CM RizwanColumn

صوبوں اور جماعتوں کا تقابل؟ 

جگائے گا کون؟

صوبوں اور جماعتوں کا تقابل؟

تحریر : سی ایم رضوان

پاکستان شاید دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جس کے تمام سیاستدانوں کا ایمان ہے کہ اس ملک کے اکثریتی عوام اندھے، احمق اور اپنے جمہوری، عوامی حقوق سے مکمل طور پر نابلد اور لاعلم ہیں۔ اسی بنا پر وہ ہر الیکشن کمپین میں اور حکومت میں آ کر بھی ہر قسم کی بددیانتی اور عوام سے بدعہدی بھی جاری رکھتے ہیں اور اپنی تقریروں میں بے تکے دلائل اور تقابل بھی پیش کرتے رہتے ہیں، جیسا کہ ان دنوں گلگت، بلتستان میں الیکشن مہم میں ہو رہا ہے جس میں گزشتہ روز ملکی سیاست کے گندے اور گدلے کھڑے پانی میں سب سے پہلے کنکر پھینکتے ہوئے ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے صوبوں کی کارکردگی کا تقابل پیش کر دیا۔ ان کے خیالات کی روشنی میں پاکستانی سیاست کے عمومی مزاج کے مطابق، دونوں زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے اور اسے نہ تو مکمل طور پر حقیقت پر مبنی موازنہ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی محض ایک بے مقصد سیاسی سٹنٹ۔ اس بحث کو سمجھنے کے لئے دونوں مثبت اور منفی پہلوئوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سیاسی موقف اور موازنے کا پس منظر یہ ہے کہ مسلم لیگ ( ن) کے رہنما عام طور پر اپنے جلسوں میں پنجاب ( بالخصوص شہباز شریف کے ادوارِ حکومت) کی کارکردگی اور وہاں کے ترقیاتی منصوبوں ( جیسے میٹرو بس، اورنج لائن، اور ہسپتالوں کے نیٹ ورک) کو ایک ماڈل ورک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مذکورہ تقریر میں بھی ان کا بنیادی مقصد غالباً اپنی پارٹی کے گورننس ماڈل کو دیگر جماعتوں ( جیسے تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا یا پیپلز پارٹی کے سندھ ماڈل) سے برتر ثابت کرنا تھا۔ یہ موازنہ اگر کارکردگی کے کچھ ٹھوس اشاریوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسلم لیگ ( ن) کے حامی ان دلائل کو درست بیان کرتے ہیں کہ پنجاب میں سڑکوں کے نیٹ ورک، دانش اسکولز، اور پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ واضح اور منظم رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی اور معاشی عدم تحفظ کے موجودہ ماحول میں یہ نیٹ ورک عوام کے کسی کام کے نہیں البتہ حکمرانوں کے لئے ان سے ملنے والے پوشیدہ فوائد کافی ہیں۔ چونکہ پنجاب کا رقبہ اور آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں ترقیاتی بجٹ کا حجم بڑا ہوتا ہے، جس سے بڑے منصوبے بنانا اور تقریروں میں بڑا کر کے بتانا مزید آسان ہو جاتا ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر مخالفین اور غیر جانبدار تجزیہ کار اس قسم کے تقابل کو محض انتخابی یا سیاسی سٹنٹ قرار دیتے ہیں، کیونکہ پنجاب کے وسائل، آبادی اور ٹیکس ریونیو کا موازنہ خیبر پختونخوا، بلوچستان یا گلگت بلتستان جیسے پہاڑی اور پسماندہ علاقوں سے کرنا منطقی طور پر درست نہیں ہے۔ کیونکہ ہر علاقے کے چیلنجز الگ ہیں۔ ہونہار ن لیگی قائد خواجہ سعد رفیق کی گلگت بلتستان میں مذکورہ تقریر کا مقصد بھی محض وہاں کے مقامی ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنا اور یہ تاثر دینا ہی ہے کہ اگر مسلم لیگ ( ن) کو موقع ملا تو وہ یہاں بھی پنجاب کی طرز پر ترقی لائے گی لیکن یہ ایک خالصتاً سیاسی بیانیہ تو ہو سکتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک خواب ہے جو کہ گلگت بلتستان کے ووٹرز کو دکھایا جا رہا ہے ورنہ اگر کل کلاں کو ن لیگ کو وہاں حکومت مل بھی جائے اور وہاں بھی پنجاب لیول ترقی ہو جائے تو وہاں کے لوگوں کا مقدر بھی وہی رونا دھونا ہو گا جو کہ اس وقت پنجاب حکومت کی مثالی کارکردگی کے باوجود پنجابیوں کا بنا ہوا ہے۔ القصہ ایسے سہانے خواب دکھانے کا مقصد ان سیاستدانوں کا اپنی خامیوں کو چھپانا ہی ہوتا ہے۔ اس طرح کے تقابل میں اکثر اپنے صوبے کی خامیوں ( مثلاً پنجاب میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی اندرونی خرابیوں یا بڑھتے ہوئے قرضوں) کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یعنی خواجہ سعد رفیق کا بیان ایک سیاسی بیانیہ ہے جس میں اپنی جماعت کی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں پنجاب کی ماضی کی ترقی کی حد تک کچھ سچائی ضرور موجود ہے، لیکن دیگر صوبوں کے زمینی حقائق اور وسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا جانے والا یہ موازنہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ایک روایتی کوشش ہی دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب کی بہتر کارکردگی یا مڈل کلاس گورننس کے اثرات کو محض ’’ مرکز میں چاچو کی حکومت‘‘ ( یعنی وفاق اور صوبے میں ایک ہی پارٹی یا میاں برادران کی ہم آہنگی) سے جوڑنا تصویر کا ایک واضح رخ ہے۔ بلاشبہ جب وفاق اور کسی صوبے میں ایک ہی سیاسی قیادت ہو تو فنڈز کا حصول، این ایف سی کے معاملات اور بڑے منصوبوں کی منظوری بہت آسان ہو جاتی ہے، جس سے ظاہر ہے اس صوبہ کی حالت دوسرے کم فنڈز یافتہ اور نسبتاً محروم صوبوں سے بہتر ہو گی جو کہ ایک طرف کریڈٹ اور ایک سمت ناانصافی دونوں ہی تسلیم کرنا پڑیں گے۔

گلگت بلتستان میں لگے اس انتخابی میدان میں ہی بلاول بھٹو زرداری کی بڑھکیں بھی توجہ طلب ہیں۔ یہاں ایک انتخابی جلسے میں ان کا یہ بیان کہ ’’ پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے، باقی تمام جماعتیں پاور پلانٹ کی تیار کردہ ہیں‘‘۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک تلخ بحث کی عکاسی کرتا ہے۔ گو کہ پیپلز پارٹی کے حامی اس نظریے کو تاریخی حقیقت مانتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے سیاسی مبالغہ آرائی اور تصویر کا صرف ایک ہی رخ قرار دیتے ہیں۔ اس بیانیے کو سمجھنے کے لئے دونوں پہلوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس دعوے کے پیچھے کچھ تاریخی حقائق بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے وہ خود کو دیگر جماعتوں سے مختلف پیش کرتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد 1967ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی۔ یہ کسی فوجی چھتری تلے نہیں، بلکہ ایوب خان کی آمریت کے خلاف ایک مضبوط عوامی اور بائیں بازو کی نظریاتی تحریک کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ بعد ازاں بھی پی پی پی نے ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں طویل جمہوری و سیاسی جدوجہد کی، کوڑے کھائے اور اپنی اعلیٰ ترین قیادت کی قربانیاں دیں ( جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کی شہادت)۔ اس لئے وہ خود کو ’’ جمہوریت کی علامت‘‘ کہتے ہیں اور لوگ بھی اس حد تو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس تقابل کے پیش نظر پیپلز پارٹی کو ایک انقلابی بلاول بھٹو کا تازہ اشارہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اسی تاریک پہلو کی طرف ہے جہاں مقتدر حلقوں نے سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے جماعتیں بنائیں۔ جیسے کہ میاں نواز شریف نے اپنی سیاست کا آغاز جنرل ضیاء الحق کے دور میں کیا، اور مسلم لیگ ( ن) کو ابتدائی طور پر پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لئے ایک دائیں بازو کے اتحاد آئی جے آئی کی شکل میں مقتدرہ کی حمایت حاصل رہی۔ اسی طرح مسلم لیگ ( ق) پرویز مشرف کے دور میں بنی، اور اسی طرح حالیہ برسوں میں استحکامِ پاکستان پارٹی یا پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز جیسی جماعتوں کا اچانک بننا اسی ’’ انجینئرنگ‘‘ کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔ بعض غیر جانبدار سیاسی تجزیہ کار اور مخالفین بلاول بھٹو کے اس بیان کو مکمل سچ نہیں مانتے ان کا اصولی موقف ہے کہ خود پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاست کا آغاز جنرل ایوب خان کی کابینہ سے کیا تھا، جنہیں وہ محبت سے ’’ ڈیڈی‘‘ بھی کہا کرتے تھے۔ وہ ایوب خان کے دور میں وزیر خارجہ رہے، یعنی ان کی سیاسی تربیت کا آغاز بھی ایک آمر کے زیرِ سایہ ہوا۔ پیپلز پارٹی پر یہ بھی الزام ہے کہ اقتدار میں آنے یا برقرار رہنے کے لئے اس نے ہمیشہ مقتدرہ کے ساتھ سمجھوتے کیے۔ حالیہ چند برسوں کی سیاست ( جیسے پی ڈی ایم کا دور یا موجودہ مخلوط حکومت) کو بھی مخالفین اسی مصلحت پسندی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو جماعت خود کو خالص جمہوری کہتی ہے، وہاں اس کے اپنے اندر قیادت کا انتخاب جمہوری عمل کے بجائے ’’ وصیت‘‘ اور ’’ خاندانی وراثت‘‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دیگر جماعتوں پر انگلی اٹھانے کا اخلاقی جواز کھو دیتی ہے۔ لہٰذا بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی ایک عوامی تحریک سے نکلی، تاریخی طور پر درست ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کی کئی جماعتیں مقتدرہ کی نرسریوں میں پروان چڑھیں۔ لیکن آج کی سیاست میں کارکردگی، موروثیت اور مصلحت پسندی کے ترازو پر تمام بڑی جماعتیں تقریباً ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں جمہوریت کے فروغ کے لئے جہدوجہد اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے کوئی بھی ایک جماعت مکمل طور پر مثالی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ( ن) اور پاکستان تحریک انصاف، تینوں کی اپنی اپنی طاقتیں اور خامیاں ہیں، اور یہ فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس پیمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر ملکی سیاسی جماعتوں کا موازنہ ان کی تاریخ اور آئینی اصلاحات کی بنیاد پر کیا جانے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان کو 1973ء کا متفقہ آئین دینا اور 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانا پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا جمہوری کارنامہ ہے۔ آمریت کے خلاف طویل ترین جدوجہد اور قیادت کی قربانیاں بھی بڑا کریڈٹ ہیں مگر موروثی سیاست اس جماعت کے اندرونی ڈھانچے میں حقیقی جمہوریت کا فقدان ظاہر کرتی ہے۔ اگر نواز شریف کی بات کریں تو انہوں نے اپنے آخری دور میں ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کے ذریعے سویلین بالادستی کا ایک مضبوط بیانیہ قائم کیا لیکن بعد ازاں ایک سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے بعد اب یہ جماعت اپنا وہ بیانیہ بھی بھلا بیٹھی ہے۔ ایک اور پہلو سے دیکھیں تو پیپلز پارٹی کی طرح ن لیگ بھی موروثی ہے، جہاں اہم ترین فیصلے اور عہدے صرف شریف خاندان تک محدود رہتے ہیں۔ اسی طرح اگر پی ٹی آئی کی بات کریں تو مڈل کلاس اور نوجوانوں کو سیاست میں متحرک کرنے اور روایتی خاندانی سیاست کو بظاہر چیلنج کرنے والی اس جماعت کی ابتدائی نرسری بھی مقتدرہ ہے۔ پھر 2018ء میں اقتدار میں آنے کے لئے بھی مقتدرہ کی مبینہ حمایت حاصل کرنا اور اقتدار میں آ کر وہی لوٹ مار کرنا جو دوسری دونوں بڑی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں اسے بھی روایتی سیاسی جماعت ثابت کرنے والے تصدیق شدہ حقائق ہیں۔ ان حالات میں ان تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاسی جمہوری اور حکومتی کارکردگی اور صوبوں کے مابین معاشی اور انتظامی حالت کا تقابل جھوٹ کا سہارا لئے بغیر بے سود ہے۔

جواب دیں

Back to top button