ظلم سے بچیں

ظلم سے بچیں
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
کسی نے کہا ہے کہ اس زندگی میں آپ ہمیشہ اکیلے تن تنہا ہی سب کچھ سیکھیں گے، سوائے ظلم کے۔ ظلم ایک ایسی چیز ہے، جو دوسرے لوگ آپ کو کرنا سکھائیں گے۔ انسان زندگی کے بیشتر اسباق خود اپنے تجربات سے سیکھتا ہے۔ مگر ظلم، ناانصافی، جبر یا برائی اکثر معاشرے، ماحول یا دوسروں کے اثر اور رویوں سے سیکھی جاتی ہے۔ یعنی یہ ایک سماجی اور اخلاقی تنقید ہے کہ برائی انسان کی فطرت سے زیادہ، ماحول کی پیداوار ہو سکتی ہے۔ مگر ظلم سے بچنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ دنیا اور آخرت دونوں میں ہلاکت اور رسوائی کا باعث ہے۔ اسلام میں عدل و انصاف پر بہت زور دیا گیا ہے اور ظلم کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں ہے۔ ظالم کے ظلم کا وبال اسی پر آتا ہے۔ نبی کریم ٔ نے فرمایا کہ مظلوم کی بد دعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا، یعنی یہ فوری قبول ہوتی ہے۔
رات کے پچھلے پہر ایک بادشاہ اپنے محل کی بلند فصیل پر تنہا کھڑا تھا۔ نیچے شہر سو رہا تھا مگر اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دی تھی، جنگیں جیتی تھیں، بغاوتیں کچلی تھیں، مگر آج اسے ایک سوال نے بے چین کر رکھا تھا۔ اس نے اپنے وزیرِاعظم کو بلایا اور پوچھا’’ میں نے سب کچھ سیکھ لیا، حکمرانی، جنگ، سیاست مگر یہ ظلم کیوں میرے ہاتھوں سے سیکھا گیا؟ یہ ہنر مجھے کس نے دیا ؟‘‘َ وزیر خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا’’ جہاں حضور نے انصاف خود سیکھا، وہاں ظلم آپ نے دوسروں کو دیکھ کر یا لوگوں کے رویوں سے سیکھا‘‘۔
انسان کی زندگی کا عجیب المیہ یہ ہے کہ وہ چلنا خود سیکھتا ہے، گر کر اٹھنا خود سیکھتا ہے، محبت کرنا خود دریافت کرتا ہے، مگر ظلم، ظلم وہ ہمیشہ سیکھتا ہے۔ کسی معاشرے، کسی نظام سے یا لوگوں سے۔
قدیم چینی کہاوت ہے: اگر تم بچے کو خاموشی میں رکھو گے تو وہ امن سیکھے گا، اگر تم اسے شور میں رکھو گے تو وہ شور بن جائے گا۔ عرب دنیا میں کہا جاتا ہے۔ لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں۔ یورپ کی ایک مثل ہے۔ Power corrupts, but example teaches corruption faster۔ گویا طاقت بگاڑتی ہے، مگر مثال زیادہ تیزی سے بگاڑ سکھاتی ہے۔
افلاطون نے کہا تھا کہ انسان ریاست کا عکس ہوتا ہے۔ ارسطو نے اسے مزید آگے بڑھایا اور کہا کہ کردار عادتوں سے بنتا ہے، اور عادتیں ماحول سے۔ شوپنہاور نے انسان کو اندھی خواہشات کا اسیر کہا، مگر وہ خواہشات بھی تنہا پیدا نہیں ہوتیں۔ انہیں سماج خوراک دیتا ہے۔ نطشے نے ارادہ قوت کی بات کی، مگر یہ ارادہ بھی تبھی ظالمانہ بنتا ہے، جب اسے کوئی اخلاقی لگام نہ دے۔ سارتر نے کہا انسان آزاد ہے، مگر یہ آزادی اکثر دوسروں کی آزادی کچل کر استعمال کی جاتی ہے۔ کیونکہ ہم نے یہی سیکھا ہوتا ہے۔ ٹالسٹائی نے لکھا کہ سب لوگ دنیا بدلنا چاہتے ہیں، مگر خود کو نہیں۔ دوستو ئیفسکی نے انسان کے اندر کے اندھیرے کو بے نقاب کیا، مگر ساتھ یہ بھی بتایا کہ یہ اندھیرا اکثر حالات کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ کافکا کے کردار اس نظام کے شکار ہیں، جو انہیں بے چہرہ بنا دیتا ہے۔ اور مارکز کی دنیا میں ظلم ایک جادوئی حقیقت کی طرح نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کبھی تنہائی میں جنم نہیں لیتا۔ چنگیز خان پیدا ضرور تنہا ہوا، مگر اس کے اندر کی سفاکی اس کے ماحول، قبائلی نظام اور مسلسل بقا کی جنگوں نے تراشی۔ ہٹلر ایک فرد تھا، مگر نازی ازم ایک پورا سماجی بیانیہ تھا۔ ظلم ہمیشہ اجتماعی تربیت کا نتیجہ بنتا ہے، انفرادی دریافت کا نہیں۔
نفسیات اس پہلو کو مزید واضح کرتی ہے۔ کارل یونگ کے مطابق ہر انسان کے اندر ایک ’’ سایہ‘‘ ( Shadow) ہوتا ہے۔ تاریک حصہ۔ مگر یہ سایہ تب طاقتور بنتا ہے جب معاشرہ اسے جواز دیتا ہے۔ وکٹر فرانکل، جس نے اذیت گاہوں میں زندگی گزاری، لکھتا ہے کہ انسان سے سب کچھ چھینا جا سکتا ہے، سوائے اس کے ردِعمل کے۔ مگر وہ یہ بھی مانتا ہے کہ جب پورا نظام ظلم کو معمول بنا دے تو فرد کے لیے مزاحمت غیر معمولی ہو جاتی ہے۔
سائنس بھی اسی نتیجے پر پہنچتی ہے۔ نیوروسائنس بتاتی ہے کہ انسانی دماغ میں مرر نیورونز ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کے رویے کو دیکھ کر خود بھی ویسا ہی کرنے لگتے ہیں۔ ایک بچہ اگر محبت دیکھے گا تو محبت سیکھے گا، اگر تشدد دیکھے گا تو تشدد۔ یعنی ظلم ایک سیکھا ہوا ردِعمل ہے، کوئی پیدائشی جبلت نہیں۔
قدرت کے قوانین بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔ پانی اپنی فطرت میں شفاف ہوتا ہے، مگر اگر اسے گندے برتن میں رکھا جائے تو وہ بھی آلودہ ہو جاتا ہے۔ ہوا بے رنگ ہوتی ہے، مگر دھواں اسے سیاہ کر دیتا ہے۔ انسان بھی اپنی اصل میں معصوم ہوتا ہے، مگر ماحول اسے بدل دیتا ہے۔
ادب اور شاعری نے اس سچ کو بارہا بیان کیا ہے۔ رومی کہتی ہیں۔ تو برائے وصل کردن آمدی نے برائے فصل کردن آمدی یعنی تم جوڑنے کے لیے آئے تھے، توڑنے کے لیے نہیں۔ مگر ہم توڑنا سیکھ جاتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے۔ غالب کا شکوہ بھی یہی ہے۔ بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا۔ انسان بننا مشکل ہے، کیونکہ معاشرہ ہمیں آسان راستہ سکھاتا ہے۔ دھوکہ، بیمانی، ظلم، جبر، اور خود غرضی کا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں اصل سوال جنم لیتا ہے۔ اگر ظلم سیکھا جاتا ہے، تو کیا اسے ان سیکھا (unlearn)بھی کیا جا سکتا ہے؟ جواب آسان نہیں، مگر ممکن ضرور ہے۔ اس کا آغاز فرد سے ہوتا ہے، مگر انجام معاشرے پر ہوتا ہے۔ ایک باپ اگر اپنے بیٹے کے سامنے انصاف کرے تو وہ انصاف سیکھے گا۔ ایک استاد اگر دیانت دکھائے، تو شاگرد دیانت سیکھے گا۔ ایک حکمران اگر عدل کرے تو قوم عدل کو اپنائے گی۔
بادشاہ فصیل سے نیچے اترا۔ اس نے اگلے دن ایک حکم جاری کیا۔ ہم اپنی سلطنت میں انصاف سکھائیں گے، تاکہ ظلم خود بخود ختم ہو جائے۔ وزیر نے مسکرا کر کہا۔ حضور، یہی وہ سبق ہے جو دراصل آپ کو سیکھنا تھا۔ اور دوسروں کو سکھانا تھا۔
زندگی کا سچ شاید اتنا ہی ہے۔ ہم تنہا سیکھتے ہیں کہ کیسے جینا ہے، مگر ہم مل کر سیکھتے ہیں کہ کیسے برباد کرنا ہے۔ اگر انسانیت کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھانا کہ طاقت کیا ہے، بلکہ یہ سکھانا ہے کہ طاقت کا استعمال کیسے نہ کیا جائے۔ کیونکہ ظلم کبھی اکیلا نہیں آتا۔ وہ ہمیشہ کسی مسئلے کسی غلط ساتھی کے ساتھ آتا ہے۔
ریاض ساغر کا شعر ہے کہ
اسی کو سونپ دی ہم نے حفاظت اپنے خیموں کی
وہ آدم خور جو لاشوں کا بیوپاری رہا برسوں





