Column

آگہی سے اقدام تک 

آگہی سے اقدام تک

تحریر : محمد محسن اقبال

تاریخ اپنے دامن میں اس اٹل حقیقت کی بے شمار گواہیاں سمیٹے ہوئے ہے کہ کوئی بھی دشمن، خواہ وہ جھنڈے لہراتا ہوا کھلے میدان میں صف آراء ہو یا فریب اور سازش کی تاریکیوں میں چھپ کر وار کرے، اس وقت تک شکست نہیں کھا سکتا جب تک ریاست کے ہر ستون کی مکمل، متحد اور ہم آہنگ حمایت حاصل نہ ہو۔ اگر ایک بھی ستون کمزور پڑ جائے یا اپنی قوت روک لے تو فتح کی عظیم عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے۔ 1948ء کی مقدس جدوجہد سے لے کر 2025ء کے موجودہ حالات تک، جب بھی پاکستان پر دشمن نے میلی نگاہ ڈالی، اُسے ہمیشہ ایک بھرپور، جرات مندانہ اور منہ توڑ جواب ملا۔ مگر یہ فتوحات محض عسکری طاقت کا ثمر نہ تھیں؛ ان کی اصل بنیاد عوام کی ناقابلِ شکست یکجہتی تھی۔ عوامی عزم و اتحاد کے بغیر کسی آزمائش کے مقابل پائیدار کامیابی کا تصور بھی ممکن نہیں۔

ہمارا سب سے بڑا دشمن بارہا اپنی عیاری اور بزدلی کا ثبوت دے چکا ہے۔ بھارت، جو کھلی اور باوقار جنگ میں ذلت آمیز شکست کا مزہ چکھنے پر مجبور ہوا، اب پراکسی جنگوں اور خفیہ سازشوں کے اندھیروں میں پناہ لیتا ہے۔ کبھی افغان سرزمین کو استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی بلوچستان کے سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کر کے پاکستان، اس کی بہادر افواج اور معصوم شہریوں کے خلاف آلہ کار بنایا جاتا ہے۔ یہ کارروائیاں بہادر سپاہیوں کا شیوہ نہیں بلکہ اُن لوگوں کی چالیں ہیں جو براہِ راست مقابلے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ پاکستان کے عوام، خواہ وہ کسی بھی صوبے یا طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، اب اس دھوکے کے پردے کو چاک کر چکے ہیں۔ وہ ان عناصر کو وطن کے حقیقی دشمن اور ایسے غدار سمجھنے لگے ہیں جو بیرونی سرپرستی کے عوض قوم کے مستقبل کا سودا کرنے پر آمادہ ہیں۔ وہ آوازیں جو کبھی عوام اور افواجِ پاکستان کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھیں، اب بے نقاب ہو چکی ہیں۔ پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپاہی، افسران اور اہلکار ہمارے اپنے جسم و جاں کا حصہ ہیں، یہ اسی مٹی کے بیٹے، بھائی اور باپ ہیں، کسی بیرونی طاقت کے نمائندے نہیں۔ جب وہ دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہادت پاتے ہیں تو درحقیقت پاکستان کا دل لہولہان ہوتا ہے۔ اس شعور نے پراپیگنڈے کے تمام پردے چاک کر دئیے ہیں، اور عوامی احساسات خاموش غم سے نکل کر کھلی مزاحمت کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

اس بیداری میں خیبر پختونخوا کے عوام نے استقامت اور جرات کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ برسوں سے دہشت گردی کا بوجھ اٹھانے والے یہ لوگ اب خاموش رہنے کو تیار نہیں۔ کوہاٹ روڈ سے لے کر تاریخی سرزمینِ باڑہ تک، خیبر ایجنسی سے پشاور کی گلیوں تک، عام شہری ہاتھوں میں چاک تھامے دیواروں پر اپنے جذبات رقم کر رہے ہیں۔ یہ کسی منظم مہم کے نعرے نہیں بلکہ عوام کے دلوں کی آواز ہیں۔ وہ فتنہ الخوارج کی دہشت گرد سوچ کو مکمل طور پر مسترد کر رہے ہیں، ایسی گمراہ فکر جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر درندگی کو تقدس کا رنگ دینے کی کوشش کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: ’’ اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے جو فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں‘‘ ( سورۃ النساء، 4:75)۔

یہ الٰہی پیغام آج بھی پوری قوت سے اہلِ ایمان کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور بے گناہوں کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔ رسولِ اکرمؐ نے ایسے فتنہ پرداز گروہوں کے بارے میں خبردار فرمایا تھا کہ وہ قرآن بڑی خوش الحانی سے پڑھیں گے مگر ان کے اعمال گمراہی پر مبنی ہوں گے، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جو لوگ ان کی خلاف کھڑے ہوں گے وہ خوش نصیب ہیں، کیونکہ یہ مخلوق میں بدترین لوگ ہیں۔ ایک اور مبارک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا: ’’ اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم‘‘۔ صحابہؓ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی کیسے کریں؟‘‘، آپؐ نے فرمایا: اسے ظلم سے روک کر‘‘۔

یہی وہ ابدی تعلیمات ہیں جو آج قوم کی رہنمائی کر رہی ہیں کہ ایمان کا تقاضا ظلم کو روکنا ہے، نہ کہ اسے سہارا دینا۔

عوامی غیظ و غضب اب ان خون آشام عناصر کے خلاف پوری شدت سے بھڑک اٹھا ہے۔ دہشت گردی کی وارداتوں کے ماسٹر مائنڈ آج معصوم انسانوں کے قاتل کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، جن کے ہاتھ سکیورٹی اہلکاروں، پولیس جوانوں، جید علما اور بے شمار شہریوں کے مقدس خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد اب تک چورانوے ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانیں لے چکے ہیں۔ یہ عظیم قربانیاں قوم کے عزم کو مزید فولادی بنا رہی ہیں۔ جب عام لوگ خود دیواروں پر دہشت گردی کے خلاف اپنے جذبات رقم کرتے ہیں تو یہ ایک گہری اور ناقابلِ واپسی تبدیلی کا اعلان ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے غیرت مند عوام اب کھل کر امن، قومی یکجہتی اور ریاستی استحکام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کی اجتماعی آواز یہ اعلان کر رہی ہے کہ دہشت گردی اور خوارج کی فکر کے لیے اس پاک سرزمین پر کوئی جگہ نہیں۔ تاہم یہ مقدس جدوجہد کسی ایک خطے یا ادارے تک محدود نہیں رہ سکتی۔ منبر و محراب سے لے کر جامعات تک، اہلِ قلم سے لے کر شعراء تک، سیاسی قیادت سے لے کر ذرائع ابلاغ تک، ہر مکتبہ فکر کو اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر موثر آواز اور ہر پلیٹ فارم کو قومی وحدت کے پیغام کو مضبوط کرنا، دشمن کی سازشوں کو بے نقاب کرنا اور امن و حب الوطنی پر مبنی اجتماعی شعور کو فروغ دینا ہوگا۔یہ مناظر وقتی نہیں بلکہ ایک قوم کے بالغ ہوتی ہوئے شعور کی دائمی علامت ہیں۔ دشمن چاہے دور بیٹھ کر وار کرے یا اپنے پراکسیوں کے ذریعے سازشیں رچائے، اب اسے ایک ایسی قوم کا سامنا ہے جو مقصد اور عزم میں متحد ہو چکی ہے۔ ایمان، خودمختاری اور قومی وقار کے پرچم تلے متحد پاکستان اپنی قوت نہ صرف الٰہی رہنمائی سے حاصل کرتا ہے بلکہ اپنی زندہ اور ثابت قدم روح سے بھی۔ تاریخ، جس نے آزمائشوں کے بے شمار باب رقم کیے، اب ایک نئے اور امید افزا باب کو قلم بند کر رہی ہے، ایسا باب جو صرف میدانِ جنگ کے سپاہیوں نے نہیں بلکہ ایک بیدار قوم کے اجتماعی شعور نے تحریر کیا ہے۔ ایک ایسی قوم جو اپنی آنے والی نسلوں کو خوف سے پاک، محفوظ، خوشحال اور مستحکم وطن دینا چاہتی ہے۔ یہی اجتماعی اتحاد فتح کی سب سے بڑی ضمانت ہے، کیونکہ جب قوم ایک جسم اور ایک جان بن جائے تو نہ بیرونی سازش کامیاب ہو سکتی ہے اور نہ اندرونی غداری۔

جواب دیں

Back to top button