بچوں پر سرمایہ کاری

بچوں پر سرمایہ کاری
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نیا ترقیاتی ماڈل۔۔۔ ورک فورس کا تحفظ اور مستقبل کی تیاری
تحریر: امبر جبین
موجودہ صدی میں عالمی سطح پر قوموں کے معاشی استحکام کا بنیادی عنصر روایتی مادی وسائل کی بجائے انسانی وسائل کو تصور کیا جا رہا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں آج اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ جس رفتار سے ان کی معیشت اور صنعتی ضروریات بڑھ رہی ہیں، اس رفتار سے ان کی کام کرنے والی آبادی میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ امریکہ اور خصوصاً چین جیسے ممالک میں لوگ پہلے کی نسبت کم بچے پیدا کر رہے ہیں۔ چین میں ’’ ون چائلڈ پالیسی‘‘ کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ کئی دہائیوں تک ایک بچے کی پالیسی نے نوجوان آبادی کو محدود رکھا، نتیجتاً اب وہاں عمر رسیدہ آبادی بڑھ رہی ہے جبکہ فعال افرادی قوت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس رجحان کو عالمی معیشت میں’’Ageing Population ‘‘ کا مسئلہ کہا جاتا ہے، جو ان ممالک کی معاشی نمو، صنعتی پیداوار اور پیداواری صلاحیت پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔مزید برآں نوجوان نسل فیکٹریوں میں مینول ورک کی بجائے ریموٹ جابز اور ڈیجیٹل شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ نتیجتاً تعمیرات، زراعت اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبے بتدریج لیبر کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے میں نوجوان آبادی رکھنے والے ممالک کو عالمی معیشت میںDemographic Advantage حاصل سمجھا جاتا ہے، یعنی وہ ممالک جہاں نوجوانوں کی تعداد عمر رسیدہ افراد سے زیادہ ہو اور جہاں ایک بڑی فعال افرادی قوت معاشی ترقی، پیداوار اور سرمایہ کاری میں اضافے کا سبب بن سکتی ہو۔پاکستان، جسے ایک مدت تک آبادی میں اضافے کے باعث ایک چیلنج زدہ ملک تصور کیا جاتا رہا، آج اسی آبادی کے سبب demographic advantage رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی لیبر مارکیٹ میں ہر سال تقریباً دو سے ڈھائی ملین افراد داخل ہو رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والی دہائیوں میں پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی افرادی قوت ہی ہو گی۔ ایسے میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری محض روزگار کی فراہمی نہیں بلکہ اس پوری نسل کی حفاظت، بہتر پرورش، صحت، تعلیم اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ جدید معیشتوں میں صرف آبادی نہیں بلکہ تربیت یافتہ، صحت مند اور پیداواری آبادی ہی حقیقی معاشی طاقت تصور کی جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ عالمی منڈیوں میں کھپت کے ذریعے انسانی وسائل کو مالی وسائل میں تبدیل کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ یہ آبادی ایک بوجھ کے بجائے ایک مضبوط معاشی قوت میں تبدیل ہو سکے۔ یہی وہ پس منظر ہے جو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وشن کی تکمیل میں ایک نئے ترقیاتی اور معاشی ماڈل کو تشکیل دے رہا ہے، جہاں ترقی کا مرکز صرف انفراسٹرکچر یا مالی تقسیم نہیں بلکہ انسانی سرمائے کی منظم تعمیر ہے۔
پاکستان کی مجموعی معاشی تصویر میں سب سے بڑا چیلنج ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ ایک بڑی آبادی کے باوجود افرادی قوت کا بڑا حصہ یا تو غیر ہنر یافتہ ہے یا پھر بنیادی صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کی کمزوریوں کا شکار ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ملک کی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتی ہے بلکہ معیشت کو بھی غیر رسمی شعبے تک محدود رکھتی ہے۔ اسی لیے ترقی کا اصل سوال یہ نہیں رہا کہ ’’ افرادی قوت کتنی ہے‘‘ بلکہ یہ ہے کہ ’’ افرادی قوت کتنی محفوظ، صحت مند اور تربیت یافتہ ہے‘‘ ۔
ہمارے ہاں لیبر فورس کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی روزگار سے وابستہ ہے جہاں نہ سماجی تحفظ مکمل ہے اور نہ ہی پیشہ ورانہ تربیت کا کوئی واضح نظام موجود ہے۔ اسی طرح صحت اور غذائیت کے مسائل، خصوصاً بچوں میں نشوونما کی کمی (stunting)، مستقبل کی ورک فورس کی صلاحیت کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ عالمی اداروں جیسے World Bank اور UNICEFبارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ کسی بھی ملک کی طویل المدتی معاشی ترقی کا انحصار اس کے انسانی سرمائے کے معیار پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف آبادی کے حجم پر۔
پنجاب پاکستان کی سب سے بڑی آبادی اور معیشت ہونے کے باعث ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں ایک طرف نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے تو دوسری طرف شہری و دیہی عدم مساوات، صحت کی سہولیات کا فرق، اور تعلیمی معیار میں تفاوت جیسے چیلنجز بھی نمایاں ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پالیسی سازی کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے کیونکہ بڑی ورک فورس صرف اسی صورت معاشی طاقت بن سکتی ہے جب وہ محفوظ، صحت مند اور ہنر یافتہ ہو۔
پنجاب میں حالیہ مالی اور انتظامی اصلاحات اسی بنیادی سوال کے جواب کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ صحت کے شعبے میں نمایاں اضافہ، بنیادی صحت مراکز کی بہتری، اور دیہی علاقوں میں خدمات کی توسیع اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب ورک فورس کے ’’ زندہ رہنے‘‘ سے آگے بڑھ کر اس کی ’’ پیداواری صلاحیت‘‘ کو محفوظ بنانے کی طرف جا رہی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ دو برسوں کے دوران صحت کے مجموعی بجٹ کا 487ارب روپے سے بڑھ کر 605ارب روپے تک پہنچنا اسی تبدیلی کی واضح مثال ہے۔
بنیادی صحت مراکز اور دیہی صحت مراکز کی بہتری کا مقصد صرف سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ یہ یقین دہانی بھی ہے کہ ایک مزدور، کسان یا شہری کارکن بیماری کے باعث صوبے کے معاشی نظام سے باہر نہ ہو جائے، کیونکہ ایک فرد کی بیماری صرف اسے متاثر نہیں کرتی بلکہ پورے خاندان کی معاشی رفتار کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ اسی لیے صحت کو اب محض سماجی خدمت نہیں بلکہ اقتصادی استحکام کا لازمی جزو سمجھا جا رہا ہے۔
اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بجٹ میں نمایاں اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پنجاب مستقبل کی ورک فورس کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ تعلیم کے بجٹ میں 31فیصد اضافہ صرف مالی وسعت نہیں بلکہ ایک پالیسی شفٹ ہے جس میں توجہ اب رسائی کے ساتھ ساتھ معیارِ تعلیم پر بھی مرکوز ہے۔ سکول میل پروگرام، مفت کتابوں کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کی اصلاحات اس تصور کو مضبوط کرتے ہیں کہ تعلیم کو ایک مکمل انسانی ترقیاتی نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہیں سے ریاستی پالیسی کا وہ پہلو نمایاں ہونا شروع ہوتا ہے جہاں ورک فورس کے تحفظ کا تصور صرف موجودہ مزدور تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنے والی نسلوں تک پھیل جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پنجاب کی پالیسی ایک سادہ انتظامی ماڈل سے بڑھ کر Human Capital Development Strategyکی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ریاست کے مستقبل کا تعین اس کے بچوں سے ہوتا ہے کیونکہ آج کے بچے ہی کل کی ورک فورس ہیں، اور کل کی معیشت اور ریاستی استعداد کا انحصار اسی افرادی قوت پر ہوتا ہے۔ اسی لیے بچوں پر ہونے والی سرمایہ کاری دراصل مستقبل کی معیشت پر سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اقدامات سے یہی تصور صوبے کے موجودہ ترقیاتی ڈھانچے میں مرکزی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
پنجاب میں بچوں کی صحت کے شعبے میں پیڈیاٹرک کارڈیک سرجری جیسے پروگرام محض طبی سہولیات نہیں بلکہ ایک معاشی حکمت عملی ہیں کیونکہ ایک صحت مند بچہ مستقبل میں ایک فعال، پیداواری اور خود کفیل شہری بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بچوں کے ہسپتالوں کے لیے بڑھتی ہوئی مالی گنجائش اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب خصوصی اور پیچیدہ صحت کے مسائل کو بھی اپنی ترجیح بنا رہی ہے۔
تعلیم کے میدان میں سکول میل پروگرام اور مفت کتابوں کی فراہمی جیسے اقدامات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ تعلیم کو صرف تدریس نہیں بلکہ بچے کی مجموعی نشوونما سے جوڑا جا رہا ہے۔ ایک ایسا بچہ جو صحت مند ہو، بہتر غذائیت رکھتا ہو اور اسکول سے مسلسل جڑا ہو، وہ مستقبل میں زیادہ سیکھنے اور زیادہ کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی انسانی سرمائے کی اصل تعریف ہے۔
خصوصی تعلیم کے شعبے میں نمایاں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب ایک inclusiveمعاشرت کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے بھی ریاستی ترقی کے دائرے سے باہر نہیں۔ یہ اقدام نہ صرف سماجی انصاف کی علامت ہے بلکہ طویل المدتی معاشی سوچ کا بھی اظہار ہے۔
صفائی، صاف پانی اور شہری ترقی کے منصوبے بھی براہ راست بچوں کی صحت اور مستقبل کی ورک فورس سے جڑے ہوئے ہیں۔ سُتھرا پنجاب جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماحولیاتی اور صحتِ عامہ کے مسائل کو اب الگ الگ نہیں بلکہ ایک مربوط ترقیاتی فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسی طرح سماجی تحفظ کے پروگرام، خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی معاونت اور راشن کارڈ جیسے اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ غربت کسی بچے کے مستقبل کی صلاحیتوں میں رکاوٹ نہ بنے، کیونکہ غربت صرف آج کا مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی معاشی استعداد کو بھی متاثر کرتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کا موجودہ ترقیاتی ماڈل ایک روایتی بجٹ سے بڑھ کر انسانی سرمائے کی تعمیر کا ایک مربوط اور منظم نظام بنتا جا رہا ہے۔ یہ ماڈل ورک فورس کے تحفظ کو صرف موجودہ حالات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اس دائرے میں شامل کرتا ہے۔ اگر یہ پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو پنجاب نہ صرف اپنی معاشی بنیاد مضبوط کرے گا بلکہ پاکستان کے لیے ایک ایسے ترقیاتی ماڈل کی مثال بھی بن سکتا ہے جہاں ترقی کو صرف اقتصادی اشاریوں سے نہیں بلکہ انسانوں کے بہتر، محفوظ اور باوقار مستقبل سے جانچا جائے۔







