معرکہ حق

معرکہ حق
تحریر: حسیب زیدی
1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد سے انڈیا اپنی شر انگیز حرکات سے باز نہ آیا اور مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں اور دراندازی کرتا رہا، جس کا پاکستان نے بھی ہر موقع پر منہ توڑ جواب دیا۔ انڈیا نے اپنے روایتی گھٹیا پن اور پاکستان کے ساتھ دشمنی کے تحت 7مئی 2025ء کو پاکستان پر حملہ کر دیا اور پہ در پہ مزائل داغے، مگر اس کو یہ علم نہ تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنا دفاع کرے گا، بلکہ انڈیا کو ناکوں چنے بھی چبوائے گا۔ پاکستانی فوج نے’’ بیان مرصوص‘‘ کے نام سے انڈیا کے خلاف آپریشن شروع کیا اور پاکستان کے بہادر سپوتوں نے رافیل جیسے جدید جنگی جہازوں کو مار گرا کر انڈیا کو دھول چٹا دی اور انڈیا مجبور ہو کر دنیا کے آگے رحم کی اپیلیں کرنے لگا کہ اس کو پاکستان سے بچایا جائے۔ پاکستان کی بری، بحری اور ہوائی فوج نے غیر معمولی مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کو شکست سے دوچار کیا۔ انڈیا کے خلاف پاکستان نے اپنی اس جیت کو معرکہ حق کا نام دیا۔ معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، مگر قوم میں آج بھی وہی جذبہ اور عزم قائم ہے۔ ایک سال قبل دشمن نے پاکستان کے خلاف جو اشتعال انگیزی کی تھی اس کے جواب میں شروع ہونے والا معرکہ حق آج تاریخی حیثیت کا حامل ہے اور دنیا میں اس معرکے کو سنہرے حروف میں میں لکھا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے جوانوں نے بھارتی جارحیت کا موثر جواب دے کر دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا اور پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر بنا دیا۔ دشمن کے ڈرونز اور مورچوں کو نشانہ بنا کر واضح پیغام دیا گیا کہ دفاعِ وطن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ یہ معرکہ حق صرف انصاف اور ظلم کے درمیان جنگ نہیں تھی بلکہ اس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ پاکستانی قوم اپنے ملک کی خاطر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ ہمیں فخر حاصل ہے کہ ہم نے ناپاک دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایسا جواب دیا جسے قومی اور بین الاقوامی میڈیا پر بھی دیکھا گیا، جہاں دشمن کو پسپائی اختیار کرتے ہوئے سفید جھنڈے لہراتے دیکھا گیا، جو کہ ایک پاکستانی اور مسلمان کے لیے فخر کی بات ہے۔
اس معرکے میں صرف فوجی جوان ہی نہیں، بلکہ پاکستان میں بسنے والے شہری بھی ثابت قدم رہے۔ گولہ باری کے باوجود ان کے حوصلے بلند رہے۔ ہم بڑھ چڑھ کر پاکستان کی مدد کریں گے یہاں تک کہ ضرورت پڑنے پر جان و مال، خون کی قربانی اور لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ فوج اور عوام کے درمیان یہی اتحاد معرکہ حق کی اصل کامیابی ہے، ایک ایسا رشتہ جو ہر آزمائش میں مزید مضبوط ہوا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں آج بھی وہی جذبہ، وہی تیاری اور وہی یکجہتی موجود ہے۔ معرکہ حق نے ثابت کر دیا کہ بھارت کو عبرت ناک شکست دینے کے لیے ہر پاکستانی متحد اور شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
چکوال میں بھی جنگی حالات سے نمٹنے کی لیے ضلعی انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر سارہ حیات کی قیادت میں ہنگامی اقدامات کئے اور ہمہ وقت کسی بھی ایمرجنسی کے لئے تیار رہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور تمام عملہ 24 گھنٹے موجود رہا۔ ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور نیز ہر ادارہ مکمل تیار اور چاک و چوبند تھا۔ چکوال کی عوام نے انڈیا کی طرف سے بھیجے گئے ڈرونز کو مار گرایا۔ چکوال کو غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین کا اعزاز حاصل ہے، جس کی وجہ سے چکوال کے عوام کا جذبہ حب الوطنی دیدنی تھا۔ چکوال کی سیاسی قیادت بھی شانہ بشانہ ہر موقع پر موجود تھی اور عوام کا حوصلہ بڑھا رہی تھی۔ معرکہ حق صرف ایک جنگی جیت نہیں ہے، بلکہ دنیا میں پاکستان کی پہچان کی وجہ ہے اور پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے اپنی اس جیت سے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، مگر اگر کسی نے اس امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو پھر اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، جس کا عملی مظاہرہ معرکہ حق ہے۔





