CM RizwanColumn

اصلی ایبسولوٹلی ناٹ کا وسیع موقع 

جگائے گا کون؟

اصلی ایبسولوٹلی ناٹ کا وسیع موقع

تحریر: سی ایم رضوان

ابراہم اکارڈ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کیے گئے تاریخی سفارتی معاہدوں کا سلسلہ ہے۔

جس کا آغاز ستمبر 2020ء میں ہوا، جب امریکہ ( تب کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ) کی ثالثی میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے واشنگٹن میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔ بعد میں مراکش اور سوڈان بھی اس امن عمل کا حصہ بنے۔ اس معاہدے کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا چونکہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں مذاہب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اپنے انبیاء علیہم السلام کا جدِ امجد مانتے ہیں اس لئے یہ نام مختلف مذاہب اور ممالک کے مابین امن اور مشترکہ ورثے کی علامت کے طور پر چنا گیا۔ ان عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے وہاں اپنے سفارت خانے کھولے اور اسرائیل نے ان ممالک میں اپنے سفارت خانے قائم کیے۔ ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیشِ نظر، اسرائیل اور ان عرب ممالک کے درمیان سکیورٹی اور انٹیلیجنس کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپنی نوعیت کی بنا پر یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بہت بڑی اور منفی تبدیلی تھا کیونکہ اس سے قبل اکثر عرب ممالک کا یہ دیرینہ موقف تھا کہ جب تک اسرائیل ایک آزاد فلسطینی ریاست تسلیم نہیں کرتا، تب تک اس کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کا موقف تھا کہ اس معاہدے کے بدلے اسرائیل مغربی کنارے کے علاقوں کو باقاعدہ اپنی سرزمین میں شامل کرنے کے منصوبے کو روکنے پر راضی ہوا ہے۔ شدید ردعمل دیتے ہوئے فلسطینی رہنماں نے اس معاہدے کو یکسر مسترد کیا تھا اور اسے فلسطینی کاز کے ساتھ ’’ پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘‘ کے مترادف قرار دیا، کیونکہ ان کے خیال میں اس سے اسرائیل پر مستقل امن کے لئے دبائو کمزور ہوا۔ گو کہ امریکہ اور معاہدے میں شامل دیگر ممالک کا ماننا ہے کہ یہ ابراہم اکارڈ مشرقِ وسطیٰ میں جنگوں اور دہائیوں پرانی دشمنی کو ختم کر کے امن اور معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع کرنے کا بہترین ذریعہ ہے لیکن یہ موقف اختیار کرتے وقت وہ اس امر کا ذکر کیوں نہیں کرتے کہ اسرائیل جیسی ناجائز، ظالم اور جنگجو ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد خطہ میں امن کیسے ہو گا اور امن کی ضمانت کون دے گا۔ کیا امریکہ اس کی ضمانت دے گا جو پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا میں ہونے والی ہر جنگ کا سپانسر اور فائدہ خوار رہا ہے اور دنیا کے کسی بھی خطہ میں جہاں چاہتا ہے جنگ مسلط کر دیتا ہے۔ تسلیم کئے جانے کے بعد بھی کیا اسرائیل کل کلاں امن کی ضمانت دے گا جو ہمیشہ سے خطہ میں پولیس مین بن کر اپنی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی دھاک بٹھانا چاہتا ہے۔ جس نے 28فروری 2026ء کو ایران پر جنگ مسلط کر کے دنیا بھر کے امن اور معیشتوں کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان یا چند دیگر ممالک جنگ بندی کے بعد مستقل امن کی جب بھی راہ نکالتے ہیں تو اسرائیل ٹرمپ کو پھر کسی نئے فتنے کی راہ دکھا دیتا ہے اور ٹرمپ بھی اپنے فتنہ گر ذہن کی وجہ سے دنیا بھر میں وہی فتنہ برپا کر دیتا ہے گزشتہ روز بھی جب ایران امریکہ امن ڈیل کی یقین دہائی سامنے آئی تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابراہم اکارڈ پر تمام مسلم ممالک کے دستخطوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تمام اہم اسلامی ممالک بشمول پاکستان، سعودی عرب، قطر اور ترکی سے ابراہم اکارڈ پر لازمی دستخط کرنے کا حالیہ مطالبہ دراصل امریکی اندرونی سیاست، بالخصوص ری پبلیکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان جاری سیاسی کھینچا تانی کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کے لئے ایک بڑے معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اس پس منظر میں ابراہم اکارڈ کی شرط رکھنا دراصل دونوں امریکی سیاسی جماعتوں کی روایتی خارجہ پالیسی اور ووٹر بیس کو مطمئن کرنے کی ایک گہری بساط ہے۔ اس کا ایک اہم ترین پہلو ری پبلیکنز کی سیاست کے ضمن میں اسرائیل کے تحفظ کا دبائو اور ’’ گریٹ ڈیل‘‘ کا تاثر ہے ری پبلیکن پارٹی کے اندر اس وقت ٹرمپ کے اس مطالبے کے پیچھے چند بڑے سیاسی مقاصد ہیں جس میں سب سے پہلے اسرائیل نواز ووٹرز اور فرینڈز کو مطمئن کرنے کا مقصد ہے کیونکہ ری پبلیکن پارٹی کا ایک بہت بڑا حصہ ( خصوصاً ایوینجیلیکل عیسائی اور قدامت پسند ووٹرز) اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔ جب ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور مذاکرات کی بات کی، تو اسرائیل اور واشنگٹن میں موجود اسرائیل نواز لابی نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اسلامی ممالک پر ابراہم اکارڈز کی شرط رکھ کر اپنے ہارڈ لائنر ووٹرز کو یہ تاثر دیا ہے کہ وہ ایران سے ڈیل کر کے اسرائیل کو تنہا نہیں چھوڑ رہے، بلکہ اسرائیل کے لئے ایک بہت بڑا سفارتی تحفہ ( بڑے اسلامی ممالک سے تسلیم کروانا) تیار کر رہے ہیں۔ یعنی ٹرمپ اپنے حوالے سے معروف ’’ آرٹ آف دی ڈیل‘‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ری پبلیکنز ہمیشہ ٹرمپ کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کثیر الجہتی بین الاقوامی اداروں ( جیسے اقوامِ متحدہ) کی بجائے براہِ راست اور کاروباری انداز میں فائدے کے سودے کرتا ہے۔ اسی لئے اپنے ان قدامت پسند حامیوں کو متاثر اور مطمئن کرنے کے لئے ٹرمپ نے تاثر دیا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے معاملے پر اتنی محنت کر رہا ہے، تو اسلامی ممالک کے لئے یہ ’’ لازمی‘‘ ہونا چاہیے کہ وہ بدلے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کریں۔ ساتھ ہی سینیٹر لنڈسے گراہم جیسے سینئر ری پبلیکن نے فوراً اس کی حمایت کی ہے کیونکہ اگر سعودیہ، پاکستان اور قطر جیسے ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیتے ہیں، تو ری پبلیکن پارٹی اسے امریکی تاریخ کی سب سے بڑی خارجہ پالیسی کی فتح کے طور پر صدارتی مہم اور مڈٹرم انتخابات میں بیچے گی۔

دوسری طرف ڈیموکریٹس اس پورے منظر نامے کو یکسر مختلف نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان کا ردعمل ٹرمپ کو سیاسی طور پر گھیرنے کی کوشش ہے۔ ڈیموکریٹس ( خصوصاً ان کا ترقی پسند یا پروگریسو ونگ) یہ اعتراض اٹھاتا ہے کہ ابراہم اکارڈ کا ماڈل بنیادی طور پر فلسطینیوں کے حقوق اور ’’ دو ریاستی حل‘‘ کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک پر دبائو ڈال کر اسرائیل کو تسلیم کروانے سے خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ فلسطینیوں کا مسئلہ حل نہ ہو۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کرہ وان ہولن جیسے رہنمائوں نے بھی تنقید کی ہے کہ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ مجوزہ ڈیل دراصل جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس جانے کے مترادف ہے اور اس سے کوئی بڑا تزویراتی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ اب اسی تنقید سے بچنے اور ڈیموکریٹس کا منہ بند کرنے کے لئے ٹرمپ نے ابراہم اکارڈ کا ایسا کارڈ کھیلا ہے جس کی مخالفت کرنا ڈیموکریٹس کے لئے بھی ( اسرائیل نواز ڈیموکریٹ ووٹرز کی وجہ سے) مشکل ہو جائے گا۔ لیکن یاد رہے کہ جو بائیڈن نے بھی اپنے دور میں سعودی عرب اور اسرائیل کی نارملائزیشن کے لئے بہت کام کیا تھا لیکن وہ بھی اس میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ اب ٹرمپ بھی اس مطالبے کے ذریعے ڈیموکریٹس کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جو کام جوبائیڈن انتظامیہ برسوں میں نہ کر سکی تھی، وہ ٹرمپ اپنی طاقتور سفارت کاری سے چند ہفتوں میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان حالات میں اگر ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ سیاست کا موازنہ کیا جائے تو اس کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ ری پبلیکنز ( ٹرمپ انتظامیہ) اور ڈیموکریٹس ( اپوزیشن) کا مشترکہ اور بنیادی ہدف اسرائیل کا تحفظ اور مسلم دنیا میں اس کا اثر و رسوخ بڑھانا ہے جس کے حصول میں ہمیشہ سے ہی انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور مسئلہ فلسطین کا حل رکاوٹ بنتے ہیں جن کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی بجائے دونوں امریکی پارٹیوں کا ایک جیسا ہی طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ محض کاروباری طرز کی سفارت کاری کرتے ہیں اور بغیر کسی شرط کے اسرائیل کو تسلیم کروانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ اصول پسندی، کثیر الجہتی مذاکرات اور بتدریج سفارتی عمل کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اب بھی روایتی ایران پالیسی کے تحت ایران کے ساتھ معاہدے کے بدلے اسرائیل کے لئے بڑا فائدہ حاصل کرنے کا سوچا جا رہا ہے جو کہ ایک کمزور پالیسی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ امریکہ کی مقامی سیاست کے حوالے سے ٹرمپ کا یہ مطالبہ دراصل ایک ایسا سیاسی ماسٹر سٹروک ہے جس کے ذریعے وہ امریکہ کے اندر اپنے مخالفین کو دفاعی پوزیشن پر لانا چاہتے ہیں اور اپنے حامیوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ خطے میں کوئی بھی تبدیلی امریکہ اور اسرائیل کی مرضی کے بغیر نہیں ہو گی۔ تاہم، مسلم ممالک ( جیسے پاکستان اور سعودی عرب) کی طرف سے اس پر گہری خاموشی یا ’’ پہلے آزاد فلسطینی ریاست‘‘ کا موقف ٹرمپ کی اس اندرونی سیاسی حکمتِ عملی کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے جسے پورا کرنا ٹرمپ کے لئے ناممکن ہو گا۔ ایسا کر کے ٹرمپ نے خود کو بین الاقوامی طور پر زیادہ مشکلات میں گرفتار کر کے ساتھ ہی کئی مسلم ممالک کو اصلی اور حقیقی طور پر ’’ ایبسولوٹلی ناٹ‘‘ کا کھلا موقع فراہم کر دیا ہے۔

یہ ایبسولوٹلی ناٹ کا لفظ ماضی قریب میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ایک سیاسی سٹنٹ کے طور پر سامنے آیا تھا کیونکہ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ تب امریکا نے باضابطہ طور پر عمرانی حکومت سے اڈے مانگے ہی نہیں تھے۔ بلکہ جون 2021 ء میں صحافی جوناتھن سوان نے انٹرویو میں عمران خان سے صرف فرضی طور پر پوچھا تھا کہ کیا آپ سی آئی اے کو افغانستان میں آپریشنز کے لئے پاکستان میں اڈے دیں گے؟ تو انہوں نے جواب میں ’’ ایبسولوٹلی ناٹ‘‘ کہا تھا۔ جس پر پی ٹی آئی ٹرولز نے ایک سلوگن گھڑ لیا تھا جس پر امریکی محکمہ دفاع اور دیگر حکام نے بعد میں واضح کیا تھا کہ امریکا نے پاکستان سے باضابطہ طور پر کسی قسم کے فوجی اڈے مانگے ہی نہیں تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان اس کے لئے تیار نہیں ہو گا۔ یعنی جو چیز مانگی ہی نہیں گئی تھی، اس پر اتنا بڑا بیانیہ بنانا صرف سستا سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا لیکن اب ٹرمپ نے ابراہم اکارڈ پر لازمی دستخط مانگ کر مسلم ممالک کو اصلی ایبسولوٹلی ناٹ کا کھلا موقع فراہم کر دیا ہے۔ وہ بھی موجودہ عیدالاضحیٰ کے میں یعنی ایام ابراہیم علیہ السلام میں۔

جواب دیں

Back to top button