ایران کے اندرونی تضادات

ایران کے اندرونی تضادات
روشن لعل
جن مثبت اور منفی صفات کی وجہ سے ایران کی حیثیت دنیا میں الگ اور مختلف ملک کی سی ہے، ان میں سے ایک صفت اس کے اندرونی تضادات بھی ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ ایران اس وقت ستم رسیدہ، اور اس پر جنگ مسلط کرنے والے امریکہ اور اسرائیل ستم گر ملک ہیں۔ اس سچ کے علاوہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایرانی عوام کے ستم رسیدہ ہونے کی تمام تر ذمہ داری صرف بیرونی عوامل پر نہیں ڈالی جاسکتی کیونکہ ایران کے اندرونی تضادات کا بھی وہاں کے عوام کی ستم رسیدگی میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کو ظلم کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا لیکن اس ظلم کے احتساب کا امکان ناپید ہونے کی حقیقت عیاں ہونے کی وجہ سے جنگ بندی کو سمجھوتے کے ذریعے ممکن بنانے کے علاوہ کوئی بھی دوسرا متبادل ایرانی عوام کے حق میں بہتر نظر نہیں آتا۔ مختلف ذرائع سی سامنے آنے والی خبروں کے مطابق ،اس وقت ایران کے اندرونی تضادات مستقل جند بندی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ گو کہ ایران کے ترجمانوں نے اندرونی تضادات کی طرف اشارہ کرنے والی خبروں کو پراپیگنڈا قرار دیا ہے لیکن اگر ایران کے حوالے سے ماضی کے کچھ ایسے حقائق کو مد نظر رکھا جائے جو ناقابل تردید ہیں تو وہاں موجود اندرونی تضادات کے امکان کو رد کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
ایران کے اندرونی تضادات پر غور کرنے کے لیے یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ وہاں اختیار کا منبع کون ہے۔ ایرانی دستور کے مطابق وہاں رہبر ( سپریم لیڈر) کے حکم کو پارلیمنٹ کے وضع کردہ تمام قوانین پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ وہاں سپریم لیڈر، پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے کسی بھی قانون کو منظور یا مسترد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ایران میں منتخب پارلیمنٹ کی بجائے سب سے طاقتور ادارہ12 اراکین پر مشتمل شوریٰ نگہبان ہے۔ شوریٰ نگہبان کے بعد مجمع تشخیص مصلحت نظام کو اہم مقام حاصل ہے۔ اس ادارہ میں سپریم لیڈر کے مقرر کردہ اراکین کا کام رہبر ایران کی مشاورت کرنا اور نگہبان شوریٰ اور منتخب پارلیمنٹ کے مابین کسی مسئلہ پر پیدا ہونے والے اختلاف کو مصالحت کے ذریعے حل کرانا ہے۔ جہاں تک منتخب پارلیمنٹ کا تعلق ہے تو اس کے اراکین کی انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت جانچنے کا اختیار بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر رہبر ایران کے پاس ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کی طرح ایران کے صدارتی امیدوار کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل یا نااہل قرار دینے کا حق بھی رہبر ایران کو حاصل ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر ریاست کے انتظامی معاملات میں مطلق العنان ہیں۔ منتخب صدر جو اختیار ات استعمال کر سکتا ہے وہ سپریم لیڈر کے تفویض کردہ ہیں۔ سپریم لیڈر کو عوام کے منتخب صدر کو سبکدوش کرنے تک کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اختیار ، بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والی ایران کے پہلے صدر اور انتہائی معتدل مزاج انسان، ابوالحسن بنی صدر کے خلاف استعمال کیا جا چکا ہے۔
ایران کے موجود صدر مسعود پزیشکیان ، کو سابقہ صدور، بنی صدر، عباس خاتمی اور حس روحانی کے ہم پلہ معتدل تو نہیں سمجھا جاتا لیکن وہاں سخت گیر مذہبی عناصر اور معتدل مزاج سیاستدانوں کے درمیان جو لکیر کھینچی گئی ہے ، پزشکیان کا نام معتدل مزاج لوگوں کے درمیان نظر آتا ہے۔ معتدل مزاج ، مسعود پزشکیان کے منتخب ایرانی صدر ہونے کے باوجود اس قسم کی غیر مصدقہ خبریں گردش میں ہیں کہ بیرونی دنیا سے تعلقات کو کشیدگی سے پاک کرنے پر یقین رکھنے والے سابق معتدل مزاج ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کے وزیر خارجہ جواد ظریف اس الزام کے تحت وہاں زیر حراست ہیںکہ انہوں نے ایران کے سٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچا تے ہوئے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کیا تھا۔ غیر مصدقہ ہونے کے باوجود اس طرح کی خبروں کو سرے سے غلط قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ جن خبروں کو غلط قرار دینا ممکن نہیں ، انہیں مد نظر رکھ کر ہی ایران میں موجود اندرونی تضادات کی طرف اشارے کیے جاتے ہیں۔
یہاں ایران کے اندرونی تضادات اور ان کے ایرانی عوام کے رویوں پر اثر انداز ہونے کی ایک مزید مثال پیش کی جارہی ہے۔ ایران کے سابق معتدل مزاج صدر حسن روحانی، مئی2017ء کے صدارتی انتخاب میں اپنے مخالف امیدوار ابراہیم رئیسی ( جو ، روحانی کے بعد ایران کے صدر بنے اور بعد ازاں ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہلاک ہوئے ) کے 38.50فیصد ووٹوں کے مقابلے میں 57.50ووٹ لے کر دوسری صدارتی مدت کے لیے کامیاب ہوئے تھے۔ پہلی صدارتی مدت کے دوران، ان کی مقبولیت میں کس حد تک اضافہ ہوا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2013ء کے صدارتی انتخاب میں حسن روحانی 1.42فیصد ووٹوں کے معمولی فرق سے 49.29فیصد کے مقابلے میں50.71فیصد ووٹ لے کر ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے حسن روحانی کی پہلی انتخابی مہم کے دوران جو بیانات دیئے ان سے صاف ہوتا ظاہر تھا کہ روحانی کا بحیثیت صدر منتخب ہونا انہیں قطعاً پسند نہیں ہے۔ دوسری طرف حسن روحانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ کہتے رہے کہ وہ ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں مگرا س کے لیے درکار اقدامات پر عمل کی حتمی منظوری ان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ انہوں نے علی خامنائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن کے ہاتھ میں ریاستی معاملات طے کرنے کا حتمی اختیار ہے وہ امریکہ سے معمول کے تعلقات قائم کرنا نہیں چاہتے۔ اپنی انتخابی مہم میں سماجی حقوق کی بات کرتے ہوئے روحانی کا کہنا تھا کہ وہ جنسی بنیادوں پر نہ تو کسی شہری سے امتیاز برتنے اور نہ استحصال روا رکھنے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بلالحاظ جنس ہر شہری کے لیے مساوی حقوق پر مبنی نظام چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ شخصی آزادیاں اور معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہونا چاہیے مگر یہ حق عوام کو دینا ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران حس روحانی نے ایران کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان نسل کی ترجیح آزادی اور ترقی ہے لہذا تشدد اور انتہاپسندی کے مبلغ سن لیں کے کہ نوجوان نسل انتخابات میں انہیں مسترد کر دے گی۔ اس کے علاوہ ملکی معیشت کے متعلق انہوں نے کھل کر کہا تھا کہ سیاسی اور سیکیورٹی اداروں کے معاشی مفادات کی موجودگی میں ملکی معیشت آزادی سے ترقی کی جانب گامزن نہیں ہو سکتی۔
یہاں ایران میں عرصہ سے موجود ، جن اندرونی تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ امریکہ اور اسرائیلی کی ایرانیوں پر مسلط کردہ جنگ کے دوران پس پشت چلے گئی تھے، لیکن لگ یہ رہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے شرائط طے کرنے کے دوران پھر سے ابھرنا شروع ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران کے اندرونی تضادات کا ہمیشہ امریکہ اور اس کے حواریوں نے فائدہ اٹھایا جبکہ امن کے خواہاں معتدل مزاج لوگوں کو ہمیشہ جبر کا نشانہ بن کر نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی تسلسل میں سخت گیر مذہبی عناصر کو انتخابی عمل کے دوران بار بار شکست خوردہ ہونے کے باوجود اپنی آمریت قائم رکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔
ججوں کی کمی ۔ اصلاحات بے اثر
تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹ
حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی نظام میں بہتری، شفافیت اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs)متعارف کروائے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی اعلیٰ عدلیہ طویل عرصے سے زیر التواء مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور عوام انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں یہ اصلاحات نہ صرف خوش آئند ہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی محسوس ہوتی ہیں۔ نئے SOPsکے تحت ایک بنیادی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ اب غیر متوقع عوامی تعطیلات کے دوران بھی سپریم کورٹ کا انتظامی اور عدالتی کام جاری رکھا جائے گا، الا یہ کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس کے برعکس کوئی ہدایت جاری کریں۔ بظاہر یہ ایک سادہ انتظامی اقدام معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے اثرات نہایت گہرے ہیں۔ یہ اس اصول کی عملی تعبیر ہے کہ انصاف کا عمل کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تعطل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح مقدمات کی فکسنگ کے لیے ایک واضح، شفاف اور ترجیحی نظام متعارف کروایا گیا ہے، جو عدالتی اصلاحات کا ایک کلیدی جزو ہے۔ اس نظام کے تحت فوری نوعیت کے مقدمات، جیسا کہ ضمانت کی درخواستیں، خاندانی تنازعات، بزرگ قیدیوں کے کیسز، فوجداری نظرثانی درخواستیں اور مختصر قانونی نکات پر مشتمل معاملات کو ترجیح دی جائے گی۔ یہ درجہ بندی نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے بلکہ عدالتی وسائل کے مثر استعمال کو بھی یقینی بناتی ہے۔ مزید برآں، ہر فائنل کاز لسٹ میں کم از کم چالیس فیصد حصہ 2018ء تک کے پرانے مقدمات کے لیے مختص کرنا ایک قابلِ تحسین قدم ہے۔ اس سے ان ہزاروں سائلین کو امید کی ایک نئی کرن ملے گی جو برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ تاہم، یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ کیا محض طریقہ کار کی بہتری اس دیرینہ مسئلے کا مکمل حل پیش کر سکتی ہے؟ بدقسمتی سے، اس سوال کا جواب نفی میں نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اس وقت جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے، وہ ججز کی شدید کمی ہے۔ سپریم کورٹ ( ججوں کی تعداد) ایکٹ 2024کے مطابق عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس کے علاوہ ججز کی تعداد 33ہونی چاہیے، جبکہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق اس وقت صرف 17جج فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت اپنی نصف استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ دوسری طرف 21ہزار مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہونے کے باوجود سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 33ہزار سے زائد ہے، جبکہ مقدمات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ صورت حال نہ صرف انتظامی بلکہ آئینی مسئلہ بھی ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10۔Aاور آرٹیکل 37۔dہر شہری کو سستا، منصفانہ ٹرائل اور بروقت انصاف کی ضمانت دیتے ہیں۔ لیکن جب مقدمات دہائیوں تک زیر التواء رہیں، تو یہ آئینی حق محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی اصول ‘‘ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے‘‘ آج بھی پوری شدت سے اپنی اہمیت منواتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک خودکار کیس فکسنگ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز یقیناً جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت میں اضافہ، انسانی مداخلت میں کمی اور مقدمات کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہفتہ وار اور مجوزہ ماہانہ کاز لسٹس کا اجرا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے، جو وکلا اور سائلین دونوں کے لیے سہولت کا باعث بنے گی۔ تاہم، یہ تمام اصلاحات اس وقت تک مکمل نتائج نہیں دے سکتیں جب تک عدالتی ڈھانچے کو درکار انسانی وسائل فراہم نہ کیے جائیں۔ ججز کی کمی ایک بنیادی مسئلہ ہے، جسے نظر انداز کر کے کسی بھی اصلاحاتی عمل کی کامیابی ممکن نہیں۔ اگر ایک جج پر مقدمات کا غیر معمولی بوجھ ڈال دیا جائے، تو نہ صرف فیصلوں میں تاخیر ہوگی بلکہ انصاف کے معیار پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ رہے گا۔ لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی فوری طور پر خالی آسامیوں پر تقرری کا عمل مکمل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہائیکورٹس اور ماتحت عدلیہ میں بھی اصلاحات ناگزیر ہیں، کیونکہ مقدمات کی ایک بڑی تعداد وہیں سے اعلیٰ عدالتوں تک پہنچتی ہے۔ اگر نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی موثر ہو جائے، تو اعلیٰ عدلیہ پر بوجھ خود بخود کم ہو سکتا ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ سپریم کورٹ کے نئے SOPsایک مثبت اور امید افزا قدم ہیں، جو عدالتی نظام کو جدید، شفاف اور موثر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم، ان اصلاحات کو دیرپا، پُر اثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ججز کی کمی کو فوری طور پر پورا کرنا، عدالتی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ایک مضبوط، منصف اور مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انصاف نہ صرف فراہم کیا جائے بلکہ بروقت اور بلا امتیاز فراہم کیا جائے۔ یہی وہ معیار ہے جس کی جانب پاکستان کی عدلیہ کو پیش قدمی کرنی ہوگی۔







