ColumnTajamul Hussain Hashmi

دونوں کان کھولے ہیں

دونوں کان کھولے ہیں
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
افواہوں پر کان مت دھریں ، بس اپنے بچوں کیلئے روٹی روزگار ، ان کی صحت و تعلیم اور خاص کر اپنی صحت پر توجہ دیں، یہی حقیقی کامیابی اور محب وطنی ہے، ویسے ملکی حالات کے زیر اثر ملک کا ہر فرد متاثر ہے، کیوں کہ روٹی روزگار کی فراہمی میں حکومتی فیصلوں کا بڑا عمل دخل ہے ، آج کل حکومت صلح جوئی کرانے میں مصروف ہے، ساتھ میں اپنوں پر پٹرول بم بھی پھینک رہی ہے۔ جناب ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار صاحب نے اسلام آباد کے شہریوں سے معذرت بھی کی ہے، کیوں کہ سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے عوام کو کافی مشکلات درپیش رہیں، چلیں کسی رہنما کو تو تھوڑا بہت احساس ہوا کہ اسلام آباد میں بھی انسان بستے ہیں۔ ان مذاکرات کا مرحلہ ابھی ختم نہیں ہوا، یہ سلسلہ جاری رہے گا، لیکن ملکی سطح پر کئی خبریں مارکیٹ میں ایسے پھیلی یا پھیلائی گئی ہیں جیسے کوئی بڑی سیاسی تبدیلی آنے والی ہے۔ ان گردشی خبروں کا محور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی کرسی اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی ہیں ، گزشتہ روز میڈیا پر بانی تحریک انصاف کا اظہار ناراضی سامنے آیا، جس میں ان کو شکوہ ٹکٹ ہولڈرز سے تھا ، جنہوں نے ان کے نام پر ٹکٹ لیا، ’’ میرے نام پر ٹکٹ لینے والے وکلا کہاں غائب ہیں ؟‘‘، بیان کے بعد سے وکلا خاموش ہیں۔ ویسے خان صاحب بھولے ہیں یا پھر انجان ہیں، ویسے تو ان کو دیگر سیاسی جماعتوں کا سب کچھ یاد ہے، یہ بھی یاد ہو گا جب مشرف دور میں ن لیگ کئی رہنمائوں نے پارٹی چھوڑ دی تھی اور اپنی پارٹی بنا لی تھی، ایسے میں ایسا تو ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک سینئر اینکر جیل میں خان کی پیشی کا احوال سنا رہے تھے، جو کہ کسی ڈرامائی انداز سے کم نہیں تھا، ویسے جیل کی چار دیواری سے باہر بیٹھے ہوئے لوگوں کو جیل کی سہولتیں اچھی لگتی ہیں۔ سینئر کالم نگار و مصنف رئوف کلاسرا نے آصف علی زرداری سے جیل کی سہولتوں سے مطلق پوچھا ، جس وقت وہ جیل میں تھے اور اپنی پیشی پر کورٹ آئے ہوئے تھے تو زرداری صاحب مسکرا کر بولے ’’ سائیں جیل جیل ہے‘‘۔ آج کل رانا ثنا اللہ صاحب بھی خاموش ہیں، ورنہ روزانہ خان کی قید کے حوالے سے دو چار قصے داغ دیتے تھے ۔
ان تمام پھیلی یا پھیلائی گئی خبروں سے زیادہ اہم ٹویٹ فواد چودھری صاحب کی تھی ، مولانا طاہر اشرفی کے ساتھ پی ٹی آئی کے ووٹر کی بدتمیزی پر فواد چودھری صاحب نے کہا کہ ’’ مولانا نے خان حکومت کے دور میں سعودی حکومت کے ساتھ تعلقات میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کو ایسے عناصر سے دوری کا مشورہ ہے۔ مولانا کی خدمات کا اطراف کیا، مولانا اور ان کی فیملی کے ساتھ بدتمیزی پر پی ٹی آئی قیادت کو معذرت کرنی چاہئے، اور ایسے لوگوں سے دوری اختیار کریں، ایک مخصوص جتھہ جو عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کی سرد مہری سے فائدہ اٹھا رہا ہے وہ ایسے واقعات کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تا کہ پاکستان میں موجود قیادت اور کارکنوں کی مشکلات میں اضافہ ہو ‘‘۔
فواد چودھری صاحب نے جمہوری اور مخلصانہ بات کی ہے اور یقینا پاکستان کی سیاست پر ان کی گہری نظر بھی ہے ، جوڑ توڑ کو خوب سمجھتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ خان کی رہائی میں آسانی کیسے پیدا ہو گی۔ اس طرح شریک چیئرمین آصف علی زرداری صاحب کے حوالے سے کئی برس سے منفی باتیں مارکیٹ ہوتی رہی، لیکن صدر پاکستان آصف علی زرداری صاحب نے کبھی کان نہیں دھرا، ان کی صدارت کی تبدیلی کے حوالے سے بری خبریں گردش تھیں لیکن آصف علی زرداری صاحب نے کبھی ان باتوں کا پلٹ کر جواب نہیں دیا کیوں کہ ان کا کہنا ہے یہ سب بہتان ہیں ، ویسے ان کی جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو وہ کبھی نچلا نہیں رہتا، ان الزامات کا آگے بڑھ کر جواب دیتا لیکن زرداری صاحب نے جیل کی زندگی جو مشکل ترین تھی اس دوران بھی کھل کر بیان بازی نہیں کی، آج وہ چین کے دورے پر ہیں ، ہشاش بشاش اور سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔
سندھ سرکار کی کارکردگی کو لے کر کئی کہانیاں سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ گرمی ضرور ہے لیکن تبدیلی کی امید نہیں۔ اس ہائبرڈ نظام کیلئے موجودہ سیاسی اتحاد کا جڑا رہنا ضروری ہے، نظام کوئی بھی ہو اس وقت تک کامیاب ہے جب تک سیاسی مفادات کو تحفظ ملتا رہے، خط قربت سے نیچے کی زندگی والوں کو دو وقت روٹی کی فکر ہے، ان کو کسی نظام سے کیا لینا دینا نہیں۔
آج تک ان مقتدر شخصیات کا پتہ نہیں چل سکا جو ملکی معاشی، سیاسی حالات کو نارمل ہونے کی دشمن ہیں، یہ کوئی نہ کوئی چکر چلا کر رکھتے ہیں تاکہ ملک و قوم کسی کو سکون میسر نہ آ سکے، ویسے کیا قسمت پائی ہے، ہمارے حکمران دنیا بھر کی ترقی سے متاثر ہیں جو ہی اپنی سر زمین پر قدم رکھتے ہیں ہر چیز بھول جاتے ہیں۔ ہمیں آزادی تو ملی لیکن قابضین باقی ہیں، پھیلی یا پھیلائی جانے والی خبروں کو سنجیدہ لینے والوں کو ذہنی تسکین تو مل رہی ہے ، شاید انہیں یہی کچھ چاہئے ہے۔ ہاں ایک بات ضرور ممکن ہو سکتی کہ اداروں کا احتسابی عمل شروع ہو اور اس کی لپٹ میں کچھ عوامی ریلیف مل جائے، اگر کسی بیٹھک میں حکومتی اتحادیوں کو سائیڈ لائن کا کوئی پلان ہو تو بظاہر ایسا ممکن نہیں لگتا، سیاسی جماعتیں کا وجود ایک حقیقت ہے اسے کسی صورت پس پست نہیں ڈالا جا سکتا ۔ عوامی ریلیف کے لیے کسی لمبے چوڑے پلان کی ضرورت نہیں، بس آئیں پاکستان پر عمل داری کو یقینی بنا لیں، انصاف کا حصول آسان بنا دیں، سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button