ColumnImtiaz Ahmad Shad

عید الاضحیٰ کا حقیقی فلسفہ

ذرا سوچئے

عید الاضحیٰ کا حقیقی فلسفہ

امتیاز احمد شاد

عیدالاضحیٰ اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے جو ہر سال ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو انتہائی عقیدت، احترام اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اسے ’’ عیدِ قرباں ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت و فرمانبرداری کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اسلام میں اس عید کی اہمیت صرف ایک تہوار کی حد تک نہیں بلکہ یہ ایثار، قربانی، محبت، اخوت، مساوات اور بندگیِ رب کا عملی درس بھی دیتی ہے۔ عید الاضحی کا فلسفہ انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے اپنی سب سے محبوب چیز کو بھی قربان کرنا پڑے تو مومن اس سے دریغ نہ کرے۔ یہی جذبہ انسان کو روحانی بلندی عطا کرتا ہے اور اسے خود غرضی، لالچ اور مادہ پرستی سے نجات دلاتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کی اصل روح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم واقعے میں پوشیدہ ہے جب انہوں نے خواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا حکم پایا۔ چونکہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں ذرا بھی تردد نہ کیا۔ دوسری طرف حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی کامل صبر، رضا اور اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے پیش کر دیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو قربان کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بے مثال قربانی کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا۔ اس واقعے نے رہتی دنیا تک کے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

عیدالاضحیٰ مسلمانوں کے اندر قربانی کے جذبے کو بیدار کرتی ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا، لالچ اور نفسانی خواہشات کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا درس بھی دیتی ہے۔ انسان جب اللہ کی راہ میں قربانی دیتا ہے تو اس کے اندر ایثار، ہمدردی اور محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کی تکلیف اور ضرورت کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تعلیم دی ہے: ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے اور تیسرا غریبوں اور محتاجوں کے لیے۔ اس عمل سے معاشرے میں مساوات، بھائی چارہ اور محبت فروغ پاتی ہے اور غریب افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ کی افادیت سماجی، معاشرتی اور معاشی اعتبار سے بھی بہت زیادہ ہے۔ اس موقع پر مالدار لوگ اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں جس سے غرباء اور مساکین کی مدد ہوتی ہے۔ قربانی کا گوشت ہزاروں ضرورت مند خاندانوں تک پہنچتا ہے، جس سے ان کی غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ قربانی کے دنوں میں مویشی پالنے والے افراد، بیوپاریوں، قصابوں اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح عیدالاضحیٰ معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کرتی ہے اور معاشرے کے مختلف طبقات کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

یہ عید انسان کو اتحاد و یگانگت کا سبق بھی دیتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی جذبے کے تحت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی دیتے ہیں۔ رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے فرق کے باوجود تمام مسلمان ایک امت کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ عید کی نماز میں امیر و غریب، چھوٹے بڑے سب ایک صف میں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہ منظر اسلام کے مساوات کے عظیم اصول کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں، رنجشیں ختم کرتے ہیں اور محبت و بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ ہمیں صبر، استقامت اور توکل علی اللہ کا درس بھی دیتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اس بات کی روشن مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر مشکل اور آزمائش کو برداشت کرنا چاہیے۔ آج کے دور میں جب انسان مادیت پرستی، خود غرضی اور نفسانفسی کا شکار ہو چکا ہے، عید الاضحی کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ یہ عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی اصل کامیابی دولت، شہرت یا طاقت میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انسانیت کی خدمت میں ہے۔

اسلام میں قربانی کا مقصد دکھاوا یا نمود و نمائش نہیں بلکہ تقویٰ اور اخلاص ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی کی اصل روح نیت کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ اگر انسان صرف رسم و رواج یا لوگوں کو دکھانے کے لیے قربانی کرے تو اس کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قربانی خالصتاً اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کی جائے۔

عیدالاضحیٰ ہمیں اپنے کردار اور اخلاق کو بہتر بنانے کی بھی ترغیب دیتی ہے۔ قربانی کا جذبہ انسان کے اندر عاجزی، انکساری اور خدمتِ خلق کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ یہ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنے اردگرد موجود غریب، یتیم، بیوہ اور محتاج افراد کا خیال رکھنا بھی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد حقیقی معنوں میں عیدالاضحیٰ کے پیغام کو سمجھ لیں تو غربت، بھوک اور محرومی جیسے مسائل میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

حج اور عیدالاضحیٰ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان خانہ کعبہ میں جمع ہو کر حج ادا کرتے ہیں اور اسی دوران قربانی بھی کی جاتی ہے۔ حج اور قربانی دونوں انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی، عاجزی اور اخوت کا درس دیتے ہیں۔ احرام کی حالت میں سب انسان ایک جیسے لباس میں ہوتے ہیں جس سے مساوات اور اتحاد کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس طرح عیدالاضحیٰ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور سماجی اصلاح کرتا ہے۔

عیدالاضحیٰ اسلام کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے جو قربانی، ایثار، محبت، اخلاص، اطاعتِ الٰہی اور خدمتِ انسانیت کا درس دیتا ہے۔ یہ عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کرنا مومن کی شان ہے۔ اگر مسلمان عیدالاضحیٰ کے حقیقی فلسفے کو اپنی زندگیوں میں اپنا لیں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بے شمار مثبت تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ معاشرے میں محبت، بھائی چارہ، مساوات اور ہمدردی کو فروغ ملے گا اور انسانیت حقیقی فلاح و کامیابی کی راہ پر گامزن ہو جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button