قبل از وقت گرمی کی چھٹیاں

قبل از وقت گرمی کی چھٹیاں
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستان میں تعلیم ہمیشہ سے ترجیحات کی فہرست میں سب سے نیچے دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت تعلیم کو قومی ایمرجنسی قرار تو دیتی ہے مگر عملی اقدامات ایسے کیے جاتے ہیں جو اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں پنجاب سمیت ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں قبل از وقت گرمی کی تعطیلات کے اعلان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا واقعی ہم ایک سنجیدہ قوم کے طور پر تعلیم کو اپنی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہیں یا نہیں؟
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس وقت ملک میں شدید گرمی کی وہ کیفیت موجود نہیں جس کی بنیاد پر تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کر دی جائیں۔ ماضی میں جب درجہ حرارت ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتا تھا، تب بھی مئی کے آخری ہفتے یا جون کے آغاز میں عین وقت پر تعطیلات دی جاتی تھیں۔ لیکن اس مرتبہ گیارہ مئی کو ہی چھٹیوں کی تاریخ کا اعلان کر دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز زمینی حقائق کے بجائے روایتی سوچ اور دفتری سہولت کے تحت فیصلے کر رہے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں موسم ہم سے کہیں زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ کہیں شدید برف باری معمول ہے، کہیں پورا سال جھلسا دینے والی گرمی رہتی ہے مگر وہاں زندگی اور تعلیمی نظام نہیں رکتے۔ لوگ اپنے ماحول کے مطابق نظام ترتیب دیتے ہیں، اوقاتِ کار تبدیل کرتے ہیں، سہولیات پیدا کرتے ہیں اور معمولاتِ زندگی جاری رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر موسم کے ساتھ چھٹیوں کی ایک نئی روایت جڑی ہوئی ہے۔ گرمی ہو تو چھٹیاں، سردی ہو تو چھٹیاں، بارش ہو تو تعطیل، اور اگر موسم خوشگوار ہو تو تفریح کی خواہش جاگ اٹھتی ہے۔ اس ذہنیت نے ہماری اجتماعی سنجیدگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اصل مسئلہ صرف گرمی کی چھٹیوں کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں کو سب سے آسانی سے بند کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں کبھی کورونا، کبھی سیاسی احتجاج، کبھی سکیورٹی خدشات اور کبھی موسمی حالات کے نام پر تعلیمی سرگرمیاں بار بار متاثر ہوتی رہی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طلبہ کی تعلیمی بنیاد کمزور ہوتی گئی، نصاب ادھورا رہ گیا اور امتحانات محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئے۔ افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں بورڈ امتحانات میں کبھی بغیر امتحان طلبہ کو پاس کر دیا جاتا ہے اور کبھی گریس مارکس کی بھرمار کر دی جاتی ہے۔ یہ پالیسی وقتی طور پر طلبہ اور والدین کو خوش تو کر سکتی ہے مگر مستقبل میں یہی نوجوان جب ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر یا استاد بنیں گے تو ان کی عملی صلاحیتوں کا
اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایک کمزور تعلیمی نظام دراصل کمزور ریاست کی بنیاد رکھتا ہے۔
اگر واقعی گرمی ایک مسئلہ ہے تو اس کا حل ادارے بند کرنا نہیں بلکہ نظام کو لچکدار بنانا ہے۔ سکولوں کے اوقات صبح چھ بجے سے دس بجے تک کیے جا سکتے ہیں۔ کلاس رومز میں بنیادی سہولیات بہتر بنائی جا سکتی ہیں۔ آن لائن اور ہائبرڈ لرننگ کے ماڈلز متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں آسان ترین راستہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ پورا نظام ہی بند کر دیا جائے۔
یہ دو عملی بھی قابلِ غور ہے کہ ایک طرف سرکاری تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف نجی سکولوں کو سمر کیمپ کی اجازت دینے پر غور ہو رہا ہے۔ اگر گرمی واقعی ناقابلِ برداشت ہے تو پھر سمر کیمپ کیسے چل سکتے ہیں؟ اور اگر سمر کیمپ ممکن ہیں تو باقاعدہ تعلیمی سرگرمیاں کیوں نہیں؟ اس تضاد سے واضح ہوتا ہے کہ فیصلے کسی واضح تعلیمی وعن کے تحت نہیں کیے جا رہے۔
ہمارا نظامِ تعلیم آج بھی بڑی حد تک لارڈ میکالے کے اس فرسودہ ماڈل کے گرد گھوم رہا ہے جو برصغیر میں صرف ایسے افراد پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جو نوآبادیاتی نظام کے دفتری امور چلا سکیں۔ آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ ہماری جامعات عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام حاصل نہیں کر پا رہیں، تحقیق کا معیار کمزور ہے اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری جانب لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دیا جائے، اساتذہ کی تربیت بہتر بنائی جائے اور تعلیمی دنوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ دنیا ترقی علم، تحقیق اور مہارت سے کر رہی ہے جبکہ ہم ابھی تک چھٹیوں کے کلچر میں الجھے ہوئے ہیں۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے تعلیمی اداروں کو آباد رکھتی ہیں، ان کے مستقبل روشن ہوتے ہیں اور جو قومیں تعلیمی اداروں پر تالے لگانے میں آسانی محسوس کرتی ہیں، وہ ترقی کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم موسمی بہانوں سے نکل کر ایک سنجیدہ، حقیقت پسند اور ترقی پسند تعلیمی پالیسی اختیار کریں۔ کیونکہ قوموں کا مستقبل تعطیلات سے نہیں بلکہ علم، محنت اور تسلسل سے بنتا ہے۔





