ColumnQadir Khan

یورپ کی معاشی اور تزویراتی بقا کی کڑی جنگ

یورپ کی معاشی اور تزویراتی بقا کی کڑی جنگ

تحریر : قادر خان یوسف زئی

عالمی سیاست کے اس بے رحم شطرنج پر اگر ہم آج یورپ کی بے بسی، معاشی بدحالی اور ہنگامی فیصلوں کا تجزیہ کریں تو یہ قطعی غلط نہ ہوگا کہ یورپ، جو کبھی انسانی حقوق، عالمی امن اور معاشی استحکام کا سب سے بڑا علمبردار بنتا تھا، آج اپنی ہی معاشی اور تزویراتی بقا کی کڑی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہوش ربا اعداد و شمار اس امرکے گواہ ہیں کہ اس حالیہ تنازعہ کے آغاز سے لے کر اب تک یورپی یونین کو محض توانائی کی مد میں 25ارب یورو ( تقریباً 29.28ارب ڈالر) کا اضافی اور غیر ضروری بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ یہ وہ خطیر رقم ہے جس سے یورپ کو تیل کا ایک اضافی قطرہ بھی نہیں ملا، بلکہ یہ محض رسد کی بندش، جہاز رانی کے طویل راستوں اور بین الاقوامی منڈی میں پھیلے خوف کی قیمت ہے۔ ہوابازی کے شعبے کا تو یہ حال ہو چکا ہے کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول کے حالیہ انتباہ کے مطابق، یورپ کے پاس اب بمشکل چھ ہفتوں کا جیٹ فیول ( ہوابازی کا ایندھن) باقی بچا ہے، جو خطے کی تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کا کھلا ثبوت ہے۔

جرمنی کی سب سے بڑی اور مشہور ایئرلائن لفتھانزا نے ایندھن کی دوگنی ہوتی ہوئی قیمتوں اور شدید قلت کے پیشِ نظر موسم خزاں تک اپنی 20 ہزار پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ کے ایل ایم اور دیگر فضائی کمپنیاں بھی اسی تاریک راہ پر گامزن ہیں۔ یہ ایک ایسا ہولناک معاشی المیہ ہے جس نے یورپی ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا ہے، اور ان کی چیخیں اور اضطراب 24اپریل 2026ء کو قبرص کے دارالحکومت نیکوسیا میں ہونے والے یورپی یونین کے خصوصی سربراہی اجلاس میں صاف سنائی دیں۔نیکوسیا کے اس غیر معمولی اور کثیر الجہتی اجلاس میں، جہاں یورپی قیادت کے ساتھ ساتھ عرب اور مشرق وسطیٰ کے رہنما بھی شریک تھے، یورپ نے اپنے روایتی خول سے باہر نکل کر ایک تلخ حقیقت کا سامنا کیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فون ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے انتہائی واضح اور دو ٹوک الفاظ میں یہ مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط اور بغیر کسی ٹول ٹیکس کے فوری طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولا جائے۔

ارسولا فون ڈیر لیین نے اسی اجلاس میں بحیرہ احمر میں جاری یورپی یونین کے موجودہ ’’ ایسپیڈس‘‘ بحری مشن کی حدود کو وسیع کر کے اسے آبنائے ہرمز تک پھیلانے اور ایک جدید، مشترکہ سمندری کوآرڈینیشن میں تبدیل کرنے کی تزویراتی تجویز بھی پیش کر دی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یورپ اب اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور بالخصوص لبنان کے بحران کا براہ راست اثر ان کی اپنی سلامتی اور معیشت پر ہے، اور اسی لیے وہ جنگ بندی اور جامع سفارتی حل کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اجلاس میں جرمن چانسلر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران پر سے پابندیاں بتدریج اٹھانے پر غور کیا جا سکتا ہے، گو کہ اسے فوری طور پر دیگر محتاط یورپی رہنماں نے قبل از وقت اور مشروط قرار دے کر مسترد کر دیا۔

امریکہ، جسے شاید یورپ کی اس معاشی تباہی اور صنعتی زوال سے کوئی خاص ہمدردی نہیں، اپنی عالمی بالادستی کی ضد اور ہٹ دھرمی پر سختی سے قائم ہے۔ 21اور 24اپریل 2026ء کو امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے اتحادیوں کی پرواہ کیے بغیر ’’ اکنامک فیوری‘‘ کے نام سے ایک ایسی خوفناک معاشی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جس کا واحد مقصد ایران کے گرد معاشی اور مالیاتی گھیرا انتہائی تنگ کرنا ہے۔ امریکہ نے نہ صرف ایران بلکہ اس بار براہ راست چین کی دوسری بڑی’’ ٹی پاٹ‘‘ آئل ریفائنری ہینگلی پیٹرو کیمیکل کو نشانہ بنایا، اور 40کے قریب ان تجارتی جہازوں، کمپنیوں اور شیڈو فلیٹ پر کڑی ثانوی پابندیاں عائد کر دیں جو ایرانی تیل کی بلیک مارکیٹ سے جڑے تھے۔ بات صرف روایتی بینکاری تک محدود نہیں رہی، بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی چھاپہ مارتے ہوئے ایران سے منسلک 344ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی کے اثاثے بیک جنبشِ قلم منجمد کر دئیے گئے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا یہ متکبرانہ اور غیر سفارتی بیان کہ اب ان کا بحری محاصرہ عالمی ہو چکا ہے اور امریکی بحریہ کی پیشگی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز کسی بھی منزل کی جانب نہیں گزر سکتا، اس امر کی کھلی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ عالمی تجارتی قوانین اور بین الاقوامی پانیوں کی آزادی کو اپنے مخصوص مفادات کے تحت ہی دیکھتا ہے۔

اس امریکی جبر اور معاشی طوفان کے سامنے یورپ نے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے بالآخر اپنی عسکری اور سفارتی صف بندی کا آغاز کر دیا ہے۔ 17اپریل کو پیرس میں 51ممالک کے ایک بڑے اور اہم اجلاس کے بعد، برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ قیادت میں 22اور 23اپریل کو لندن کے نارتھ ووڈ فوجی ہیڈکوارٹر میں 30سے زائد ممالک کے اعلیٰ فوجی منصوبہ ساز سر جوڑ کر بیٹھے۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے اس موقع پر بجا طور پر نشان دہی کی کہ لاکھوں انسانوں کا معاشی اور سماجی مستقبل اب اس پیچیدہ فوجی حکمت عملی پر منحصر ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گی اور سمندر کو بارودی سرنگوں سے پاک کرے گی۔ تاہم، اس تمام تر کثیر القومی فوجی مشق اور صف بندی کی حتمی کامیابی اس کڑوی گولی کو نگلنے میں پنہاں ہے کہ پہلے خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مستحکم اور پائیدار جنگ بندی قائم ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اٹلی سمیت کوئی بھی یورپی اور خلیجی ملک اس وقت ایک وسیع تر اور تباہ کن علاقائی جنگ کا براہ راست ایندھن بننے کو تیار نہیں۔

عالمی بساط پر ایک عجیب سا تضاد اور واضح خلیج نظر آتی ہے۔ بادی النظر، یورپ اب گہری نیند سے جاگ رہا ہے؛ وہ جان چکا ہے کہ امریکی مفادات کی بھینٹ چڑھ کر وہ اپنے عوام کو بے روزگاری، مہنگائی اور اندھیروں میں نہیں دھکیل سکتا۔ آبنائے ہرمز کا یہ سنگین بحران محض تیل یا گیس کے چند بیرلز کا عام سا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نئے عالمی نظام، بدلتی ہوئی صف بندیوں اور بین الاقوامی رشتوں کی بقا کے کڑے امتحان کا وقت ہے۔ اگر سفارتکاری کے ذریعے اس آگ کو جلد نہ بجھایا گیا اور بحری راستوں کی آزادی کو یقینی نہ بنایا گیا، تو اس کے شعلے صرف مشرق وسطیٰ کو خاکستر نہیں کریں گے، بلکہ پوری دنیا کی معیشت، سپلائی چین اور امن کو بھسم کر کے رکھ دیں گے۔ وقت کا اولین تقاضا ہے کہ عالمی طاقتیں ضد، ہٹ دھرمی اور انا کے خول سے فوری باہر نکلیں، وگرنہ آنے والی تاریخ انہیں اس مجرمانہ غفلت پر کبھی معاف نہیں کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button