Column

جنگ بندی نہیں نس بندی

جنگ بندی نہیں نس بندی
صورتحال
سیدہ عنبرین
گولی چلانے والا یا اس کی گولیاں تو ڈونلڈ ٹرمپ تک نہیں پہنچیں، لیکن بتایا جا رہا ہے امریکی صدر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے میں شریک تھے، ان کے ساتھ ان کی بیگم کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس اور بعض دیگر اہمیت شخصیات بھی موجود تھیں۔ کہتے ہیں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے، جس کے ٹھیک کچھ ہی دیر بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس ٹاک کی، اس حملے سے قبل تین روز پہلے تک جب انہیں ایران اور امریکی ٹیم کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی شدید خواہش تھی، وہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے جب بھی میڈیا یا عوام کے سامنے آئے قدرے الجھے الجھے نظر آئے، ان کا چہرہ لٹکا ہوا تھا، جملے بے ربط اور چہرے کی رنگت بھی کچھ اڑی اڑی سی تھی، لیکن مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد جب وہ اظہار خیال کیلئے آئے تو نہایت پراعتماد تھے، گویا کچھ ہوا ہی نہیں، اور اگر کچھ ہوا ہے تو انہیں یقین تھا کہ انہیں اس حملے میں کچھ نہیں ہو گا۔
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اہم شخصیات پر قاتلانہ حملے ان ایام میں ہوتے ہیں جب ان کی ساکھ مٹی میں مل چکی ہوتی ہے، انہیں عوامی ہمدردیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ہمدردیوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اور خاص طور پر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے کسی ایسے ہی حملے کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں انہیں خراش تک نہ آئے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر پر اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسا ہی ایک محفوظ حملہ قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس میں ایک ہلکی سی بندوق کی گولی ان کے کان کے چھوتے ہوئے گزر گئی تھی، اس حملے کی جزئیات کو کھنگالا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ حملہ فرمائشی تھا، اور خود انتظامی کے تحت ہوا تھا، گولی چلانے والے کی غلطی سے گولی زیادہ قریب سے گزر گئی، حالانکہ اسے خاصے فاصلے سے گزار کر مطلوبہ ہدف حاصل کرنا تھا۔ کسی بھی کام کیلئے اگر اناڑیوں کی خدمات حاصل کی جائیں تو اسی قسم کے نتائج نکلتے ہیں، کان کو چھو کر گزر جانے والی گولی نے ٹرمپ کو انتخاب جتوانے میں کسی حد تک اپنا کردار ادا کیا، یہ گولی چلانے والا اناڑی تو صاحب کردار نہ نکلا، لیکن گولی یقیناً صاحب کردار تھی، ٹرمپ کو چوم کر نکل گئی، شاید وہ جانتی تھی ڈونلڈ ٹرمپ چومی چاٹی کے بہت شوقین ہیں۔ اب آئیے ذرا موقع واردات کی طرف، واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں عشایئے کا اہتمام کیوں کیا گیا، کیا امریکی صدر کے وسیع و عریض دفتر میں کوئی ایسا ہال موجود نہیں جہاں بڑی تعداد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں، تو ایسا نہیں سرکاری اور سماجی تقریبات کیلئے وہاں چھ ہال موجود ہیں، جن میں پانچ سے لے کر پانچ ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، وہاں آنے کے مختلف دروازے ہیں، لہٰذا بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت سے معمول کی دفتری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوتیں۔ صدر ٹرمپ کے دفتر کی عمارت میں سکیورٹی کے چار حصار ہیں، ان سے گزر کر کوئی ناپسندیدہ شخص اندر داخل نہیں ہو سکتا، تاوقتیکہ کسی کو ’’ خاص مہربانی‘‘ کرتے ہوئے خاص سہولتیں نہ دی جائیں۔ اس عمارت میں چند ماہ قبل ایک ناپسندیدہ شخص گھس آیا تھا، لیکن اس کا کام صرف گھسنا تھا، وہ گھسا اور پکڑ لیا گیا، پھر وہ کہاں گیا، اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، آج وہ کہاں ہے، اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔
امریکی صدر کے آفس سے ملحقہ وسیع و عریض لان یا ہال میں اس تقریب کا اہتمام کر کے اسے محفوظ بنایا جا سکتا تھا، لیکن وہاں فرمائشی قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد صدر آفس کی سکیورٹی پر سوال اٹھتے، اور درجنوں افراد کو برطرف کرنا ضروری ہو جاتا، جب بے گناہوں کے خلاف کارروائی شروع ہوتی تو کوئی نہ کوئی بول پڑتا۔ حیرت کی بات ہے جس ہوٹل میں اہم ترین شخصیات آ رہی تھیں، وہاں معمول کا کاروبار جاری تھا، سیکڑوں لوگ اس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ڈائینگ ہال آباد تھے، کسی کمرے کے مکین کو چیک کرنے کی زحمت گوارا نہ کی گئی، ہلٹن ہوٹل میں صرف ایک سکیورٹی حصار تھا، جسے عبور کر کے اندر گھسنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ اکتیس سالہ پیشے کے اعتبار سے ٹیچر کول تھامس بندوق ہاتھ میں تھامے، اپنی بیلٹ میں خنجر لگائے، بلا روک ٹوک اس ہال کے باہر پہنچ گیا، جہاں امریکی صدر اور نائب صدر موجود تھے، جبکہ مہمان صحافیوں کی تعداد قریباً چھبیس سو کے قریب تھی، سب کے ہاتھوں میں ان کے موبائل تھے، جس سے وہ تصاویر اور ویڈیوز بھی بناتے نظر آئے۔
کسی تقریب میں گھس کر خصوصاً ہال کے اندر آ کر اگر کسی کو نشانہ بنانا ہو تو قاتل لمبی نالی والی بندوق لے کر نہیں آتے، بلکہ ایسا اسلحہ لے کر آتے ہیں، جسے با آسانی چھپایا جا سکے۔ جس تقریب میں اقدام قتل کا ملزم گھسنا چاہتا تھا، اگر سنجیدگی سے ٹرمپ کو قتل کرنا مقصد ہوتا تو ہاتھ میں دعوت نامہ تھامے شخص کے ہاتھ میں بندوق کبھی نہ ہوتی، کوئی چھوٹا مہلک ہتھیار ہوتا، یا یہ ہتھیار اس ہال میں پہلے ہی کہیں چھپا دیا گیا ہوتا۔ بعض اوقات ہائی پروفائل قتل کیلئے کوئی ہوٹل ملازم قاتل کو آن دی سپاٹ ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ قاتل خود مسلح ہو کر سکیورٹی حصار سے گزرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، ایک اور معاملہ بھی توجہ طلب ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کیلئے آنے والے اپنے ساتھ ایک لمبی بیرل والی بندوق ہی کیوں لے کر آتے ہیں، جیسے چھپانا بہت مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے، پھر وہ اپنے ہدف کے قریب پہنچنے سے قبل ہی پکڑے جاتے ہیں۔
خصوصی انتظامات کے تحت کول تھامس کو اسرائیلی شناخت والی ٹی شرٹ پہنائی گئی تھی، اسے ایرانی ٹی شرٹ پہنائی جاتی تو دیکھنے، سننے والے اس ڈرامے کے رائٹر ڈائریکٹر کو در فٹے منہ کہتے، پس فوری طور پر اس کا تعلق ایران سے نہ جوڑنا بہتر سمجھا گیا، آگے چل کر اس کا تعلق کسی ایرانی لڑکی، ایرانی سکول، یا کسی ایرانی استاد سے نکل سکتا ہے، جس کے بعد بتایا جائے گا کہ سب کیا دھرا اس ایرانی سوچ کا ہے۔ احمقانہ قاتلانہ حملہ ہمدردی پیدا نہیں کر سکا، ڈرامے کے تمام سین دلچسپ ہیں، ہیرو ٹرمپ کو اس کے گارڈز گھسیٹتے ہوئے خطرے کے منہ سے نکال کر نہیں لے جاتے، بلکہ چوہتر سالہ فربہ ٹرمپ گرتے نہیں، انہیں سین میں رنگ بھرنے کیلئے پہلے احتیاط سے گرایا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر سکیورٹی گارڈز کے حصار میں خراماں خراماں کیمرہ فریم سے آئوٹ ہو جاتے ہیں، کیمرہ نائب صدر جے ڈی وینس کا کلوز دکھاتا ہے، جو کرسی پر بیٹھے ہیں، ان کے گارڈز انہیں اٹھنے اور بھاگنے کیلئے کہہ رہے ہیں، لیکن وہ بالکل پریشان نہیں، بلکہ ان کے چہرے پر وہ تاثر ہے جو فلم یا ڈرامے میں اس مہمان اداکار کے چہرے پر نظر آتا ہے جسے بغیر پیسوں کے یاری دوستی میں ایک سین میں اداکاری کیلئے بلایا جاتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ شکست کھا چکے ہیں، وہ میدان جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں، انہیں ایک چھوٹا سا بہانہ چاہئے، لیکن اسرائیل ایسا نہیں چاہتا، دنیا یہی چاہتی ہے۔ جنگ کیسے بند ہوگی، دنیا بھر کے صحافی دانشور اور دفاعی تجزیہ کار اپنی آرا سے میدان گرم رکھے ہوئے ہیں۔ جناب ناصر شیرازی کا لکھا ایک جملہ سب پر بھاری ہے، ایران اب صرف جنگ بندی نہیں، بلکہ امریکہ کی مکمل نس بندی کر کے چھوڑے گا، جو روسی استرے اور چینی قینچی سے ایرانی سرجن کریں گے، تاکہ پھر وہ حملے کے قابل نہ رہے۔

جواب دیں

Back to top button