Column

دو پاگلوں کے ساتھ یرغمال دنیا

دو پاگلوں کے ساتھ یرغمال دنیا
سیدہ عنبرین
ایران پر بلا جواز جنگ تھوپنے، پھر جنگ بندی، کبھی مذاکرات، کبھی وارننگ، کبھی دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کی دھمکیاں، پھر اچانک معاہدہ ہونے کے قریب پہنچنے کی خوشخبری کے حوالے سے بیانات کے سبب امریکی صدر میڈیا پر چھائے رہے، وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سٹاک مارکیٹ سے بھی کھیلتے رہے، ان کے رچائے تمام سوانگ اثر کھو بیٹھے ہیں، کوئی ان کی کسی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں، ایرانی قیادت نے تو انہیں تصدیق شدہ جھوٹا قرار د ے کر ایک سے زائد مرتبہ ان کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کیا۔ امریکی صدر اب ایک نئی فلم کے ساتھ دنیا کے سامنے ایک نیا چہرہ لے کر آئے ہیں، یہ فلم مختلف حوالوں اور مختلف شخصیات نے متعدد مرتبہ دنیا کے سامنے پیش کی، لیکن اسے کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، فلم کا نام ہے ’’ گڈکاپ بیڈ کاپ ‘‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے شاطر سیاستدانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے لئے ’’ گڈ کاپ‘‘ کا کردار منتخب کیا ہے، وہ اس کردار میں دنیا کو متاثر نہ کر پائیں گے، اس کے دو وجوہ ہیں، اول یہ کردار ہمیشہ فلاپ رہا، دوئم امریکی صدر چند ہفتے قبل اپنے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ وہ بہت برے آدمی کے روپ میں سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اس وقت کیا جب وہ آئے دن ایران پر خوفناک حملے کا اعلان کرتے تھے۔ جواب میں ایران کہتا ہم اس حملے کے منتظر ہیں، امریکہ اور اسرائیل کو کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔
ایران کی ثابت قدمی دیکھ کر ٹرمپ کو متعدد مرتبہ اپنے متعدد خوف ناک حملے ملتوی کرنا پڑے، انہوں نے یہ تمام حملے خوف خدا کے تحت ملتوی نہیں کئے، انہیں ان کے جرنیلوں نے ان سے باز رہنے کا مشورہ دیا، اور حملہ کرنے کی صورت میں اس کی سنگین ناکامی کا امکان ظاہر کیا، لیکن امریکی فوج میں بغاوت کے آثار، ہوائی جہازوں کے فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوجانے، طاقتور ترین بحری بیڑے کے طاقتور ترین جہاز میں آگ بھڑک اٹھنے کے واقعات کے علاوہ انہیں ملنے والا ایک ایسا پیغام تھا، جسے دنیا نے زیادہ اہمیت نہیں دی، حالانکہ بحر ہرمز اور آبنائے مندب کے بند کرنے سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار تھا جسے استعمال کرنے کا ایران نے متعدد مرتبہ اعلان کیا، ایران نے اعلان کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل اپنے حملوں سے باز نہ آئے تو ایران اپنی بحری حدود سے گزرنے والی زیر آب کیبل کاٹ دے گا، کسی بھی ملک کا عام آدمی اس نقصان کا اندازہ نہیں کر سکتا کہ یہ کیبل کاٹ دینے سے امریکہ، اس کے اتحادیوں، یا دنیا کو کیا فرق پڑ سکتا ہے، ایران اگر کسی بھی وقت اپنے اس فیصلے پر عمل کر دیتا ہے تو مڈل ایسٹ مکمل طور پر جام ہو جائیگا، نصف ایشیا جمود کا شکار ہو جائے گا۔ مڈل ایسٹ کا رابطہ افریقہ سے ختم اور افریقہ کا رابطہ یورپ سے ختم ہوجائے گا۔ یوں ایک ہی روز میں نصف دنیا میں بینک، ایئر لائنز، آن لائن خرید و فروخت، سٹاک ایکسچینجز، سپر سٹورز کی چین، ہسپتالوں، دفتروں کا نظام، ہوٹل، بزنس، چلتی فیکٹریاں، ڈیم، بجلی گھر غرضیکہ وہ تمام ادارے اور ان کا نظام مفلوج ہوجائے گا جن سے آج زندگی کی روانی قائم ہے، اس ہتھیار کے استعمال اور اس کے نتائج کا شاید امریکی صدر کو ادراک نہ ہوتا، لیکن دنیا بھر کی دس بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے کھرب پتی مالکان سکتے میں آ گئے، پہلے وہ سب اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اس اٹیک کے مضمرات کا اپنے طور پر جائزہ لیا، اور وہ تمام اپنی پہلی ہی اہم میٹنگ میں اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ اگر یہ ہتھیار استعمال ہو گیا تو ان کی کئی سو ٹریلین ڈالر کی بنائی گئی ایمپائر دھڑام سے زمین پر آن گرے گی۔ چوبیس گھنٹے میں اس بندش کا نقصان کا اندازہ لگایا گیا تو ان کمپنی مالکان کے ہوش اڑ گئے، انہوں نے چشم تصور سے دیکھا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی سے ککھ پتی بن کر سڑک کے کنارے پہنچنے والے ہیں، جہاں پھر سے مدد مانگتے اور ایک وقت کے کھانے کو ترستے بھکاریوں اور ان میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ دنیا کی دس بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے مالکان میں سے ہر ایک کی پیشانی پسینے سے تر تھی، انہوں نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے پہلی فرصت میں امریکی صدر سے ملاقات کا وقت مانگا، امریکی صدر نے جب دیکھا کہ امریکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی انڈسٹری کے مالکان ان سے عجلت میں ملنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اپنی متعدد اہم ملاقاتیں منسوخ کر کے ان کمپنیوں کے مالکان کو ملاقات کے لیے بلا لیا، جنہوں نے امریکی صدر کو اس خطرے سے آگاہ کیا۔
جس کے بارے میں ٹرمپ کو کوئی واضح اندازہ نہ تھا۔ امریکی صدر کو بتایا گیا کہ ایران کے اس فیصلے سے دنیا کا نظام تو چلتا چلتا رک جائے گا لیکن گنتی کے چند دنوں میں امریکہ جیسی بڑی اقتصادی طاقت فقیر ملکوں کی فہرست میں آ کھڑی ہوگی۔ جس کے بعد چین اور روس اسے با آسانی نگل جائیں گے۔ یہ پہلی عقل کی بات تھی جو ڈونلڈ ٹرمپ کی سمجھ دانی میں آئی، اس لئے نہیں کہ وہ بہت باشعور ہیں، بلکہ اس لئے کہ وہ بذات خود ایک بہت بڑی بزنس ایمپائر کے مالک ہیں۔ انہوں نے بھی اندازہ کر لیا کہ نا صرف وہ ککھ پتی ہو سکتے ہیں، بلکہ ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو سکتا ہے، وہ اپنی بیٹی کو اپنے بعد امریکہ کا صدر دیکھنا چاہتے ہیں، ان کا یہ خواب بھی چکنا چور ہو سکتا ہے۔ صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اپنے متعدد حملوں کے فیصلے بدلے، اور جنگ سے نکلنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنے آپ کو ہر طرف سے مسائل میں گھیرا پایا تو انہوں نے جنگ کا الزام اپنے وزیروں، مشیروں پر ڈالنا شروع کیا اور اپنے لئے گڈ کاپ کے کردار کا انتخاب کیا۔ آج وہ اپنے دیرینہ دوست اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ہر برے کام کا ذمہ دار قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے دیدہ دانستہ اپنی اور نیتن یاہو کی فون کالز اور گفتگو لیک کرائی تاکہ دنیا کو یقین دلا سکیں کہ گڈ کاپ، بیڈ کاپ کو جنگ اور جارحیت ختم کرنے کیلئے کتنا دبائو ڈال رہا ہے۔ اسے کتنی گالیاں دے رہا ہے اور بیڈ کاپ کس قدر بے حس انسان ہے، جو اس کی کسی مثبت بات کا کوئی ڈھنگ کا جواب نہیں دے رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران پر دو ایٹمی حملوں کی جب حکمت عملی جب طے کی جا رہی تھیں تو ٹرمپ کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ چند روز میں فتح حاصل کریں گے، اور جنگ میں خلیجی و عرب ملکوں کو کھینچ لائیں گے، پھر امریکہ اور اس کے حلیف سب کو اپنا اسلحہ فروخت کرکے رہیں گے۔ ان کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے۔ اب امریکی صدر اسرائیلی وزیراعظم کو پاگل قرار دے کر دنیا کے سامنے گڈ کاپ پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا اس وقت صرف ایک پاگل کے ہاتھ نہیں، بلکہ دو پاگلوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہے۔ دونوں پاگل ایک دوسرے کے بہترین رفیق ہیں، دونوں کا انجام عبرتناک ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button