مسیحائی کے روپ میں موت کے سوداگر

مسیحائی کے روپ میں موت کے سوداگر
شاہد ندیم احمد
دنیا کے مختلف معاشروں میں انسانی زندگی کی قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں صحت کی سہولیات کس معیار کی ہیں، لیکن ہمارے ہاں صورتحال قدر مختلف نظر آتی ہے، اس ملک میں صحت کا شعبہ ایک ایسے سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے کہ جہاں شہریوں کی زندگیاں ہی دائو پر لگی ہوئی ہیں، ایک رپورٹس کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد ’ اتائی‘ (Quacks)انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں، یہ اعداد و شمار محض نمبر ہی نہیں، بلکہ ایک ایسے المیے کی نشاندہی کر رہے ہیں، جو کہ خاموشی سے ہماری جڑوں میں زہر گھول رہا ہے۔ یہ اتائیت دراصل مسیحائی کے لبادے میں چھپا ایک ایسا جرم ہے کہ جس کی جزا صرف موت یا مستقل معذوری کی صورت میں سامنے آتی ہے، یہ غیر تربیت یافتہ افراد نہ تو ادویات کے فارمولوں سے واقف ہوتے ہیں نہ ہی انہیں انسانی جسم کی پیچیدگیوں کا علم ہوتا ہے، یہ لوگ مریض کو وقتی ریلیف دینے کے لیے ’ اسٹیرائڈز‘ اور بھاری خوراک کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، اس کا نتیجہ گردوں کی خرابی، جگر کے امراض اور بعض اوقات فوری موت کی صورت میں نکلتا ہے، اس سے بھی زیادہ خوفناک پہلو جراثیم زدہ طبی آلات اور ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال ہے، جو کہ ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسی مہلک بیماریوں کو گھر گھر پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ناسور اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کا تدارک کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا کمزور سرکاری نظامِ صحت، سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا بے پناہ رش، ادویات کی قلت، عملے کا رویہ اور جدید سہولیات کا فقدان عام آدمی کو مجبور کر دیتا ہے کہ گلی محلے میں بیٹھے ان اتائیوں کے پاس جائے، اس ملک کے ایک غریب آدمی کے لیے بڑے ہسپتال کی لمبی لائنوں میں لگنے سے بہتر ایک ایسا اتائی ’ ڈاکٹر‘ لگتا ہے، جو کہ سستے داموں فوری ’ آرام‘ کا نسخہ دے دیتا ہے، اس ملک کے غریب آدمی کی مجبوری کا بھر پور فائدہ موت کے سوداگر اٹھا رہے ہیں اور غریب قربانی کا بکرا بنا کر خود کو خود ہی پیش کر رہے ہیں۔
کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس قتلِ عام کا تماشہ دیکھتے رہیں گے؟ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور محکمہ صحت اب صرف زبانی کلامی’ بیانات‘ تک محدود نہ رہیں، بلکہ اتائیوں کے خلاف ایک فیصلہ کن اور گرینڈ آپریشن کا آغاز کرے، لیکن ہر دور اقتدار میں ایسے آپریشن بھی ہوتے رہے ہیں، اس کے باوجود اتائیوں کی تعداد میں کوئی کمی آئی نہ ہی اتائی عبرت کا نشان بن پائے ہیں ، اس کیلئے ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید بااختیار بنانا ہوگا، تاکہ وہ ان غیر قانونی کلینکس کو مستقل بنیادوں پر سیل کرے اور ملوث افراد کو عبرت ناک سزائیں دلانے کا بندوبست کرے ، لیکن جب تک ان داروں میں میرٹ پر لوگ نہیں لائے جائیں گے ،اس کے نتائج صفر ہی رہیں گے ۔عوام کو موت کے سوداگروں سے بچانے کیلئے جہاں اداروں کو فعال کر نا ہو گا ، وہیں عوامی شعور کو بھی بیدار کرنا ہو گا، میڈیا اور سول سوسائٹی کو جہاں پیغام عام کرنا ہوگا کہ سستا علاج جان لیوا ہو سکتا ہے، وہیں ان کی نشاندہی کو بھی عام کرنا ہو گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانا ہو گا ،اگر ان کو پکڑنے والے ہی ان کی پشت پناہی نہ کریں تو یہ کبھی دھڑلے سے مارکیٹ میں نہیں بیٹھ سکتے ہیں ، لیکن یہ بڑے دلیر انہ انداز میں بڑے بل بورڈ آویزاں کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اور سرعام موت بانٹ رہے ہیں ، اس میں اداروں کے ساتھ عام آدمی زیادہ قصور وار ہے کہ بغیر تحقیق ان سے علاج کرا رہا ہے اور خود کو موت کے حوالے کر رہا ہے۔
اگر عوام موت کے سوداگروں کے ہتھے چڑھ کر مر رہے ہیں تو ریاست کہاں ہے، یہ ریاست کی اہم ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو ان اتائیوں سے بچائے، اس کیلئے ریاست کو اپنے انتظامی معاملات کو درست کر نا ہو گا، سرکا جب تک ہسپتالوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کرے گی اور ہر شہری کو دہلیز پر معیاری اور بروقت علاج کی سہولت میسر نہیں کرے گی، اس وقت تک اتائیت کا یہ بازار ٹھنڈا نہیں ہوگا، اگر ہم واقعی ایک صحت مند پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں مسیحائی کے روپ میں چھپے ان لٹیروں کا راستہ روکنا ہوگا اور نظامِ صحت کی بنیادوں کو ازسرِ نو تعمیر کرنا ہوگا، اگر اس معاملے پر آج بھی ہم نے خاموشی اختیار کئے رکھی تو کل کا نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا اور چاہ کر بھی ہو نے والے نقصان کا ازالہ نہیں کر پائیں گے۔





