ColumnQadir Khan

ڈیجیٹل بساط اور پاکستان

ڈیجیٹل بساط اور پاکستان

قادر خان یوسف زئی

عالمی سیاست اور معیشت کی بساط پر اب فیصلے محض خفیہ اداروں کی رپورٹس، سفارتی مراسلوں یا روایتی میڈیا کی سرخیوں سے طے نہیں پا رہے، بلکہ ایک ایسی نئی ’’ ڈیجیٹل حقیقت‘‘ جنم لے چکی ہے جہاں مستقبل کے ہر واقعے پر اربوں ڈالر کی شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔ یہ ’’ پریڈکشن مارکیٹس‘‘ یا پیش گوئی کی منڈیاں اب محض کرپٹو کرنسی کے شوقین افراد کا کھیل نہیں رہیں، بلکہ 2024ء سے 2026ء کے درمیان یہ ایک ایسے طاقتور ’’ سچائی کے انجن‘‘ کے طور پر ابھری ہیں جو اکثر اوقات سرکاری اعلانات اور ماہرین کے تجزیوں سے بھی پہلے آنے والے وقت کی نوید دے دیتی ہیں۔ جب ہم پولی مارکیٹ یا کالشی جیسی پلیٹ فارمز کے حجم پر نظر ڈالتے ہیں، جہاں ماہانہ لین دین 20ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دنیا اب غیر یقینی صورتحال کو مالیاتی رنگ دے کر اسے ایک اثاثے کی طرح ٹریڈ کر رہی ہے۔ اس تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں پاکستان کی حیثیت محض ایک تماشائی کی نہیں رہی، بلکہ ہماری سیاسی و معاشی صورتحال اب ان عالمی قمار خانوں میں ایک اہم موضوعِ بحث بن چکی ہے۔

پاکستان کے حوالے سے ان منڈیوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی سب سے بڑی مثال اپریل 2026ء کے وہ واقعات ہیں جب اسلام آباد اچانک امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا واحد مرکز بن کر ابھرا۔ یہ وہ وقت تھا جب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں 100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی تھیں اور دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی۔ اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے درمیان ہونے والے 21گھنٹے طویل اعصاب شکن مذاکرات پر دنیا بھر کے ’’ بیٹرز‘‘ نے کروڑوں ڈالر لگا رکھے تھے۔ ان منڈیوں کی طاقت کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ جب سرکاری سطح پر ابھی کوئی اعلان بھی نہیں ہوا تھا، پولی مارکیٹ کے گراف بتانے لگے تھے کہ مذاکرات ناکام ہو رہے ہیں اور جنگ بندی کے امکانات محض 27فیصد رہ گئے ہیں۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ کس طرح پاکستان کا دارالحکومت عالمی امن کے لیے ایک ’’ لنچ پن‘‘ کی حیثیت اختیار کر گیا تھا، جہاں ہونے والی ہر جنبش کا اثر نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہا تھا بلکہ عالمی معیشت کی نبض بھی یہیں سے کنٹرول ہو رہی تھی۔

پاکستان کے داخلی معاملات پر نظر ڈالیں تو ان پیش گوئی کی منڈیوں کا کردار مزید گہرا اور تشویشناک نظر آتا ہے۔ اگرچہ اس مارکیٹ میں ابھی حجم کم ہے، لیکن یہ ایک ایسا اشارہ ہے جس سے عالمی سرمایہ کار ملک میں سیاسی استحکام کی پیمائش کر رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک منظر نامہ اپریل 2026ء میں اس وقت سامنے آیا جب پولی مارکیٹ پر پاکستان پر کسی ’’ ممکنہ حملے’‘‘ یا جارحیت کے امکانات اچانک 41فیصد تک پہنچ گئے۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جہاں روایتی پراپیگنڈہ اور حقائق کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن مالیاتی مفادات سے جڑے یہ پلیٹ فارم معلومات کو فلٹر کر کے ایک ایسا ’’ سگنل‘‘ پیدا کرتے ہیں جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ مارکیٹس محض پیش گوئی کر رہی ہیں یا خود حالات کو مینوفیکچر کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں؟ ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق بتاتی ہے کہ کئی بار مخصوص اکائونٹس نے اہم عالمی اعلانات سے چند منٹ قبل بھاری شرطیں جیتیں، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ان منڈیوں میں ’’ انسائیڈر ٹریڈنگ‘‘ کا عنصر موجود ہے۔

پاکستان کی معاشی بقا کا معاملہ بھی ان ڈیجیٹل منڈیوں سے اچھوتا نہیں رہا۔ جہاں آئی ایم ایف کے سرکاری اعداد و شمار اکثر خوش گمانی پر مبنی ہوتے ہیں، وہاں یہ منڈیاں پاکستان کے ڈیفالٹ کے خطرے کا موازنہ سری لنکا اور گھانا جیسی معیشتوں سے کرتی نظر آتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی اقتصادی ماڈلز ’’ بلیک سوان‘‘ یا ناگہانی واقعات کی پیش گوئی کرنے میں ناکام رہتے ہیں، لیکن جب لوگوں کا اپنا پیسہ دائو پر لگا ہو، تو وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی معلومات، جیسے کہ کسی سفارتی وفد کی منسوخی یا سرحد پر نقل و حرکت، کو فوری طور پر قیمتوں میں شامل کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب وال سٹریٹ جرنل اور بلومبرگ جیسے ادارے بھی ان مارکیٹس کو ’’ سورس آف ٹروتھ‘‘ کے طور پر تسلیم کرنے لگے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف یہ منڈیاں شفافیت کا تقاضا کرتی ہیں اور پراپیگنڈے کو بے نقاب کرتی ہیں، تو دوسری طرف یہ ملک کی ساکھ کو عالمی سطح پر سٹے بازی کی نذر کر کے معاشی غیر یقینی میں اضافہ بھی کر سکتی ہیں۔

اس پورے منظرنامے میں ایک نیا اور دلچسپ رخ کرکٹ اور اسپورٹس مارکیٹس کا بھی ہے، جہاں پاکستان اور امریکہ کے میچوں یا پی ایس ایل کے مقابلوں پر لاکھوں ڈالر کی ٹریڈنگ ہو رہی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کا ’’ برانڈ‘‘ اب بھی عالمی سطح پر اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، سنگین چیلنج سیاسی اور تزویراتی میدان میں ہے۔ جب امریکی سینیٹرز پولی مارکیٹ کو ’’ ڈیتھ مارکیٹ‘‘ قرار دے کر اس پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں جنگ اور انسانی جانوں پر بھی جوا کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو پہلے ہی ہائبرڈ وارفیئر کی لپیٹ میں ہے، یہ پلیٹ فارمز دشمنوں کے لیے معلومات کے حصول کا ایک ’’ ہنی پاٹ‘‘ بھی ثابت ہو سکتے ہیں جہاں مشکوک شرطوں کے ذریعے اہم عسکری یا سیاسی فیصلوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پولی مارکیٹ اور اس جیسے دیگر پلیٹ فارمز اب محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہے۔ یہ عالمی طاقت کے نئے مراکز ہیں جو ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل کا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ پاکستان کی ریاست اور عوام کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ ہماری معاشی اور سیاسی حالت زار اب صرف اسلام آباد کے بند کمروں یا راولپنڈی کی غلام گردشوں میں زیرِ بحث نہیں، بلکہ ان ڈیجیٹل اسکرینوں پر بھی ٹریڈ ہو رہی ہے جہاں ہر ’’ ہاں‘‘ اور ’’ ناں‘‘ کے پیچھے کروڑوں ڈالر کا مفاد چھپا ہے۔ کیا ہم اس نئی دنیا کے لیے تیار ہیں جہاں سچائی ایک ایسی چیز بن گئی ہے جس کی قیمت بازار میں لگتی ہے؟ یہ سوال آج کے پاکستان کے لیے سب سے اہم تجزیاتی نقطہ ہے، کیونکہ اگر ہم نے اپنی سچائی خود تخلیق نہ کی، تو عالمی منڈیاں اسے ہمارے لیے محض ایک ’’ بائنری آپشن‘‘ بنا دیں گی۔ اس نئے نوآبادیاتی دور میں، جہاں ذہانت کا غلبہ ہے، پاکستان کو اپنی بقا کے لیے نہ صرف معاشی اصلاحات بلکہ ان ڈیجیٹل سگنلز کو سمجھنے کی بھی اشد ضرورت ہے جو ہماری تقدیر کا فیصلہ ہم سے پہلے کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button