Column

پنشن کا بحران یا افواہوں کا طوفان؟

پنشن کا بحران یا افواہوں کا طوفان؟
تحریر: رفیع صحرائی
ریاستیں افواہوں پر نہیں، حقائق اور تدبر پر چلتی ہیں اور دانش مند وہی ہے جو شور میں بھی سچ کی آواز پہچان لے۔سوشل میڈیا کے اس دور میں خبر اور افواہ کے درمیان فرق کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آج کل ایک ایسی ہی خبر گردش کر رہی ہے جس نے لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے وفاقی و صوبائی ملازمین کو یکمشت پنشن دے کر فارغ کرنے، ماہانہ پنشن سسٹم ختم کرنے اور حتیٰ کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرنے جیسے بڑے فیصلے کر لیے ہیں۔ بظاہر یہ خبر نہ صرف چونکا دینے والی ہے بلکہ اس کے مضمرات بھی نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ممکن ہے یا محض ایک سنسنی خیز افواہ؟آئیے پہلے تو اس خبر یا افواہ کا غیر جانبداری سے تجزیہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ حقیقت کہاں کھڑی ہے؟اگر اس خبر کو زمینی حقائق کے آئینے میں پرکھا جائے تو کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی اس پوزیشن میں ہے کہ لاکھوں پنشنرز کو یکمشت ادائیگی کر سکے؟ دستیاب محتاط اندازوں کے مطابق اس وقت ملک میں وفاق، صوبوں اور افواج کے ملا کر قریباً 50لاکھ پنشنرز موجود ہیں جبکہ 37سے 40لاکھ کے قریب حاضر سروس ملازمین بھی ہیں۔
اگر محض ایک مثال لی جائے کہ ایک پنشنر جس کی ماہانہ پنشن ایک لاکھ روپے ہے اور اسے 10سے 12سال کی متوقع پنشن ایک ساتھ ادا کرنی ہو، تو فی فرد رقم کروڑوں میں جا پہنچتی ہے۔ اب اگر اسی پیمانے کو لاکھوں افراد پر لاگو کیا جائے تو مجموعی رقم کھربوں روپے تک جا سکتی ہے۔ ایک ایسی معیشت، جو پہلے ہی قرضوں اور مالی خسارے کے بوجھ تلے دبی ہو، کیا اس قسم کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی معیشتیں بھی ایسے فیصلے سے گریز کرتی ہیں۔ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا لکھنے یا سننے میں لگتا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کا محکمہ ختم کیا ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد 6ہزار سے بھی کم تھی۔ 4459ملازمین کو ادائیگی کی لسٹ میں شامل کیا گیا۔ ادائیگی کی رقم کا تخمینہ 19.5ارب روپے لگایا گیا لیکن اس رقم کی ادائیگی بھی تین اقساط میں دینے کا فیصلہ ہوا۔ پہلی قسط 40فیصد، دوسری قسط 30فیصد اور تیسری قسط بھی 30فیصد کے حساب سے دی جائے گی۔ فارغ ہونے والے ملازمین کو ابھی تک پہلی قسط کی ادائیگی بھی مکمل نہیں کی جا سکی۔اب آتے ہیں موجودہ مسئلے کی طرف۔ اوسط عمر کا سوال بھی ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ یکمشت پنشن کے تصور میں ایک بنیادی خامی یہ بھی ہے کہ حکومت کسی فرد کی زندگی کا درست تعین نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں اوسط عمر قریباً 66سے 67سال ہے جبکہ اندازاً صرف35 سے 45فیصد افراد ہی 70سال کی عمر تک پہنچ پاتے ہیں۔ اگر حکومت کسی اوسط عمر کو بنیاد بنا کر ادائیگی کرے تو وہ افراد جو اس حد سے زیادہ زندہ رہیں گے، ان کے لیے کیا لائحہ عمل ہو گا؟ کیا انہیں نظر انداز کر دیا جائے گا؟ یہ نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بن سکتا ہے۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا حکومت واقعی پنشن ختم کرنا چاہتی ہے؟ تو یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان میں پنشن کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور حکومت اس سے نمٹنے کے لیے مختلف اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کی جانب سے بھی اخراجات کم کرنے کی تجاویز دی جاتی رہی ہیں۔ تاہم یہ اصلاحات عموماً مستقبل کی بھرتیوں، کنٹریبیوٹری پنشن اسکیمز یا ملازمت کے نئے ڈھانچوں تک محدود ہوتی ہیں نہ کہ موجودہ لاکھوں ملازمین اور پنشنرز کو یکلخت نظام سے نکال دینے تک۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے لیے زیادہ قابلِ عمل راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ نئی بھرتیوں کو کنٹریکٹ یا کنٹریبیوٹری بنیادوں پر لایا جائے۔ موجودہ پنشنرز کو مرحلہ وار برداشت کیا جائے اور وقت کے ساتھ پنشن کا بوجھ قدرتی طور پر کم ہونے دیا جائے۔ یعنی پنشنرز کی وفات کی صورت میں یہ بوجھ کم ہونے دیا جائے۔
اب بات کرتے ہیں کہ اگر حکومت اس پوزیشن میں ہے ہی نہیں کہ مجوزہ تجویز پر عمل درآمد کر سکے تو پھر اس طرح کی افواہوں کا مقصد کیا ہے۔ کیا اس کا مقصد اضطراب پھیلانا ہے یا حکومت کے لیے آزمائش پیدا کرنا ہے۔ اگر یہ افواہ ہے تو ایسی افواہیں پھیلاتا کون ہے؟
یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس قسم کی خبریں اکثر کسی نہ کسی مخصوص مقصد کے تحت پھیلائی جاتی ہیں۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی ایک بڑی تعداد معاشرے کا حساس طبقہ ہے جس میں بے چینی پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔ ایسے میں غیر مصدقہ خبروں کا پھیلا نہ صرف ذہنی اضطراب کو بڑھاتا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اس طرح کی خبر پھیلانے کے مقاصد سیاسی بھی ہو سکتے ہیں اور بعض شرپسند عناصر افواہیں پھیلا کر عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا کر کے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ رویہ ہر لحاظ سے نامناسب ہے۔ عوام کو بھی افواہ سازوں کا شکار ہو کر ہر بات پر اندھا یقین کرتے ہوئے اسے آگے بڑھانے سے پہلے حقائق پر تھوڑا غور کر لینا چاہیے کہ کیا عملی طور پر ایسا ممکن بھی ہے۔
موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو ہر خبر پر آنکھ بند کر کے یقین کیا جائے اور نہ ہی ہر حکومتی اقدام کو سازش سمجھا جائے۔ پنشن کا مسئلہ یقیناً ایک سنجیدہ معاشی چیلنج ہے مگر اس کا حل اتنا سادہ اور یکطرفہ نہیں ہو سکتا جتنا سوشل میڈیا پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو چاہیے کہ وہ افواہوں سے متاثر ہونے کے بجائے مستند ذرائع پر انحصار کریں اور اپنے معاملات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ بسا اوقات شور زیادہ ہوتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس نہایت خاموشی سے اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ ریاستیں افواہوں پر نہیں، حقائق اور تدبر پر چلتی ہیں اور دانشمند وہی ہے جو شور میں بھی سچ کی آواز پہچان لے۔

جواب دیں

Back to top button