ColumnTajamul Hussain Hashmi

ہم زندگی میں آگے کیوں نہیں بڑھ پاتے ؟

ہم زندگی میں آگے کیوں نہیں بڑھ پاتے ؟
تحریر : تجمّل حسین ہاشمی
کبھی اکیلے بیٹھ کر سوچیں کہ ہماری ترقی، خوشحالی میں کون کون سی رکاوٹیں ہیں، ہم کیوں ترقی نہیں کر سکے، آپ کے قریب ایسے لوگوں ہوں گے جو آپ کے ساتھ رہ کر پورے سکون زندگی گزار رہے ہیں، لیکن آپ پریشان حال ہیں ؟ حالانکہ زندگی کے کئی سال آپ نے ایک دوسرے کے ساتھ گزارے ہوں گے۔ آپ کی ترقی میں رکاوٹ کا ذمہ دار کون ہے ؟۔ یہ دو اہم سوال ہیں ، ان کا جواب آپ کی خوشحالی کا راستہ متعین کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ بظاہر انسان کی ترقی کا سب سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں خود انسان کی اپنی سوچ ہے۔ آپ سوچیں کہ آپ کی سوچ میں ایسی کیا کمی ہے جس کی وجہ سے آپ پریشان حال ہیں۔ وہ کمی بھی آپ کو معلوم پڑ جائے گی۔ ہمارے اردگرد کئی خوشحال لوگ موجود ہیں، ان کی خوشحالی کا پیمانہ ہمارے معاشرے میں مختلف چیزوں کو سمجھا جاتا ہے، مثلا ’’ وہ ایک امیر باپ کا بیٹا ہے، بھائیوں کے پاس تگڑا مال ہے، اس کے سسرال والے تگڑے لوگ ہیں، یار بڑا رشوت خور ہے، سرکاری فنڈز چاٹ کر مال جمع کیا ہے ، سرکاری زمینوں پر قبضے سے مال بنایا ہے‘‘۔
ہم لوگ زیادہ تر ایسی منفی سوچوں کو اپنے دماغوں میں بیٹھا لیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہماری سوچیں ایک سمت منجمد ہو جاتی ہیں اور ترقی کے دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ زندگی میں دیگر کئی واقعات جن کو معجزات کہا جاتا ہے۔ جیسے ماں کی دعائوں کو بھی ترقی کا سہرا گنا جاتا ہے، ہمارے معاشرے میں ایسی مثبت سوچ بہت کم لوگوں کے پاس ہے، جو اپنی ترقی و کامیابی کو خدائی انعام سمجھتے ہیں اور خود کو مثبت رکھ کر آگے بڑھتے ہیں، بیشک ان کو چال سست لیکن ترقی دیر پا ہوتی ہے۔
ایک حقیقی سچائی ہے، دنیا کی ہر ماں اپنے بچے کی کامیابی کیلئے دعا گو رہتی ہے، ماں غریب کی ہو یا کسی امیر کی ، اولاد سے محبت کا کوئی نعم البدل نہیں، وہ اپنے بچوں کے سکھ کیلئے فکر مند رہتی ہے۔ ماں کی محبت کو اللّہ نے اپنی محبت سے تشبیہ دے کر مخلوق کو سمجھایا کہ تمہارا خالق کتنا رحم اور مہربان ہے تاکہ انسان کو سمجھ آسکے کہ اللّہ اپنے بندے سے کتنا پیارا کرتا ہے۔ اللّہ پاک بھی انسان کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔ انسان کی ترقی،، اس کی خوشحالی میں رکاوٹیں کون سی ہیں، ان کا تعین کرنا آسان نہیں، انتہائی مشکل امر ہے ، یہ بندے کو خود ہی کرنا ہے، دنیا بھر کے واقعات، مشاہدات انسانی آنکھوں کے سامنے ہیں، ان مشاہدات کے پیش نظر ہم یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ یہ کام کرنے سے انسان ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے، ہر ماں اپنے بچے کے لئے دعا گو ہے، لیکن کئی بچے ماں کی دعائوں کے بعد بھی ناکام زندگی گزارتے ہیں، وقتی ناکامی کو قسمت پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، اور اسی حال میں رہنا چاہتے ہیں جہاں بے بسی اور مجبوری ہے۔
میں محسوس کرتا ہوں کہ بچپن سے جوانی تک کے سفر میں انسان کی ترقی میں اس کے والدین کی سوچیں اور ان کی مضبوط پلاننگ کا اہم کردار ہے، یہ ایک پہلا قدم ہے جہاں زیادہ فیصد والدین کمزور نظر آتے ہیں، اس کمزوری کا بڑا سبب ہماری حکومتوں کی غلط پالیسیوں ہیں، جب تک تعلیم نہیں ہو، فرد ترقی نہیں کر سکے گا۔ لیکن جتنی عمر اور خرچ تعلیم پر آتا ہے اس کا مادی صلہ ہمارے ہاں نہیں ملتا، اس لیے زیادہ تر بوجھ والدین کے کندھوں پر رہتا ہے۔ والدین کو بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کی حد کا تعین کرنا لینا چاہئے، حد کے تعین کے بعد بچے کو خود ذمہ داری اٹھانے اور فیصلہ سازی کرنے دیں تاکہ وہ کامیابی کی طرف بڑھ سکے۔ ہمارے ہاں فیصلہ سازی کا زیادہ فیصد کنٹرول والدین اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی حیات تک ایسا ہی چاہتے ہیں، والدین خود اپنے بچوں کو ترقی کی دوڑ سے باہر نکال دیتے ہیں۔ فیصلہ سازی کے وقت بچوں کو بچہ کہہ کر الگ کر دیا جاتا ہے، جو میری نظر میں مناسب عمل نہیں۔ ہمارے ہاں جتنا تعلیم پر زور ہے، اتنا زور اگر فنی تعلیم یا تہذیب پر دیا جاتا تو شاید عام فرد کی معاشی صورتحال مختلف ہوتی ۔ وقت پر نہ لیا گیا فیصلہ نقصان کا باعث بنتا ہے ، اگر والدین بچے کو وقت پر ذمہ داری، فیصلہ سازی کرنے دیں تو غربت میں یقینا کمی ہو گی، ہمیں بچوں کو فنی تعلیمی کے ساتھ منی میکنگ ٹیکنیک میں مہارت دینے کی ضرورت ہے، ہمارے ہاں بچے کی شادی کے بعد تک والدین ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ ایسے خاندان یا معاشرے مضبوطی کی کبھی علامت نہیں بن سکتے۔
جدید ٹیکنالوجی، انٹرنیشنل معاشی حالات نے ترقی پذیر ملکوں کی سالمیت کے لیے خطرہ کی گھنٹی بجا دی ہے، ان ممالک میں بسنے والے ہر فرد کیلئے صحت، تعلیم روزگار اور بہتر سہولیات کا حصول ناگزیر ہوتا جا رہا ہے، ایسے حالات میں گھر کے ہر فرد کو منی میکنگ کرنی پڑے گی۔ حکومتی پالیسی پر انحصار کا فقدان ہے اور مسلسل رہے گا، حکومتی اثرات عام فرد کو متاثر کرتے رہیں گے، فی الحال کسی بڑی تبدیلی کے آثار دور تک نظر نہیں آ رہے، جن آسانیوں یا انصاف پر مبنی معاشرے کے متعلق ہماری سوچ ہے ویسے ممکن نہیں، کیوں کہ ہمارے ہاں مقتدر شخصیات کا سخت قبضہ ہے، ہمارے ہاں ہر شعبے کو ہائی جیک کیا جا چکا ہے، ہائی جیکر اتنی آسانی سے کنٹرول نہیں ہوں گے، اصول پسند افراد مٹی چاٹ رہے ہیں اور ڈاکو راج کر رہے ہیں، جب تقسیم و تفریق اور بر وقت انصاف میسر نہیں ہو گا خوشحالی ممکن نہیں ہے، اس خوشحالی کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے یہ اہم ہے، ہمیں اپنی نسلوں کو فنی تعلیم کے ساتھ ابتدائی سالوں میں منی میکنگ ٹیکنیک دینا ہو گی، تاکہ مشکل حالات سے متاثر نہ ہوں۔ ویسے دولت سکون کا باعث نہیں، زندگی کی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ زندگی میں سکون اطمینان صرف اللّہ پاک کے احکامات کی بروقت تکمیل اور سچ گوئی ہے، بس انسان کی آخری منزل وہی زمین کا ٹکڑا ہے، جہاں کوئی سہولت نہیں، بس ہمارے اعمال سہارا ہوں گے۔

جواب دیں

Back to top button