
لاہور میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کی بڑی وجہ آر ایل این جی کی سپلائی میں تعطل بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع سوئی ناردرن کے مطابق درآمدی گیس (آر ایل این جی) نہ آنے کے باعث موجودہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پاور اور کھاد کے شعبوں کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں اور انہیں فراہم کی جانے والی گیس میں کمی کر دی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گیس کی مجموعی سپلائی کم ہو کر تقریباً 700 ملین کیوبک فٹ یومیہ رہ گئی ہے، جبکہ ایران-امریکہ کشیدگی سے قبل یہ مقدار 1200 ملین کیوبک فٹ یومیہ تھی۔ اس طرح گیس کا شارٹ فال 600 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر چکا ہے۔
دوسری جانب سوئی گیس حکام کا مؤقف ہے کہ گھریلو صارفین کو کھانے کے تینوں اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، تاہم مجموعی قلت کے باعث دیگر شعبوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔





