Column

مہنگائی، آئی ایم ایف اور عوام

مہنگائی، آئی ایم ایف اور عوام
تحریر: رفیع صحرائی
قومیں اس وقت نہیں ٹوٹتیں جب وسائل کم ہوں بلکہ اس وقت بکھرتی ہیں جب انصاف ختم ہو جائے۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اب کوئی وقتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ مسئلہ ایک مستقل احساسِ محرومی میں ڈھل چکا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھے یا بجلی کا بل آئے، ہر نئی خبر عام آدمی کے دل پر ایک نیا بوجھ ڈال دیتی ہے۔ ایسے میں حکومت کا روایتی موقف سامنے آتا ہے: ’’ یہ سب آئی ایم ایف کی شرائط ہیں‘‘۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے یا یہ محض ایک سہل جواز بن چکا ہے؟
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)دنیا بھر کے ممالک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے قرض فراہم کرتا ہے مگر اس قرض کی فراہمی کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی ہوتی ہیں۔ ان شرائط کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا ہوتا ہے نہ کہ عوام کو براہِ راست مہنگائی کے بوجھ تلے دبانا۔ مگر ہمیں حکمرانوں کی طرف سے یہی بتایا جاتا ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی کے کولہو میں پیلنے پر مجبور ہیں کہ یہ آئی ایم ایف کی شرط ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف یہ نہیں کہتا کہ پٹرول مہنگا کرو یا بجلی کے نرخ دوگنے کر دو۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ سبسڈیز کم کی جائیں، ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور مالی خسارہ کم کیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کون سا راستہ اختیار کرتی ہے؟
تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ حکومت ہمیشہ آسان ہدف کو ہی ٹارگٹ کرتی ہے اور وہ آسان ہدف عام آدمی ہے۔ عام آدمی کی حیثیت حکومت کی نظر میں کیڑے مکوڑے سے زیادہ نہیں ہوتی اس لیے وہ ہمیشہ اسے کچلنے پر آمادہ و تیار رہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک مشکل راستا ہوتا ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ بااثر طبقے، بڑے کاروباری گروپس، جاگیرداروں اور ٹیکس چوروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ دوسرا راستہ آسان ہوتا ہے جس میں پٹرول، بجلی اور گیس مہنگی کر کے فوری آمدنی حاصل کی جائے۔
بدقسمتی سے ہماری ہر حکومت ہمیشہ اور ہر بار دوسرا راستہ اختیار کرتی آئی ہے اور کر رہی ہے کیونکہ یہ فوری نتائج دیتا ہے اور مزاحمت بھی کم ہوتی ہے۔ اس اختیار کردہ دوسرے راستی کا خمیازہ عام آدمی بھگتتا ہے۔ وہی عام شہری جس کے لیے سفر مہنگا ہو جاتا ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور روزگار کے مواقع سکڑ جاتے ہیں۔ یوں ایک حکومتی فیصلہ پورے معاشی ڈھانچے کو مہنگائی کی زنجیر میں جکڑ دیتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب عوام پر بوجھ ڈالنے کی بات آتی ہے تو’’ قومی مفاد‘‘ یاد آ جاتا ہے مگر جب حکومتی اخراجات کم کرنے کی بات ہو تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ قوم پر چاہے کتنا بھی مشکل معاشی وقت آ جائے وزراء کی مراعات برقرار رہتی ہیں۔ ہمیشہ سرکاری گاڑیاں پورے کروفر سے سڑکوں پر رواں دواں رہتی ہیں اور مفت ایندھن کی ترسیل جاری و ساری رہتی ہے۔ ججز، بیوروکریٹس اور مراعات یافتہ طبقے کی بھاری تنخواہیں، پروٹوکل، مراعات اور پنشن بدستور قائم رہتی ہے۔ اگر واقعی حکومت عوام پر بوجھ کم کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی صفوں سے آغاز کرنا ہوگا۔ کفایت شعاری کا آغاز ایوانوں سے ہو نہ کہ صرف عوامی اعلانات تک محدود رہے۔ لیکن ہوتا کیا ہے۔ عوام سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار اور مگرمچھ کے آنسو بہا کر انہیں مہنگائی کا ایک اور طاقتور ٹیکہ لگا دیا جاتا ہے۔
مہنگائی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ جب ریاست اپنے کمزور طبقات کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے تو معاشرتی بے چینی جنم لیتی ہے۔ آج ایک دیہاڑی دار مزدور کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو چکا ہے جبکہ امیر طبقہ نسبتاً محفوظ ہے۔ یہ عدم توازن کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ عدم توازن کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی کہ ہر سال بجٹ کے موقع پر عام سرکاری ملازم کی پانچ سے دس فیصد تنخواہ بڑھاتے ہوئے یوں ظاہر کیا جاتا ہے جیسے آئی ایم ایف کی مرضی کے خلاف ڈٹ کر کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا گیا ہے جبکہ جب بجٹ اجلاس سے ہٹ کر اراکین اسمبلی، وزراء اور مشیروں کی فوج کی تنخواہوں اور مراعات میں پانچ سات سو فیصد اضافہ کر دیا جائے تو آئی ایم ایف کو اس پر بالکل بھی اعتراض نہیں ہوتا۔
ہمارے ہاں ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ مہنگائی کے مسئلے کو عوامی مسئلہ کی بجائے سیاسی مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ ایک سابق حکمران کے پیروکار فرمایا کرتے تھے کہ پٹرول خواہ 500روپے لٹر بھی ہو جائے مگر ووٹ ہمارے لیڈر کا ہی ہو گا۔ آج کل یہی پریکٹس موجودہ حکمرانوں کے حمایتی کر رہے ہیں۔ یہی لڑائو اور حکومت کرو کی مشہورِ زمانہ پالیسی ہے جس میں پانچ فیصد متحد طبقہ حکمران اور 95فیصد بکھرا ہوا ہجوم اس پانچ فیصد کا آلہ کار بن کر محکوم بلکہ عملی طور پر غلام بنا ہوا ہے۔
مہنگائی کے مسئلے کا مستقل حل ناممکن نہیں، مگر اس کے لیے سنجیدہ نیت اور واضح حکمتِ عملی درکار ہے۔ اس کے لیے کیڑے مکوڑے سمجھے جانے والے عوام کو انسان سمجھنا ہو گا۔ اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے۔ بڑے سرمایہ داروں اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ سرکاری اخراجات میں حقیقی کمی کی جائے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں تاکہ نقصانات کم ہوں
اور سب سے بڑھ کر، عوام کو سچ بتایا جائے نہ کہ ہر بار آئی ایم ایف کو ڈھال بنا کر اصل حقائق عوام سے چھپائے جائیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اس سلسلے میں عوام کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جن میں ٹیکس دینا، بدعنوانی کی حوصلہ شکنی کرنا اور شعور کے ساتھ اپنے نمائندوں سے سوال کرنا کہ آپ کے محل روشن اور ہماری کٹیا میں اندھیروں کا راج کیوں ہے؟
یہ سب وہ عوامل ہیں جو ایک بہتر نظام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ مہنگائی کا بوجھ اگر یکطرفہ ہو تو وہ ظلم بن جاتا ہے اور اگر منصفانہ تقسیم ہو تو وہ اصلاح کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اصل مسئلہ آئی ایم ایف نہیں بلکہ وہ ترجیحات ہیں جو ہمارے حکمران طے کرتے ہیں۔ اگر ریاست واقعی عوامی فلاح چاہتی ہے تو اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دے؟
’’ قومیں اس وقت نہیں ٹوٹتیں جب وسائل کم ہوں بلکہ اس وقت بکھرتی ہیں جب انصاف ختم ہو جائے‘‘۔

جواب دیں

Back to top button