوایا گیا۔
میڈیکل رپورٹ میں معائنے کے وقت اندام نہانی سے خون آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس خون کے بارے میں کہا گیا ہے کہ شاید یہ حیض کا خون ہے چونکہ ایشال کی فاطمہ نے اس حوالے سے میڈیکل بورڈ کو مطلع کیا تھا۔ دوسری جانب یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ایشال فاطمہ کے پیٹ میں نشہ آوار دوا پائی گئی ہے جبکہ وہ ضیابیطس کی مریضہ تھی پانچ سال سے انسولین لے رہی تھی۔ قانونی اور طبی ماہرین کے مطابق جنسی زیادتی کے مقدمات میں صرف ابتدائی طبی معائنے کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا بلکہ فرانزک، ڈی این اے اور دیگر شواہد کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس لیے کیس کی حتمی نوعیت کا تعین مکمل فرانزک رپورٹ اور تفتیشی عمل کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ضلع جھنگ کے صحافی حضرات بھی اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔
دوسری جانب جھنگ کے صحافی سید عدنان نور نے اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ایشال فاطمہ کے ساتھ جنسی زیادتی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ۔













