CM RizwanColumn

مہنگائی، کام بے ضمیروں کے  

مہنگائی، کام بے ضمیروں کے

تحریر : سی ایم رضوان

امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمٰن نے موجودہ حکومتی معاشی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پٹرولیم لیوی کی مد میں اربوں روپے اکٹھے کرنے کے اقدام کو عوام دشمنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جعلی مسلط کردہ حکومت نے عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے انہوں نے کہا کہ عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنا بند کیا جائے۔ انہوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں 425ارب روپے طلب کیے ہیں جس کا سارا بوجھ طلبا اور مڈل کلاس پر پڑ رہا ہے۔ حکمران طبقے کے شاہانہ طرزِ زندگی اور سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کو بھی انہوں نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنجاب میں غذائی قلت کے شکار بچوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود حکومتی سطح پر مبینہ مہنگے طیاروں کی خریداری کیا پیغام دیتی ہے۔ سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا اس صوبہ میں نام بینظیر کا ہے جبکہ کام بے ضمیروں کے ہو رہے ہیں جس کا سندھ حکومت کی ترجمان اور رہنما سعدیہ جاوید جو کہ اکثر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کے بیانات اور تنقید پر کڑے اور ’’ کرارے‘‘ جوابی وار کرتی رہی ہیں، نے حافظ نعیم پر تازہ تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تعصب میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بارشوں اور اربن فلڈنگ کو ’’ قدرتی آفت‘‘ قرار دیتے ہیں، جبکہ سندھ میں ہونے والی بارشوں کو انتظامیہ کی ناکامی کا نام دیتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے کراچی کے مسائل اور بلدیاتی حکومتوں پر اٹھائے گئے اعتراضات پر سعدیہ جاوید نے کہا کہ وہ کراچی کی بجائے اپنے آبائی صوبے ( پنجاب) میں جائیں اور وہاں جا کر بلدیاتی انتخابات کروانے کا مطالبہ کریں۔ یہ بھی واضح کیا کہ حافظ نعیم دراصل میئر کراچی کے خلاف نہیں، بلکہ وہ شہر کی ترقی اور خوشحالی کی مخالفت کی سیاست کر رہے ہیں۔

ظاہر ہے جب حکومت کی جانب سے ظالمانہ اقدامات اُٹھائے جائیں گے تو حکومتی حمایتی بیشک خاموش رہیں مگر اس کے مخالفین تو ضرور اس حوالے سے تنقید کریں گے۔ جو کہ امیر جماعت اسلامی نے کی ہے جو کہ بالکل درست ہے کہ پاکستان کے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر ہی ان کو معاشی طور پر کچلنے جیسے حالیہ حکومتی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کی ظالمانہ اور ملک دشمن پالیسیوں کا اندازہ پاکستان کے سرکاری ریکارڈ اور مالیاتی رپورٹس کے مطابق یہ ہے کہ پچھلے دو سالوں ( اپریل 2024سے مارچ 2026کے عرصے) میں پٹرولیم لیوی اور بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکسوں کی مد میں اکٹھی کی گئی رقوم کی تفصیلات عام پاکستانی کے لئے کافی حد تک پریشان کن ہیں۔ حکومت نے پچھلے دو سالوں کے دوران شہریوں سے پٹرول اور ڈیزل پر لیوی کی مد میں ریکارڈ اضافہ کرتے ہوئے 2725ارب روپے ( یعنی 2.72ہزار ارب روپے) جمع کیے ہیں۔ یہ رقم پاکستان کے موجودہ آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت ملنے والے قرضوں کی مجموعی مالیت ( قریباً 2340ارب روپے) سے بھی زیادہ ہے۔ صرف مالیاتی سال 2024۔25میں 1220ارب روپے جمع کیے گئے تھے، جبکہ رواں مالیاتی سال کے پہلے 9مہینوں ( جولائی 2025ء سے مارچ 2026ء ) میں ہی یہ وصولی 1205ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ بجلی کے بلوں کی مد میں ٹیکسوں کی مد میں عوام سے وصول کیے جانے والے صرف ٹیکسوں اور سرچارجز جو کہ بجلی کی قیمت کے علاوہ ہوتے ہیں کا حجم بھی پچھلے دو سالوں میں تیزی سے بڑھا ہے۔ مالیاتی سال 2023۔24میں بلوں کے ذریعے 698ارب روپے کے ٹیکس وصول کیے گئے۔ اس کے بعد کے مالیاتی سال میں یہ وصولی 700ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ اگر پچھلے تین سالوں کا مجموعی ریکارڈ دیکھا جائے، تو بجلی کے صارفین صرف ٹیکسوں کی مد میں 1900ارب روپے (1.9ہزار ارب) ادا کر چکے ہیں، جس میں سب سے زیادہ ٹیکس لیسکو یعنی لاہور کے صارفین نے جمع کروایا۔ بجلی کے بلوں کے کل ریونیو ( بشمول بجلی کی قیمت) یعنی کیپیسٹی پیمنٹس اور ٹیکسز کا مجموعی بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہے، واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے جمع کیے جانے والے خالص ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی کے یہ اعداد و شمار براہِ راست وفاقی دستاویزات پر مبنی ہیں۔

پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال اس قدر خراب ہے کہ اگر آج سے ہی اس کی درستی کے اقدامات شروع کر دیئے جائیں تو صورتحال تسلی بخش ہونے میں دس برس لگے گے۔ دوسرا اس حوالے سے کھلی حقیقت یہ ہے کہ مک کو اس صورتحال سے دوچار کرنے میں جتنا بھی نقصان دہ اور برا کردار ہے وہ اس کے ماضی اور حال کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے ادا کیا ہے البتہ حالیہ عرصے میں سخت معاشی فیصلوں اور اصلاحات کی بدولت میکرو اکنامک سطح پر کچھ استحکام دیکھا گیا ہے لیکن عام آدمی کی سطح پر ریلیف ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ خاص طور پر عام پاکستانی اس مہنگائی کے سبب زندگی کی مشکلات کا سب سے زیادہ شکار ہو کر مایوسی کے اندھے کنویں میں میں ڈوب چکا ہے۔ اس وقت ملک کی میکرو اکنامک صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے تھوڑا پیچھے جائیں تو معلوم ہو گا کہ سال 2023۔2024میں افراط زر کی بلند ترین سطح ( قریباً 29%) کے بعد، سال 2026میں افراطِ زر کی شرح واضح کمی کے ساتھ 6.4%سے 7.5%کے درمیان آ چکی ہے۔ تاہم، ماضی کی بلند قیمتوں کے اثرات اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں برقرار رہنے کی وجہ سے عوامی قوتِ خرید تاحال شدید متاثر ہے۔

جہاں تک بیروزگاری کا تعلق ہے تو آئی ایم ایف کے مطابق بیروزگاری کی شرح کم ہو کر قریباً 7.5%پر آئی ہے، لیکن نوجوانوں اور پڑھے لکھے طبقے میں روزگار کے موزوں مواقع کی کمی اب بھی برقرار ہے اور معاشی صورتحال بدحالی کے دور سے نکل کر 3.5%سے 3.7%کی شرح سے ترقی کر رہی ہے، جسے مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے میں بہتری سے مدد مل رہی ہے۔ مگر یہ معاشی صورتحال قطعی طور پر حوصلہ افزا قرار نہیں دی جا سکتی۔ اس معاشی بدحالی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کے پیچھے چند گہرے ساختی سٹرکچرل یا مسائل ہیں جن میں توانائی کا بحران اور گردشی قرضہ سر فہرست ہے۔ بجلی اور گیس کے شعبے میں بدانتظامی، لائن لاسز، اور آئی پی پیز کے ساتھ ماضی کے مہنگے معاہدے معیشت پر سب سے بڑا بوجھ ہیں دوسرا یہ کہ پاکستان میں ٹیکس کا سارا بوجھ پہلے سے رجسٹرڈ تنخواہ دار طبقے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر پر ہے جبکہ زراعت، ریٹیلرز ( دکانداروں) اور رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے شعبے اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر یا بہت کم ٹیکس دیتے ہیں۔ اسٹیل ملز اور ڈسکوز جیسی سرکاری ادارے سالانہ اربوں روپے کے خسارے کا باعث بن رہے ہیں، جس کا بوجھ قومی خزانے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات پر انحصار اور کم برآمدات بھی معاشی بدحالی کی بنیادی وجوہات میں سے ہیں کیونکہ پاکستان کی معیشت کا ڈھانچہ درآمدات پر منحصر ہے۔ جب بھی ملک ترقی کرنے لگتا ہے، درآمدات بڑھ جاتی ہیں اور ڈالر کی کمی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں بعض فوری حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے بحران سے مکمل نجات اور معیشت کو پائیدار بنانے کے لئے حکومت کو ترجیحاً ٹیکس نیٹ بڑھانے اور دیگر مالیاتی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھانے کی بجائے ریٹیلرز، ہول سیلرز اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنا کر ان پر براہِ راست ٹیکس نافذ کرنا ہو گا۔ ایف بی آر کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنا ہو گا تاکہ ٹیکس چوری اور کرپشن کا خاتمہ ہو۔ توانائی کے شعبے میں ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی کیونکہ بجلی کی قیمتوں کو عام آدمی اور صنعتوں کی پہنچ میں لانے کے لئے بجلی گھروں کے ساتھ معاہدوں کو منطقی خطوط پر استوار کرنا ضروری ہی۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکوز کو نجی شعبے کے حوالے کرنا ہو گا تاکہ بجلی چوری اور لائن لاسز کو روکا جا سکے۔ روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی میں وسعت لانا ہو گی۔ آئی ٹی اور ڈیجیٹل اکانومی کو فروغ دینا ہو گا۔ آئی ٹی سیکٹر، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل اسٹارٹ اپس کو مراعات دینا ہوں گی کیونکہ یہ شعبہ کم ترین سرمائے کے ساتھ سب سے زیادہ نوجوانوں کو فوری روزگار فراہم کر سکتا ہے۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں ( جیسے زراعت کے جدید طریقے، معدنیات اور لائٹ انجینئرنگ) کو فروغ دے کر ملکی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ ساتھ ہی ساتھ خسارے میں چلنے والے اداروں سے جان چھڑانا ہو گی اور منافع نہ دینے والے سرکاری اداروں کی شفاف نجکاری کے عمل کو تیز کرنا ہو گا تاکہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ان کا خسارہ پورا کرنے کی بجائے ترقیاتی منصوبوں پر لگ سکے۔ پاکستان معاشی طور پر کرائسس مینجمنٹ یعنی ہنگامی بچائو کے دور سے تو نکل آیا ہے، لیکن جب تک زراعت، توانائی اور ٹیکس کے نظام میں بنیادی اسٹرکچرل اصلاحات نہیں کی جائیں گی، تب تک عام آدمی تک مہنگائی میں کمی اور روزگار کی شکل میں حقیقی ریلیف پہنچنا مشکل رہے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حکمرانوں کو اپنے ضمیر کے مطابق عوام کی خدمت اور ملک کی محبت کے لئے پالیسی سازی کرنا ہو گی نہ کہ بے ضمیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے جیسے اقدامات۔ حکمرانوں کی بے ضمیری کے ضمن میں بروقت فیصلے نہ کرنا، جیسے کہ زرعی اجناس ( گندم، چینی وغیرہ) کی درآمد یا برآمد کے غلط فیصلے، مارکیٹ میں مصنوعی قلت اور مہنگائی کا سبب بنتے ہیں۔ ٹیکس چوری کو نہ روکنا، بااثر طبقوں ( جیسے بڑے جاگیر داروں یا مخصوص صنعت کاروں) کو ٹیکس چھوٹ دینا اور سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالنا انتظامی ناکامی اور ترجیحات کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ علاوہ ازیں توانائی کے شعبے ( بجلی اور گیس) میں نقصانات اور گردشی قرضوں کو کنٹرول نہ کر پانا، جس کا بوجھ بار بار قیمتیں بڑھا کر عوام پر منتقل کیا جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اس عوامی بدعہدی کو کیا نام دیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button