آل پارٹیز کانفرنس سے فرار: مسائل کے حل سے انکار یا اشتعال انگیزی کی حکمتِ عملی

آل پارٹیز کانفرنس سے فرار: مسائل کے حل سے انکار یا اشتعال انگیزی کی حکمتِ عملی
تحریر: پروفیسر وسیم آکاش
جمہوریت کی اساس مکالمے، مشاورت اور باہمی احترام پر قائم ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی معاشرہ یا خطہ پیچیدہ سیاسی، قانونی یا آئینی بحرانوں کا شکار ہوتا ہے تو تاریخ گواہ ہے کہ اس کا حل بندوق کی گولی، سڑکوں کی ناکہ بندی یا نعرے بازی میں نہیں بلکہ ہمیشہ میز پر بیٹھ کر مکالمہ کرنے میں ہی مضمر ہوتا ہے۔ حال ہی میں آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس (APC)کا انعقاد ایک ایسا ہی سنجیدہ، جمہوری اور ذمہ دارانہ اقدام تھا، جس کا مقصد محاذ آرائی کی فضا کو ختم کر کے تمام فریقین کو ایک مشترکہ فورم پر لانا تھا۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد بارہ مہاجر نشستوں سمیت ریاست کو درپیش دیگر اہم اور حساس معاملات پر ایک متفقہ اور عوامی مفاد پر مبنی راستہ نکالنا تھا تاکہ کسی بھی قسم کے تصادم سے بچا جا سکے۔
لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس دعوت کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ حکومت اور ریاست کی طرف سے بڑھائے گئے اس سیاسی و جمہوری ہاتھ کو جھٹکنا اس امر کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ دھرنوں، ہڑتالوں اور اشتعال انگیزی کی سیاست کرنے والے عناصر شاید مسائل کا حل چاہتے ہی نہیں ہیں۔ جب ریاست اور حکومت نے بات چیت، مشاورت اور جمہوری راستہ اختیار کرتے ہوئے مسائل کے حل کا دروازہ کھولا تو عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے بھی اسی سیاسی بلوغت اور ذمہ داری کا تقاضا تھا کہ وہ میز پر بیٹھتے، اپنا موقف دلیل کے ساتھ پیش کرتے اور عوامی مفاد میں کوئی درمیانی راہ نکالتے۔ لیکن اس فورم سے فرار اختیار کر کے انہوں نے ثابت کر دیا کہ ان کا مقصد مسائل کا حل نہیں بلکہ محاذ آرائی کو طول دینا ہے۔ ’’ جو مذاکرات کی میز سے بھاگتا ہے، وہ عوامی مفاد کا نہیں بلکہ انتشار کا نمائندہ ہوتا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس حل کا ایک سنہری راستہ تھی مگر اس سے فرار اختیار کرنا ہٹ دھرمی کا واضح اعلان ہے‘‘۔
بارہ مہاجر نشستوں کا معاملہ ہو یا آزاد کشمیر کے دیگر معاشی و انتظامی قوانین، یہ تمام ایسے پیچیدہ معاملات ہیں جن کا تعلق آئین، قانون اور مقننہ سے ہے۔ کوئی بھی باشعور معاشرہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آئینی اور قانونی گتھیوں کو سڑکوں پر پتھرائو، شٹ ڈائون ہڑتالوں یا الٹی میٹم کے ذریعے سلجھایا جائے۔ ایسے مسائل کا پائیدار راستہ صرف اور صرف آئینی، قانونی اور سیاسی مکالمے سے ہی نکلتا ہے۔ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر اپنی سیاسی بصیرت، مکالمے پر یقین اور اجتماعی حل کی سنجیدہ کوشش کا ثبوت دیا۔ اس کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کی موجودگی اس بات کی ضامن تھی کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری ریاست کا متفقہ فیصلہ ہوگا۔ مگر جب ایک فریق اس اجتماعی دانش کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دے، تو یہ تاثر گہرا ہو جاتا ہے کہ وہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے، انہیں اپنے سیاسی دبا اور ذاتی ایجنڈے کا ایندھن بنانا چاہتا ہے۔ یہ خدمت کی سیاست نہیں، بلکہ کشیدگی اور انتشار کی سیاست ہے۔
جمہوری معاشروں میں پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن جب یہ احتجاج ہڑتالوں، سڑکوں کی بندش اور زبردستی کاروبار بند کروانے کی شکل اختیار کر لے تو یہ احتجاج نہیں بلکہ عام شہریوں کے حقوق پر شب خون بن جاتا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی اس ہٹ دھرمی اور کشیدگی کی پالیسی کا سب سے بڑا نقصان کسی حکومت یا وی آئی پی شخصیت کو نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے عام شہریوں، دہاڑی دار مزدوروں، چھوٹے تاجروں، طلبہ اور ہسپتالوں کا رخ کرنے والے مجبور مریضوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب یک طرفہ فیصلوں اور پہیہ جام ہڑتالوں کی وجہ سے مزدور طبقہ روزانہ کی اجرت سے محروم ہو کر فاقہ کشی پر مجبور ہو رہا ہے۔ تاجر برادری مسلسل بندش کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ طلبہ کا مستقبل تعلیمی اداروں کی بندش اور بے یقینی کی وجہ سے دائو پر لگ چکا ہے۔ مریض اور ایمبولینسز سڑکوں کی بندش کے باعث بروقت طبی امداد نہ ملنے سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔
عوامی قیادت کا بنیادی فرض عوام کے مسائل کو حل کرنا اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں مسلسل ذہنی، معاشی اور جسمانی مشکلات کی دلدل میں دھکیلنا۔ ریاست نے مکالمے کا دروازہ کھول کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، مگر دوسری طرف سے محاذ آرائی کا راستہ چنا گیا۔ اب اگر اس ہٹ دھرمی کے نتیجے میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی ہے، کشیدگی بڑھتی ہے یا عام شہری کا معاشی نقصان ہوتا ہے تو اس کی تمام تر سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری براہِ راست عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت پر عائد ہوگی۔ تاریخ کبھی ان عناصر کو معاف نہیں کرتی جو حل سامنے ہونے کے باوجود انتشار کو ترجیح دیتے ہیں۔
حکومت نے اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کر دیا ہے مگر عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بہترین موقع ضائع کر دیا۔ عوام اب سب دیکھ رہے ہیں اور وہ بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ عوام کو حقیقی ریلیف صرف اور صرف پرامن مذاکرات، آئینی اصلاحات اور میز پر بیٹھ کر بات کرنے سے ہی مل سکتا ہے، سڑکوں کی بندش، پہیہ جام اور ہڑتالوں سے نہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ قیادتیں ذاتی انا اور سیاسی دبا کی حکمتِ عملی کو ترک کر کے جمہوری راستے پر لوٹ آئیں کیونکہ کشیدگی کا انجام ہمیشہ نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔





