ہے بے رحمی کی
حد ہے بے رحمی کی
تحریر : صفدر علی حیدری
شہر کی فضائوں میں ایک عجیب سی گھٹن تھی ۔ ہسپتال کی راہداریوں میں فینائل کی بو اور موت کی خاموشی رقص کر رہی تھی۔ وارڈ نمبر چار کے کمرے میں لگی گھڑی کی ٹک ٹک کسی جلاد کے قدموں کی چاپ جیسی محسوس ہو رہی تھی۔ بیڈ نمبر دس پر ایک ڈھانچہ نما وجود پڑا تھا، جس کی رگوں میں خون سے زیادہ دکھ دوڑ رہے تھے۔ چہرہ پیلا نہیں، راکھ ہو چکا تھا۔ ہونٹوں کی خشکی میں غربت کی دراڑیں صاف نظر آتی تھیں۔ آنکھیں گڑھوں میں دھنسی ہوئی تھیں جیسے امید بہت پہلے دفن ہو چکی ہو۔
کمرے کے کونے میں پڑا پنکھا چرچرا رہا تھا۔ اس کی آواز کسی پرانے زخم کی کراہ جیسی تھی۔ دیوار پر لگی پلاسٹر کی تہیں جھڑ رہی تھیں، جیسے نظام کی عمارت خود بوسیدہ ہو چکی ہو۔ کھڑکی سے آتی دھندلی روشنی مریض کے چہرے پر پڑتی تو لگتا جیسے زندگی کی آخری لکیر بھی مدھم ہو رہی ہو۔
’’ ڈاکٹر صاحب‘‘ مریض کی حالت کیسی ہے؟‘‘، کمپائونڈر نے تھکی ہوئی آواز میں پوچھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ کئی راتوں سے سویا نہیں تھا۔ شاید اس نے بہت سے مریض مرتے دیکھے تھے، مگر آج اس کے لہجے میں ایک الگ سی گھبراہٹ تھی۔
ڈاکٹر نی سفید کوٹ کی جیب سے رپورٹ نکالی۔ وہ کوٹ جو کبھی اجلا ہوا کرتا تھا، اب جگہ جگہ سے پیلا پڑ چکا تھا۔ اس نے چشمہ درست کیا، جو ایک طرف سے دھاگے سے بندھا ہوا تھا، اور مریض پر سرد نظر ڈالی۔’’ حالت تشویش ناک ہے۔ خون کی شدید کمی ہے، نبض کمزور ہے، جسم میں مزاحمت ختم ہو چکی ہے، سانس ادھار کی ہے، کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی ہے‘‘۔
کمپائونڈر گھبرا گیا۔’’ تو پھر فوراً خون چڑھائیں سر!‘‘۔
ڈاکٹر نے میز پر رکھی بڑی سرنج اٹھائی، سوئی کو روشنی میں دیکھا، اور بے رحمی سے مریض کی نیلی پڑی نس میں پیوست کر دیا۔
کمپائونڈر نے سکون کا سانس لیا، مگر اگلے ہی لمحے اس کا رنگ اڑ گیا۔ سرنج میں خون بھرنے لگا تھا۔’’ سر، آپ خون نکال رہے ہیں؟‘‘۔
’’ ہاں ‘‘ ۔
’’ لیکن مریض تو پہلے ہی مر رہا ہے‘‘۔
ڈاکٹر نے بے نیازی سے کہا: ’’ اوپر سے حکم ہے‘‘۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف سرنج میں بھرنے والے خون کی باریک سی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی، جیسے زندگی دھیرے دھیرے کھینچی جا رہی ہو۔
مریض نے بڑی مشکل سے آنکھ کھولی۔ ہونٹ خشک تھے۔ زبان تالو سے چپکی ہوئی۔’’ پانی‘‘، کمپائونڈر نے فوراً گلاس اٹھایا، مگر ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ روک لیا۔’’ نہیں‘‘۔’’ کیوں سر؟‘‘، ’’ پانی مہنگا ہو گیا ہے‘‘۔
کمپائونڈر نے حیرت سے دیکھا۔’’ سر، پانی بھی مہنگا؟‘‘۔ ڈاکٹر نے تلخی سے کہا: ’’ یہاں سانس بھی مہنگی ہو چکی ہے‘‘۔
’’ مریض کراہ اٹھا۔’’ میرا جسم جل رہا ہے، کوئی دوا‘‘۔ ڈاکٹر نے کہا: ’’ دوا دیں گے، مگر پہلے کچھ اور خون لینا ہوگا‘‘۔
’’ کیوں؟‘‘۔ ’’ کیونکہ دوا درآمد ہوتی ہے، اور ڈالر مہنگا ہو گیا ہے
کمپائونڈر کی آواز کانپ گئی۔’’ سر، یہ تو الٹا علاج ہے‘‘۔ ڈاکٹر نے سرد لہجے میں کہا: ’’ یہ علاج نہیں، پالیسی ہے‘‘۔
مریض نے کمزور سی آواز میں پوچھا’’ میں کون ہوں؟‘‘۔
’’ تم عوام ہو‘‘۔
’’ اور آپ؟‘‘۔
(باقی صفحہ5پر ملاحظہ کیجئے )
’’ ہم نظام ہیں‘‘۔
مریض ہلکی سی ہنسی ہنسا، جو فوراً کراہ میں بدل گئی۔’’ میں صبح مزدوری کی تلاش میں نکلا تھا، کوئی کام نہیں ملا، دکانیں بند، فیکٹریاں خاموش، کھیت سوکھے، بازار سنسان، میں خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا، بچے رو رہے تھے، بیوی نے پوچھا آج کیا لائے ہو، میں خاموش رہا، چولہا ٹھنڈا تھا، اور اب آپ میرا خون نکال رہے ہیں؟‘‘۔
ڈاکٹر خاموش رہا۔ کمپائونڈر نے کہا: ’’ سر، اس کے ہاتھ دیکھیں، چھالے ہیں‘‘ ۔
’’ پتہ ہے‘‘۔
’’ یہ مزدور ہے‘‘۔
’’ جانتا ہوں ‘‘۔
’’ اس کے بچے بھوکے ہوں گے‘‘۔
ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا: ’’ مجھے علم ہے، مگر حکم یہی ہے‘‘۔
مریض کی آواز کانپنے لگی۔’’ میرا بیٹا اسکول نہیں گیا، فیس نہیں، بیٹی کی کتابیں ادھار، بیوی بیمار، چولہا ٹھنڈا، گھر کا کرایہ باقی، دکاندار ادھار بند کر چکا، بجلی کا بل جمع نہیں ہوا، گیس بند ہے، اور آپ میرا خون لے رہے ہیں؟‘‘۔
ڈاکٹر نے فائل بند کی۔’’ قیمتیں بڑھانا ضروری ہے‘‘۔
’’ کیوں؟‘‘۔
’’ خزانہ خالی ہے‘‘۔
’’ تو اسے بھریں‘‘۔
’’ کس سے؟‘‘۔
’’ ہم سے؟‘‘۔
’’ ہاں‘‘۔
مریض نے آنکھیں بند کر لیں۔ ’’ میں تو پہلے ہی خالی ہوں‘‘۔
ڈاکٹر نے سرنج کی طرف دیکھا۔’’ نکالنے والے خالی سے بھی نکال لیتے ہیں‘‘۔
مشین بیپ دینے لگی۔
کمپائونڈر گھبرا گیا۔’’ سر، بلڈ پریشر گر رہا ہے‘‘۔
’’ اور نکالو‘‘۔
’’ نبض کمزور ہے‘‘۔
’’ اور نکالو‘‘۔
’’ دل رک رہا ہے‘‘۔
’’ اور نکالو‘‘۔
مریض نے آخری طاقت سے کہا: ’’ میں کسان ہوں، میں رکشہ والا ہوں، میں ملازم ہوں، میں بیروزگار ہوں، میں دکاندار ہوں، میں مزدور ہوں، میں ریٹائرڈ ہوں، میں بیوہ ہوں، میں یتیم ہوں، میں عوام ہوں‘‘، اس کی آواز مدھم ہو گئی۔
’’ مریض آئی سی یو میں ہے اور ڈاکٹر خون نکال رہے ہیں‘‘۔
مشین نے لمبی آواز نکالی۔ بی پ۔ خاموشی۔
کمپائونڈر ساکت رہ گیا۔’’ سر، یہ مر گیا‘‘۔
ڈاکٹر نے سرد لہجے میں کہا ’’ اگلا مریض لے آئو‘‘۔
دروازہ کھلا۔
باہر پوری قوم کھڑی تھی۔
بوڑھے، نوجوان، عورتیں، بچے، سب کے چہرے زرد تھے۔
سب کی آنکھیں خالی تھیں۔
سب کے بازو آگے بڑھے ہوئے تھے۔
قطار بہت لمبی تھی۔
انتہا نظر نہیں آ رہی تھی۔
ہر چہرہ ایک جیسا تھا۔
ہر آنکھ میں ایک ہی سوال تھا۔
کوئی شور نہیں تھا۔
کوئی احتجاج نہیں تھا۔
کوئی آواز نہیں تھی۔
صرف خاموشی تھی،
اور اس خاموشی میں ایک ایک کر کے زندگیوں کا خون نکالا جا رہا تھا۔







