Column

حکومتی ترجیحات کا تضاد

حکومتی ترجیحات کا تضاد

تحریر: رفیع صحرائی

وفاقی بجٹ 27۔2026سے قبل بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ( بی آئی ایس پی) کی رقم میں اضافے کی خبریں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے حکومتِ پاکستان کو تجویز دی ہے کہ کفالت پروگرام کے تحت سہ ماہی امداد 14ہزار 500روپے سے بڑھا کر 20ہزار روپے کی جائے تاکہ مہنگائی کے ہاتھوں پسے ہوئے غریب خاندانوں کو کچھ سہارا دیا جا سکے۔ بظاہر یہ ایک فلاحی قدم دکھائی دیتا ہے مگر اس کے پس منظر میں کئی تلخ سوالات بھی کھڑے ہو رہے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ پاکستان میں مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ آٹا، گھی، چینی، بجلی، گیس اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات عام شہری کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں اگر آئی ایم ایف خود حکومت کو یہ مشورہ دے رہا ہے کہ بی آئی ایس پی کی امدادی رقم میں قریباً 38فیصد اضافہ کیا جائے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کو بھی پاکستان میں عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی دبا کا پوری طرح ادراک ہو چکا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا یہ ادراک صرف ان لوگوں تک محدود ہے جو حکومتی امداد پر زندہ ہیں؟

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ رواں سال بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اتنی بڑی تعداد کو مسلسل نقد امداد دینا پہلے ہی قومی خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ رقوم ٹیکس دہندگان کی جیب سے ادا کی جاتی ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ کمزور طبقات کو سہارا دے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی معیشت مستقل خیرات پر نہیں بلکہ پیداواری قوت پر کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک ریاست میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں امداد لینے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جائے تو یہ صورتِ حال معاشی طور پر خطرناک ہو سکتی ہے۔

یہاں سب سے اہم سوال حکومتی ترجیحات کا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو برسہا برس سے سرکاری اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین کی تعداد قریباً 45سے 50لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ یہی لوگ حکومتی مشینری کے پہیے کو چلائے ہوئے ہیں۔ یہی اساتذہ، کلرک، پولیس اہلکار، نرسیں، ڈرائیور، انجینئر اور دیگر ملازمین ریاستی نظام کو فعال رکھتے ہیں۔ مگر جب یہ ملازمین اپنی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں تو حکومت فوراً یہ جواز پیش کرتی ہے کہ آئی ایم ایف اجازت نہیں دیتا، مالی گنجائش موجود نہیں اور کفایت شعاری ناگزیر ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جس آئی ایم ایف کا نام لے کر فعال ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ روک دیا جاتا ہے، وہی آئی ایم ایف بی آئی ایس پی میں نمایاں اضافے کی سفارش بھی کر رہا ہے۔ اگر غریب خاندانوں کیلئے امداد میں 38فیصد اضافہ ممکن ہے تو پھر ان لوگوں کی اجرت میں خاطر خواہ اضافہ کیوں ناممکن بنا دیا گیا ہے جو عملی طور پر ریاستی نظام کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں؟ کیا کام کرنے والے طبقے کی مشکلات کم ہیں؟ کیا مہنگائی صرف امداد لینے والوں کو متاثر کر رہی ہے؟ سرکاری ملازمین بھی اسی بازار سے آٹا، چینی، بجلی اور ادویات خریدتے ہیں۔ ان کے گھروں کے اخراجات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔

یہ تاثر روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت اپنی کمزور معاشی پالیسیوں اور نااہلی کا سارا ملبہ آئی ایم ایف پر ڈال دیتی ہے جبکہ حقیقت شاید اس سے مختلف ہے۔ اگر حکومت واقعی چاہے تو قومی ترجیحات کو متوازن بنا سکتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک طرف خیراتی معیشت کو وسعت دی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف محنت کش اور تنخواہ دار طبقہ مسلسل دبا کا شکار ہے۔ اس پالیسی کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے معاشرے میں کام کرنے کی حوصلہ شکنی اور ریاستی امداد پر انحصار کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بی آئی ایس پی جیسے پروگرام وقتی ریلیف کیلئے ضروری ہیں مگر مستقل حل نہیں۔ کسی قوم کو ترقی دینی ہو تو اسے امداد لینے والوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے روزگار پیدا کرنا پڑتا ہے۔ فنی تربیت، صنعت کاری، چھوٹے کاروبار، زرعی اصلاحات اور پیداواری شعبوں کی بحالی ہی اصل راستہ ہیں۔ یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ بی آئی ایس پی کے مستحقین کی تعداد میں ہر سال تسلسل سے اضافہ ہو رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے معیشت کو پیداواری بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے امدادی پالیسیوں کے سہارے کھڑا کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ایک کروڑ دس لاکھ خاندان غربت کی لکیر کے نیچے جا رہے ہیں تو یہ صرف فلاحی پروگراموں کی کامیابی نہیں بلکہ معاشی ناکامی کا بھی ثبوت ہے۔ ریاست کا اصل ہدف لوگوں کو امداد کا عادی بنانا نہیں بلکہ انہیں اپنے پاں پر کھڑا کرنا ہونا چاہیے۔

آنے والے بجٹ میں حکومت کیلئے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ محض خیراتی اعداد و شمار بڑھانے کے بجائے محنت کش اور تنخواہ دار طبقے کو بھی حقیقی ریلیف دے۔ اگر بی آئی ایس پی میں 38فیصد اضافہ ممکن ہے تو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی 70سے 80فیصد تک اضافے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے تاکہ مہنگائی کے بے رحم طوفان میں ان کی قوتِ خرید مکمل طور پر تباہ نہ ہو۔

پاکستان کو اس وقت خیرات پر چلنے والی نہیں بلکہ محنت، پیداوار اور انصاف پر قائم معیشت کی ضرورت ہے۔ جب تک ریاست کام کرنے والوں اور امداد لینے والوں کے درمیان توازن پیدا نہیں کرے گی، تب تک معاشی استحکام صرف ایک خواب ہی رہے گا۔

جواب دیں

Back to top button