ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان
خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی فضا بے یقینی اور کشیدگی کا شکار ہے، یہ دورہ نہ صرف دو برادر ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ وسیع تر علاقائی امن کے لیے بھی ایک امید افزا پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد آمد پر ایرانی وفد کا جس گرم جوشی سے استقبال کیا گیا، وہ پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے نور خان ایئر بیس پر استقبال اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔ یہ سفارتی سرگرمی اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اور متحرک کردار ادا کررہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اہم حکام شامل ہیں، دراصل ایک وسیع تر سفارتی عمل کا حصہ ہیں۔ ان ملاقاتوں میں نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسے حساس وقت میں براہِ راست مکالمہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو کشیدگی کو کم کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم پہلو ہمیشہ سے امن کے فروغ پر مبنی رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ثالثی اور پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے اسلام آباد میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی اور علاقائی تنازعات کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر، پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہوجاتا ہے۔ پاکستان نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم مقام رکھتا ہے بلکہ اس کے ایران، چین اور امریکا سمیت مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اسے ایک مثر ثالث بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں اسلام آباد ایک سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ تاہم، اس سارے عمل کا سب سے اہم پہلو امن کا قیام ہے۔ جنگ، کشیدگی اور تنازعات نے ہمیشہ خطے کے عوام کو نقصان پہنچایا ہے۔ معیشت تباہ ہوتی ہے، ترقی کا عمل رک جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، امن نہ صرف معاشی ترقی کا ضامن ہوتا ہے بلکہ عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں بہتری کا راستہ بھی ہموار کرتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان قریبی تعلقات خطے میں استحکام کے لیے ایک مثبت عنصر ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون، تجارت اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دے کر ایک مضبوط علاقائی بلاک تشکیل دیا جاسکتا ہے جو بیرونی دبا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ دورہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ دوسری جانب امریکا کے نمائندوں کی ممکنہ آمد بھی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اس خطے میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ اگر پاکستان کامیابی کے ساتھ ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کر دیتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگی۔ یہ وقت جذباتی فیصلوں کا نہیں بلکہ دانش مندانہ حکمت عملی اپنانے کا ہے۔ فریقین کو چاہیے کہ وہ تحمل، بردباری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ یہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اس کے برعکس، سفارت کاری اور مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرے اور ایک غیر جانبدار، مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے۔ اس کے ساتھ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور قومی یکجہتی کو بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان ایک سنہری موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور سفارتی کوششوں کو نتیجہ خیز بنایا جائے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہوسکتی ہے بلکہ پورا خطہ امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ذاتی اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی امن کو ترجیح دیں۔
پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
حکومت کی جانب سے گزشتہ روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک اہم اور ناگزیر فیصلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ اس فیصلے نے عوام پر وقتی مالی دبائو ضرور بڑھایا ہے، تاہم اس کے پس منظر میں موجود عالمی حالات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھائو کا شکار ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس صورت حال سے متاثر ہورہے ہیں اور اپنی معاشی پالیسیوں میں مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان بھی انہی عالمی حقائق سے الگ نہیں اور حکومت کو بین الاقوامی معاہدوں اور مالی تقاضوں کے تحت قیمتوں میں ردوبدل کرنا پڑا ہے۔ اہم بات یہ کہ حکومت نے حتی الامکان عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باوجود حکومت نے مکمل بوجھ فوری طور پر منتقل نہیں کیا بلکہ سبسڈی کے ذریعے کافی حد تک عوام کو سہارا دیا اور اب بھی ٹارگٹڈ سبسڈی دی جارہی ہے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ توانائی کا شعبہ کسی بھی معیشت کی بنیاد ہوتا ہے اور اس میں عدم توازن وسیع معاشی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اگر حکومت بروقت فیصلے نہ کرے تو مالیاتی خسارہ اور درآمدی دبائو مزید بڑھ سکتا ہے جو بالآخر عوام ہی کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم بطور قوم صبر اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ جیسے ہی عالمی حالات بہتر ہوں گے عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان فیصلوں کو وقتی تناظر میں دیکھنے کے بجائے وسیع تر قومی مفاد کے تحت سمجھا جائے۔ مشترکہ کوششوں اور بہتر عالمی حالات کے ساتھ ہی پائیدار معاشی استحکام اور حقیقی ریلیف ممکن ہوسکے گا۔ اس دوران حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط رکھنا بھی بے حد ضروری ہے، تاکہ مشکل فیصلوں کو بہتر انداز میں قبول کیا جاسکے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکے۔ یہ مرحلہ عارضی ہے اور جلد بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔ پاکستانی کوششیں جاری ہیں، ان شاء اللہ یہ کشیدگی جلد اختتام کو پہنچے گی۔







