لچک، امن یا تباہی

لچک، امن یا تباہی
تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)
مشرق وسطی کے حالات انتہائی غیر یقینی سے دوچار ہیں اور پل پل ان میں تبدیلی اور تیزی بخوبی دیکھی جا سکتی ہے، گزشتہ ہفتہ بظاہر یہ معاملات جمود کا شکار دکھائی دیتے تھے اور امکانات یہی تھے کہ جنگ بندی مدت پوری ہوتے ہی امریکہ اپنی پوری طاقت سے ایران پر حملہ کر کے، اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا دے گا اور ایران کو برباد کر کے رکھ دے گا مگر حیرت انگیز طور پر وزیراعظم پاکستان کے ایک ٹوئٹ پر ، امریکی صدر نے ایک بار پھر جنگ بندی کی مدت کو کامیاب مذاکرات تک ملتوی کر دیا۔ امریکی صدر کے اس اقدام سے بظاہر یوں محسوس ہوا کہ دانشمندی کا مظاہرہ فریقین کی جانب سے کیا گیا ہے اور پس پردہ ہونے والی سفارت کاری نے اپنا رنگ دکھایاہے ،فریقین کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے جبکہ دوسری جانب فریقین کے تند و تیز بیانات اس حقیقت سے متضاد نظر آ رہے تھے۔ دونوں فریق مسلسل اپنے اپنے موقف پر بضد دکھائی دیتے تھے ،ایران کی جانب سے امریکہ پر آبنائے ہرمز کی بلاجواز ناکہ بندی کو بحری قزاقی قرار دیا جارہا تھا ،اور ہے جبکہ امریکہ کا اپنا موقف تھا کہ آبنائے ہرمز سے چین ،ایران کو دفاعی سازوسامان فراہم کر رہا ہے اور دوسری طرف دوران جنگ ایران کس طرح اور کیونکر مہ صرف اپنی طاقت کا اظہار کرے بلکہ آبنائے ہرمز سے اپنی آمدن بھی جاری رکھے کہ یہ دونوں معاملات بیک وقت نہیں چل سکتے۔ لہذا امریکہ اس جنگ کی آڑ میں ایک طرف چین پر دباؤ ڈالتا رہا اور دوسری طرف اپنے تئیں ایران کی آمدن پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کر رہا ہے،کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دوران جنگ ،دنیا کا کوئی دوسرا ملک،جنگ میں شریک ملک کو دفاعی سازوسامان فراہم نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی ایک فریق کوہتھیارفراہم کرسکتا ہے وگرنہ یہ عمل بذات خود جنگ میں شریک ہونے کے لئے کافی ہے،یوں امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بیرونی ناکہ بندی کررکھی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایک طرف امریکہ جنگ بندی کے دوران ایران سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے اور دوسری طرف امریکہ نے خود عالمی تجارت کو آبنائے ہرمز کی بیرونی ناکہ بندی کرکے روکنے کی کوشش کی ہے کہ اس ناکہ بندی کے باوجود فریقین ناکہ بندی ٹوٹنے کے دعوے مسلسل کررہے ہیں کہ ایران کی جانب سے بھی یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اس کے جہاز امریکہ ناکہ بندی توڑ کر آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں تو امریکہ بھی یہ دعوی کرتا ہے کہ اس نے ایران کے متعدد جہازوں کو رخ موڑنے پر مجبور کردیا ہے،یوں دونوں فریق اپنی برتری ثابت کرنے پر تلے ہیں۔اس سب کے باوجود امریکی صدر بضد ہیں کہ ایران کو امریکی ڈیل ہر صورت قبول کرنا ہوگی وگرنہ ایران کے ساتھ انتہائی سختی کے ساتھ نپٹا جائے گا امریکی صدر کے مطابق انہوں نے ایران کو ایک بہترین ڈیل کی پیشکش کی ہے،جسے ایران کو فوری قبول کرنا چاہئے تو دوسری طرف ایران اس ڈیل کو غیر منصفانہ ہی نہیں بلکہ اپنے لئے شدید ہزیمت و رسوائی خیال کرتا ہے کہ اس ڈیل کا مقصد ایران کو میدان جنگ میں جیتی ہوئی لڑائی،مذاکرات کی میز پر ہتھیار ڈالنے کی باضابطہ کارروائی ہو گی، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق ،مذاکرات کے پہلے دور میں بہت سے نکات پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا تھا البتہ دو معاملات ایسے تھے کہ جن پر اختلاف رائے موجود تھا اور ایران ان پر سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھابلکہ ان دو نکات میں بھی جوہری صلاحیت کے حصول کی مدت پر اختلاف رائے تھا کہ امریکہ کی جانب سے یہ مطالبہ رکھا گیا تھا کہ ایران کسی بھی صورت جوہری صلاحیت حاصل نہیں کرے گا،جسے کم کرکے اس کی مدت اگلے بیس سال تک جوہری صلاحیت حاصل نہیں کرنا تھی جبکہ ایران اس مدت کو پانچ سال تک محدود کرنے کا مطالبہ کررہا تھا۔ دوسرا نکتہ افزودہ یورنیم کا آئی اے ای اے یا امریکہ کے حوالے کرنا تھا ،جس کو ایران کسی بھی صورت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ ایران کسی حد اس افزودہ یورنیم کی انسپکشن ،ایرانی سرزمین پر کروانے کے لئے آمادہ نظر آتاہے لیکن اب اس کو بھی اسرائیلی ایٹمی پروگرام کی مفصل انسپکشن و تفصیلات عالمی برادری کو فراہم کرنے کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خطے کا صرف ایک ملک اپنی ایٹمی صلاحیت کو خفیہ رکھے جبکہ دیگر ممالک کے لئے اپنے ایٹمی پروگرامز کو افشا کرنے کا شدید دبائو ہو؟ امریکہ کی یہ یکطرفہ پالیسی بذات خود غیر منصفانہ اور متعصبانہ ہے ،جس کے باعث خطے کا امن ہمہ وقت بارود کے ڈھیر پر دکھائی دیتا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک تو امن پسندی کا ثبوت دیتے ہیں جبکہ صرف اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی باعث پڑوسی ممالک پر ہمہ وقت حیلے بہانوںسے جارحیت کامرتکب ہوتارہتاہے اور خطے کے امن کو داؤ پر لگارکھا ہے۔
بہرکیف جنگ بندی کی اس مدت کے دوران امریکہ نے خاموشی اختیار نہیں رکھی بلکہ اس جنگ بندی کو وقت کا حصول جانتے ہوئے،اپنے بحری بیڑوں کی مرمت کا کام انتہائی شدومد کے ساتھ جاری رکھا ہے اور اس کے علاوہ اپنے فوجیوں کو خطے میں منتقل کرتا رہا ہے۔ یوں اس عرصہ میں ایک طرف امریکہ نے اپنے بحری بیڑے کو دوبارہ متحرک و فعال کرلیا ہے بلکہ اپنے ان بیڑوں کو دوبارہ بحیرہ احمر،بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کے قریب تعینات کردیا ہے۔ان بیڑوں میں ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں جنگی طیارے موجود ہیں تو دوسری طرف ان بیڑوں پر امریکی فوجیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس وقت موجود ہے،جو امریکی عزائم کو آشکار کررہی ہے گو کہ ابھی تک یہ امریکی بیڑے،ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی رینج سے باہر ہیں لیکن ایران کا یہ دعوی ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنے ہتھیاروں کے پرانے ورژن جنگ میں آزمائے ہیں جبکہ اس کے جدید ترین ہتھیار ابھی تک محفوظ ہیں اور امریکی اگلی مہم جوئی میں ایران،امریکہ کو بڑا سرپرائز دے گا۔ ابھی تک کی جنگی صورتحال کو مد نظر رکھیں ،تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایران نے ہر محاذ پر امریکہ کو سرپرائز دیتے ہوئے شدید ترین نقصانات سے دوچار کیا ہے جبکہ امریکی صدر نے زیادہ تر جھوٹے بیانات سے ہاری ہوئی جنگ میں کامیابی کا اظہار کیا ہے جبکہ زمینی حقائق کلیتا مختلف ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے ،ایرانی فضائیہ ( جو جنگ سے قبل بھی انتہائی کمزور حالت میں تھی اور کسی بھی صورت مقابلے کی نہیں تھی) کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی نیوی کو بھی سو فیصد تباہ کرنے کا دعویٰ کررکھاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی نیوی ساٹھ فیصد تک ابھی بھی محفوظ ہے، جس کا اظہار ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کی صورت ظاہر کرکے امریکی صدر کے دعوے کو باطل ثابت کر رکھا ہے۔ اسی طرح امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی میزائل و ڈرون صلاحیت بھی 50%تک محفوظ ہے اور جو ڈرونز اور میزائل ایران نے جنگ میں استعمال کئے ہیں، ان کی کمی کو بھی ایران جلد پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ ایرانی ڈرونز اور میزائل قدرے کم قیمت اور جلد تیار ہوجانے والے ہیں جبکہ امریکی میزائل اور انٹرسیپٹرز کی تیاری میں تین سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہے، یوں ایران کو اس وقت بھی جنگی برتری حاصل ہے اور وہ اپنے دعوے کے مطابق میدان جنگ میں سرپرائز دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان، بطور ثالث اس سارے کھیل میں ایک انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کے مفاد میں یہی ہے کہ کسی بھی طرح یہ جنگ رک جائے وگرنہ پاکستان ایک ایسی مشکل صورتحال سے دوچار ہو گا کہ پاکستان کے لئے کوئی بھی پوزیشن اختیار کرنا اس کے لئے مشکل کا باعث ہوگا۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت ابھی تک پاکستان نے سعودی عرب کو امریکی و اسرائیلی سازشوں و فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے قائل کر رکھا ہے اور انہیں صبر و تحمل کے ساتھ اس جنگ میں شامل ہونے سے روک رکھا ہے لیکن امریکی و ایرانی دعوئوں کے مطابق اگر جنگ بندی مستقل نہیں ہوتی اور دوبارہ جنگ شروع ہو جاتی ہے تو پاکستان کو کسی ایک طرف کھڑا ہونا پڑے گا، جس سے پاکستان کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہوگا،یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس وقت بھرپور کوشش میں ہے کہ اس جنگ بندی کو مستقل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ گزشتہ روز چین نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران سے نکلنے کی ہدایت کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا بھی کہہ دیا ہے، ماہرین کے مطابق،28فروری کے حملے سے قبل بھی چین کی جانب سے اپنے شہریوں کو ایسی ہی ہدایت جاری کی گئی تھی ،لہذا اس چینی ہدایت اور امریکی جنگی نقل و حرکت کو مد نظر رکھتے ہوئے، قوی امکان یہی نظر آتا کہ امریکہ ایک بار پھر ایران پر حملہ آور ہونے کو ہے۔ کامیاب مذاکرات تک جنگ بندی میں توسیع، امریکی آئین و قانون کے تحت کہ امریکی صدر جنگ شروع تو کر سکتا ہے لیکن ساٹھ دن کے اندر اس کی منظوری کانگرس سے حاصل کرنا لازمی ہے وگرنہ مواخذے کا امکان ہے، فریقین یا کم از کم امریکہ اپنے موقف میں لچک دکھاتے ہوئے مستقل امن پر چلیں بصورت دیگر امریکہ اگلے چند دنوں میں شدید کارروائی کرتے ہوئے، ایران کو تباہ کرتے ہوئے پتھر کے دور میں دھکیل کر ساٹھ دنوں کے اندر اندر جنگ مکمل کر لے۔







