’’ انرجی ڈپلومیسی‘‘ کا نیا محور

’’ انرجی ڈپلومیسی‘‘ کا نیا محور
قادر خان یوسف زئی
آج جب دنیا کے نقشے پر آبنائے ہرمز کی لہریں بارود کی بو اور سیاسی عدم تحفظ کی دھول سے اٹی ہوئی ہیں، تو یہ صرف ایک آبی گزرگاہ کی بندش نہیں بلکہ اس قدیم عالمی نظام کی آخری ہچکی ہے جو دہائیوں سے ’’ سیاہ سونے‘‘ یعنی تیل کی بیساکھیوں پر کھڑا تھا۔ ایران کی جنگ اور ہرمز کے محاذ پر چھائے ہوئے کالے بادلوں نے دنیا کو اس تلخ حقیقت سے روشناس کرا دیا ہے کہ توانائی کا حصول اب محض معاشی ضرورت نہیں بلکہ بقا کی جنگ بن چکا ہے۔ ہمیں اقتدار کے ایوانوں سے لے کر عام آدمی کی زندگی تک ایک ایسا ارتعاش نظر آتا ہے جوفوسل فیول سے الیکٹرک ٹیکنالوجی کی طرف ہجرت کی داستان سنا رہا ہے۔ یہ ہجرت کسی شوق کا نتیجہ نہیں بلکہ تاریخ کے اس جبر کا شاخسانہ ہے جس نے تیل کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا کر غریب اور متوسط ممالک کے چولہے ٹھنڈے کر دئیے ہیں۔ اس گھمبیر صورتحال میں جہاں مغرب اپنی توانائی کی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ اپنے وجود کی جنگ لڑ رہا ہے، ایک ملک ایسا ہے جس نے اس بحران کو اپنی طاقت میں بدل دیا ہے۔ چین، جسے آج کی دنیا میں ’’ گرین سپر پاور‘‘ کہنا مبالغہ نہ ہوگا، محض ایک معاشی حریف کے طور پر نہیں بلکہ توانائی کی خودمختاری کے ایک نئے علمبردار کے طور پر ابھرا ہے۔ میں اگر کہوں تو یہ اس قوم کی تقدیر کا فیصلہ ہے جس نے وقت کی آہٹ کو بہت پہلے پہچان لیا تھا اور آج جب دنیا ہرمز کے بند ہونے پر ماتم کر رہی ہے، چین اپنی الیکٹرک شاہراہوں پر پورے اعتماد کے ساتھ گامزن ہے۔
چین کی اس کامیابی کے پیچھے کوئی معجزہ نہیں بلکہ برسوں کی وہ ریاضت ہے جس نے اسے نہ صرف ماحول دوست توانائی میں خود کفیل بنایا بلکہ اسے اس ٹیکنالوجی کا واحد بڑا برآمد کنندہ بھی بنا دیا۔ 2026ء کے اس کٹھن دور میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کے ہندسے کو عبور کر کے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، چین نے اپنی بجلی کی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ صاف اور شفاف ذرائع سے حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ تزویراتی گہرائی کا وہ شاہکار ہے جس نے بیجنگ کو عالمی دبائو سے آزاد کر دیا ہے۔ یہ ’’ توانائی کی خودمختاری‘‘ کا وہ نمونہ ہے جسے حاصل کرنے میں بڑی بڑی طاقتیں ناکام رہی ہیں۔ چین نے شمسی توانائی کے پینلز، ہوا سے بجلی بنانے والے ٹربائنز اور ان سب کو محفوظ کرنے والی لیتھیم آئن بیٹریوں کی عالمی سپلائی چین پر اس قدر گرفت مضبوط کر لی ہے کہ اب دنیا کو ’’ گرین‘‘ ہونے کے لیے بیجنگ کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی پڑتا ہے۔
چین نے فوٹو وولٹک ٹیکنالوجی کے 80فیصد حصے پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو دنیا کی ضرورت ہے، جو افریقہ کے تپتے صحرائوں سے لے کر یورپ کے سرد میدانوں تک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف جنگ کی آگ معصوموں کے خواب جلا رہی ہے، وہیں دوسری طرف ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب ایک نئی امید بن کر ابھرا ہے۔ چین نے اپنی پندرہویں پانچ سالہ منصوبہ بندی میں جس طرح کوئلے کو پسِ منظر میں دھکیل کر شمسی اور پن بجلی کو مقدم رکھا، وہ اس سیاسی بصیرت کا ثبوت ہے جس کا آج کل کے عالمی لیڈروں میں فقدان ہے۔ وہ صرف بیٹری سیل نہیں بنا رہے، بلکہ وہ اس مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں پٹرول پمپ قصہ پارینہ بن جائیں گے اور ہر گھر اپنی توانائی خود پیدا کرے گا۔
ایران کی حالیہ جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سپلائی لائن کی تباہی نے ثابت کر دیا ہے کہ جو ممالک اپنی توانائی کے لیے غیر ملکی سمندری راستوں کے محتاج ہیں، ان کی آزادی محض ایک سراب ہے۔ چین نے اس کمزوری کو بھانپتے ہوئے الیکٹرک وہیکلز (EVs)کی صنعت میں وہ کمال دکھایا کہ آج دنیا کی بہترین اور سستی ترین الیکٹرک گاڑیاں بیجنگ اور شنگھائی کی فیکٹریوں سے نکل رہی ہیں۔ یہ محض ایک تجارتی مقابلہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی بالادستی کی وہ جنگ ہے جو چین جیت چکا ہے۔ جب ہم ناروے یا آئس لینڈ کی مثالیں دیتے ہیں جو مکمل طور پر گرین انرجی پر منتقل ہو چکے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ صرف اس ٹیکنالوجی کے ’’ صارف‘‘ ہیں، جبکہ چین اس ٹیکنالوجی کا ’’ خالق‘‘ اور ’’ ترسیل کار‘‘ ہے۔ وہ دنیا کو وہ اوزار فراہم کر رہا ہے جس سے موسمیاتی تبدیلیوں اور تزویراتی ناکہ بندیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تاریخ کا یہ جبر کتنا عجیب ہے کہ جس تیل نے صدیوں تک طاقت کا مرکز طے کیا، آج وہی تیل ریاستوں کی کمزوری بن گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جلتے ہوئے جہاز اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ اب دنیا کو خام تیل کے بشکوں کی نہیں، بلکہ سیمی کنڈکٹرز اور بیٹری اسٹوریج کی ضرورت ہے۔ چین کی اس ہمہ جہت ترقی نے اسے ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنی داخلی ضرورتیں پوری کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ’’ انرجی ڈپلومیسی‘‘ کا نیا محور بن گیا ہے۔ جو مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، اور ان کے لیے یہ الیکٹرک انقلاب ایک نئی سحر کی نوید ہے۔ دوسری طرف طاقت کے اس نئے ڈھانچے میں اب وہ قومیں سرخرو ہوں گی جن کے پاس شمسی سیل بنانے کی صلاحیت ہے، نہ کہ وہ جن کے پاس صرف تیل کے کنویں ہیں۔
یہ کہنا ضروری ہے کہ دنیا اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ فوسل فیول کا عہد تمام ہوا اور الیکٹرک ٹیکنالوجی کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ چین کی خود انحصاری اور اس کی ٹیکنالوجیکل برتری نے اسے اس نئے عالمی نظام کا ناخدا بنا دیا ہے۔ وہ قومیں جو آج بھی پرانے ڈھانچوں سے چمٹی ہوئی ہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ پائیں گی۔ ایران کی جنگ نے صرف جغرافیہ نہیں بدلا، بلکہ اس نے توانائی کی نفسیات بدل دی ہے۔ آج کا انسان یہ جان چکا ہے کہ اس کی گاڑی، اس کا گھر اور اس کی صنعت کا پہیہ کسی دور دراز کی آبی گزرگاہ کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ چین نے اس انسانی خواہش کو ٹیکنالوجی کا روپ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل ان کا ہے جو سورج کی روشنی کو قید کرنا جانتے ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں جہاں ہرمز کی لہریں اداس ہیں، وہیں سلیمان کی پہاڑیوں سے لے کر دیوارِ چین تک پھیلا ہوا یہ سبز انقلاب ایک ایسے دور کا آغاز ہے جہاں طاقت کا منبع زمین کی تہوں میں نہیں بلکہ انسانی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مرہونِ منت ہوگا۔ کیا پاکستان اپنے آہنی دوست کے نقش قدم پر چل کر اس میدان میں بھی فتح کے وہ جھنڈے گاڑنے کے لئے تیار ہے جو اس کی غریب اور متوسط عوام کی اولین ضرورت ہے۔





