امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا مرحلہ

امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا مرحلہ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
امریکہ، ایران کی چالیس روزہ جنگ بندی کرانے میں پاکستان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا تاہم اس جنگ بندی کا دوسرا اور اہم مرحلہ ابھی باقی ہے جس کے لئے پاکستان سرگرم ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ کی پاکستان واپسی اور شرائط کا مسودہ پاکستانی قیادت کے حوالے کرنے سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا دونوں فریق جنگ بندی اور مذاکرات کا آخری مرحلہ طے کرنے کے لئے پاکستان پر پورا اعتماد کر رہے ہیں۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کوششیں اپنی جگہ ایران میں رجیم چینج نہ ہونا پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔ ایران میں رجیم چینج ہو جاتا اور امریکہ اسرائیل کی مرضی کی حکومت بن جاتی پاکستان اور چین کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا۔ چین ایران سے بھاری مقدار میں تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ دوسری طرف پاسداران انقلاب کے اقتدار کے خاتمے سے اسرائیل اور بھارت پاکستان کے خلاف مزید سازشوں میں مصروف عمل ہو جاتے۔ بھارت اور اسرائیل مل کر پاکستان میں دہشت گردی کو پہلے سے زیادہ فروغ دے سکتے تھے ساتھ اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہو سکتا تھا۔ اس جنگ بندی کا اسرائیل کو بڑا ملال ہے وہ جنگ بندی کے بالکل حق میں نہیں تھا بلکہ جنگ کو وسیع کرنے کا خواہاں تھا۔ امریکہ ایران جنگ کے دوران چالیس ہزار ایرانی بے گھر ہو ے ہیں۔ اس کے علاوہ جو ایران کو نقصان اٹھانا پڑا اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ ایرانی قیادت اور عوام کی بہادری دیکھئے چالیس سال سے امریکہ پابندیوں کو بڑی جواں مردی سے مقابلہ کر رہے تھے کہ عمان میں مذاکرات کے دوران امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایرانی قیادت کی شہادت کے باوجود پاسداران انقلاب اور عوام یکجا اور متحد ہیں اور ہمہ وقت امریکہ اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ دراصل یہ جنگ خطے میں اسرائیل کی بالادستی کی جنگ تھی جسے ایرانی قیادت اور وہاں کے عوام نے ناکام بنا دیا ہے۔ ایران میں امریکہ کی من پسند حکومت بن جاتی خطے کے ملکوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا لیکن ایران اپنی مشکلات کے باوجود اپنے پائوں پر کھڑا رہا اور دونوں ملکوں کا مقابلہ کرکے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ امریکہ پر ایران کا اعتماد اسی وقت اٹھ گیا تھا جب عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کر دیا، البتہ ایک بات طے ہے ایران جوہری ہتھیاروں اور آبنائے ہرمز پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کئے گا خواہ اسے اس کی کتنی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں دو بڑی طاقتیں ایران اور اسرائیل ہیں، ایران کو شکست ہو جاتی تو اسرائیل کے وارے نیارے ہو جاتے اس طرح خطے کے تمام ملکوں پر اس کی دھاک بیٹھ جاتی مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔ دنیا کی سپر پاور اور اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس جنگ کی سب سے اہم بات یہ ہے امریکہ کو گھمنڈ خاک میں مل گیا ہے، شائد اسی لئے خطے کے ممالک امریکہ سے منہ موڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ تعجب ہے امریکہ نے خلیجی ملکوں میں اڈے قائم کرکے اس کے اخراجات بھی انہی ملکوں سے کراتا ہے، ایران جنگ میں ان ملکوں پر یہ با واضح ہو گئی امریکہ اڈے ان کی حفاظت کی بجائے اسرائیل کے مفادات کے پیش نظر قائم کئے گئے تھے۔ آبنائے ہرمز کو ایک بڑی گزر گاہ ہے جو ایران اور عمان کی ملکیت ہے لیکن امریکہ نے اس کی ناکہ بندی کرکے ایرانیوں کو پہلے سے زیادہ چوکنا کر دیا ہے۔ درحقیقت امریکہ ایران خطے میں برتری کی جنگ تھی جسے ایرانیوں نے ناکام بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ چالیس روزہ جنگ کے بعد جنگ کو آگے بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتے جس کی وجہ انہیں اپنے ملک کے عوام کو اس کی مخالفت کا سامنا ہے۔ امریکی عوام نہیں چاہتے امریکہ ایران کے درمیان جنگ جاری رہے۔ جنگ بندی کے بعد پاکستان کی حکومت کو ایک اور امتحان سے گزرنا باقی ہے وہ مذاکرات میں فریقین کے درمیان مستقل امن معاہدہ کرانے میں کردار ہوگا۔ خبروں کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے اگر امریکہ، ایران جنگ طوالت پکڑتی ہے تو پاکستان جیسے ملکوں میں مہنگائی کی شرح سترہ فیصد تک جا سکتی ہے کو پاکستان جیسے معاشی طور پر کمزور ملکوں کے لئے مزید ایک بڑا معاشی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کی بجلی کا دارو مدار درآمدی ایندھن پر ہے جس سے بجلی کے ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ اور ہماری صنعتی سیکٹر کے لئے طوفان کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا اسی فیصد خلیجی ملکوں سے درآمد کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور سپلائی چین میں رکاوٹ سے تیل کی قیمتوں میں لامحالہ اضافہ ہوگا جو پاکستان جیسے معاشی طور پر کمزور ترین ملکوں میں مہنگائی کے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ ادھر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں چلائی جانے والی جان فدا مہم کے دوران تین کروڑ سے زیادہ لوگوں نے اپنے نام رجسٹر کر ا دیئے ہیں۔ یہ مہم ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد اس وقت شروع کی گئی جب ممکنہ زمینی حملوں کے خدشات بڑھ رہے تھے۔ خیال رہے کہ ایران عراق جنگ کے دوران بیس لاکھ کے قریب رضا کاروں نے جنگ کے محاذ میں شمولیت کی تھی جبکہ اس کے برعکس حالیہ جنگ کے دوران تین کروڑ سے زیادہ افراد کی رجسٹریشن ایران کی موجودہ آبادی کا تیس فیصد بنتی ہے۔ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرنے والوں اور امریکہ اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے والوں کا پھانسی دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ توجہ طلب پہلو یہ ہے امریکی صدر ٹرمپ اس سے قبل ایران میں جاسوسی کے الزام میں پھانسی دینے کے سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ایران میں بعض خواتین کو بھی اسی سلسلے میں اسی نوع کی سزائوں کا سامنا ہے جسے روکنے کے لئے امریکہ صدر بڑے سرگرم ہیں۔ بہرکیف امریکہ ایران جنگ بندی وقتی طور پر ہو چکی ہے پاسداران انقلاب امریکہ کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے سرگرم ہیں۔ پاکستان کی سفارت کاری کے امتحان کا ابھی ایک اور مرحلہ باقی ہے۔ پہلے مرحلے میں جنگ بندی کرانے میں ہمارا ملک کامیاب ہو گیا ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعا ہے پاکستان مستقل جنگ بندی کے سلسلے میں دونوں فریقوں کا رضامند کرانے میں کامیابی سے ہمکنار ہو جائے تو خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔





