Column

پاکستان میں سچ کی قیمت

پاکستان میں سچ کی قیمت
شہرِ خواب ۔۔۔ صفدر علی حیدری۔۔۔
ہر سال 3مئی کو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیِ صحافت منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض تقاریر یا سیمینارز تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جب ہر معاشرے کو اپنے ضمیر کے آئینے میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ سچ کو برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے یا نہیں۔
صحافت کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی ہے، لیکن اگر یہی ستون لرزنے لگے تو پوری عمارت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
آزادیِ صحافت سے مراد صرف اخبارات کی اشاعت یا ٹی وی چینلز کی نشریات نہیں، بلکہ یہ اس بنیادی حق کا نام ہے جس کے تحت عوام تک وہ معلومات پہنچتی ہیں جو ان کی زندگی اور ریاستی فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایک آزاد میڈیا حکمران اور عوام کے درمیان وہ پل ہے جو شفافیت کو قائم رکھتا ہے۔ جب اس پل پر پہرے بٹھا دئیے جائیں تو دراصل عوام کی آواز کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں صحافت کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد مختلف ادوار میں صحافت کو دبانے کی منظم کوششیں کی گئیں۔
ایوبی دور میں پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس (PPO)جیسے سخت قوانین کے ذریعے میڈیا کو قابو میں رکھا گیا۔ یہ دور سنسرشپ اور جبر کی علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں اخبارات کے صفحات خالی چھوڑ دیے جاتے تھے اور صحافیوں کو سخت سزاں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
مشرف دور (2002ء کے بعد) میں نجی میڈیا نے تیزی سے ترقی کی، جس نے بظاہر آزادی دی، مگر ساتھ ہی ریٹنگ کی دوڑ اور نئے قسم کے دبائو بھی پیدا کیے۔
پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں صحافت ایک پیشہ کم اور ایک خطرناک مشن زیادہ بن چکی ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں درجنوں صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سلیم شہزاد سے لے کر ارشد شریف تک، سچ کی تلاش میں نکلنے والے کئی نام اب صرف یادوں میں رہ گئے ہیں۔
اسلام آباد جیسے نسبتاً محفوظ شہروں میں بھی صحافیوں کو اٹھانا، دھمکانا یا تشدد کا نشانہ بنانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کو خاموش کرنا نہیں ہوتا بلکہ پوری صحافتی برادری میں خوف پھیلانا مقصد ہوتا ہے۔
بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اندرونِ سندھ میں صحافی دوہرے دبائو میں کام کرتے ہیں، ریاستی اداروں اور غیر ریاستی عناصر دونوں کی طرف سے۔
اب آزادیِ صحافت کے لیے سب سے بڑا خطرہ جسمانی نہیں بلکہ معاشی دبائو ہے۔
حکومتی اور نجی ادارے اشتہارات کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ جو ادارہ یا صحافی ’’ لائن‘‘ سے ہٹ کر رپورٹنگ کرے، اس کے مالی وسائل محدود کر دئیے جاتے ہیں۔
نتیجتاً وہ صحافی متاثر ہوتا ہے جس کے گھر کا چولہا اسی روزگار سے جلتا ہے۔ ایک معاشی طور پر مجبور صحافی حقیقی معنوں میں آزاد نہیں رہ سکتا۔
سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی آسان کی ہے، وہیں کئی نئے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔
سائبر ہراسمنٹ: خاص طور پر خواتین صحافیوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ انہیں عوامی منظرنامے سے دور کیا جا سکے۔
جھوٹی خبریں: سنسنی خیزی اور فیک نیوز نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو دھندلا دیا ہے، جس سے عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے۔
پاکستان میں پیکا جیسے قوانین اکثر صحافیوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ ’’ قومی سلامتی‘‘ یا ’’ ریاستی اداروں کی تضحیک‘‘ جیسے مبہم الزامات کے تحت تنقیدی آوازوں کو دبایا جاتا ہے۔
یہ صورتحال آزادیِ اظہار کے بنیادی تصور کے لیے ایک سنجیدہ سوال کھڑا کرتی ہے۔
آزادی کا مطلب ہرگز بے لگامی نہیں۔ صحافت کو اپنے اخلاقی اصولوں پر بھی قائم رہنا چاہیے۔خبر کی تحقیق اور تصدیق لازم ہے۔
محض ’’ بریکنگ نیوز‘‘ کی دوڑ میں کسی کی کردار کشی صحافت نہیں۔ صحافی کو کسی سیاسی جماعت کا ترجمان نہیں بلکہ سچ کا نمائندہ ہونا چاہیے۔
پاکستان میں آزادیِ صحافت ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ جب تک ریاست صحافیوں کو دشمن کے طور پر دیکھنے کے بجائے معاشرتی اصلاح کا ذریعہ نہیں سمجھے گی، تب تک یہ آئینہ دھندلا ہی رہے گا۔3مئی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سچ بولنے کی قیمت اگرچہ بہت زیادہ ہے، مگر سچ کو دبانے کی قیمت ایک پورے معاشرے کی تباہی کی صورت میں اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
اگر ہم ایک روشن اور مستحکم پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں ان ہاتھوں کو مضبوط کرنا ہوگا جو قلم اٹھاتے ہیں، نہ کہ ان ہاتھوں کو جو قلم توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آزادی، افسانچہ
اس شہر میں ہر دیوار کے کان تھے، مگر زبان صرف ان کی تھی جن کے پاس طاقت تھی۔ باقی سب لوگ بولتے نہیں تھے، صرف سانس لیتے تھے، احتیاط کے ساتھ۔
وہ نوجوان صحافی ہر روز پرانے ٹائپ رائٹر پر سچ کی دستک دیتا تھا۔ کمرہ چھوٹا تھا، مگر اس کی سوچ کی طرح بے خوف۔ اس کی خبریں اخبار کے کسی کونے میں دب کر چھپتیں، مگر ایوانوں میں ہلچل مچا دیتیں۔
وہ جانتا تھا کہ لفظ صرف لفظ نہیں ہوتے، بعض اوقات یہ گولی سے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔
ایک رات فون کی گھنٹی بجی۔
نمبر نامعلوم تھا۔
دوسری طرف سے ایک سرد آواز آئی: آزادیِ اظہار ایک خواب ہے میاں، اور اس شہر میں خواب دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ حقیقت صرف خاموشی ہے۔
کال ختم ہو گئی، مگر کمرے میں دیر تک ایک انجانی سی خاموشی بولتی رہی۔
اگلے دن اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی رپورٹ فائل کی۔
وہ رپورٹ نہیں تھی، ایک آئینہ تھا، جس میں طاقتور چہروں کی اصل شکلیں دکھائی دے رہی تھیں۔
شام ڈھلتے ہی وہ گھر لوٹا۔ گلی معمول سے زیادہ سنسان تھی، جیسے شہر نے سانس روک رکھی ہو۔ اندھیرا دیواروں سے بھی آگے بڑھ آیا تھا۔
چند سائے حرکت میں آئے اور پھر ایک لمحے میں سب کچھ ٹوٹ گیا، خاموشی بھی، روشنی بھی، اور شاید امید بھی۔اگلے دن اخبار کی سرخی تھی: ’’ ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد‘‘، لیکن اس خبر کے نیچے اس کی وہ رپورٹ کہیں نہیں تھی۔
حقیقت یہ تھی کہ خبر مر چکی تھی، مگر سچ نہیں۔
اس کا خون سڑک پر اب بھی سوال بن کر پڑا تھا، اور شہر کے لوگ اس سوال سے نظریں چراتے تھے۔
کیونکہ اب یہاں صرف خوف نہیں تھا، عادت بھی تھی۔
اور شہر کی فضا میں ایک ان کہی سی حقیقت تیر رہی تھی: کہ اس شہر میں آزادی اب بھی زندہ تھی، مگر صرف ان کے لیے جو بولتے نہیں تھے۔
قتیل، نے کیا خوب کہا تھا:
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھوں میں قلم پائوں میں زنجیریں ہیں

جواب دیں

Back to top button