Columnمحمد مبشر انوار

حل سڑکوں پر 

حل سڑکوں پر

تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)

عمران خان بطور وزیراعظم اس زعم میں رہے کہ پاکستان میں اقتدار کا محور و مرکزتمام سیاستدانوں کو آزما چکا اور کسی بھی سیاسی قیادت نے پاکستان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی لہذا مقتدرہ کے لئے آخری آپشن صرف عمران خان ہی ہیں، اس لئے مقتدرہ انہیں اقتدار سے نہیں نکالے گی۔ اس امر کا انہوں نے بارہا برملا اظہار بھی کیا اور اس کے پس پردہ وہ حقائق تھے جو عمران خان کی آنکھوں کے سامنے تھے اور ان حقائق کی موجودگی میں کسی بھی شخص کے لئے یہ تسلیم کرنا کہ مقتدرہ کے پاس کوئی متبادل نظام یا شخصیت موجود ہوگی، امر محال ہی تھا۔ ان حقائق میں سرفہرست تو ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ تھی ،جس کی فائلیں مقتدرہ صحافیوں میں تقسیم کرتی رہی اور پانامہ کے ہنگام یہ معاملہ زیادہ زور پکڑ گیا اور سب کو یہ نظر آنے لگا کہ گذشتہ تین دہائیوں سے اقتدار پر قابض ان سیاستدانوں کی سیاست پاکستان میں ختم ہو چکی اور اب پاکستانی سیاست کے افق پر نیا سورج طلوع ہوگا ،پاکستانیوں کی مشکلات ختم ہو ں گی ،پاکستان اپنی گم گشتہ شاہراہ پر تیزی اور یکسوئی کے ساتھ اپنا سفر شروع کرے گا مگر صد افسوس کہ یہ ہو نہ سکا اور پھر انہی پرانے سیاستدانوں کو مسند اقتدار پر لابٹھایا گیا۔ افسوس اس امر کا ہے کہ عمران خان ،جو بذات خود یہ کہتے رہے کہ وہ اس نظام میں فرشتے کہاں سے لائیں، مزید یہ کہ اگر قیادت ایماندار ہو تو ٹیم کو راہ راست پر رکھا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود عمران خان کو 2018ء کے انتخابات میں واضح اکثریت نہیں لینے دی گئی گو کہ اکثر ناقدین اور دانشور یہ کہتے رہے کہ مجوزہ انتخابات میں ،سسٹم کو بٹھا کر عمران خان کو فتح دلوائی گئی،جو بعد ازاں صریحا غلط ثابت ہوئی کہ سسٹم بیٹھنے سے قبل تک پی ٹی آئی کی واضح اکثریت کو تبدیل کر دیا گیااور پی ٹی آئی کو دانستہ محدود نشستیں دی گئی۔ اس کی وجہ انتہائی سادہ ہے کہ 1997ء میں مقتدرہ کی جانب سے اپنے تئیں انتہائی ’’ شریف‘‘ سیاستدان کو دوتہائی اکثریت دلوائی گئی کہ وہ نہ صرف وفادار بلکہ تابعدار بھی رہے گا لیکن بدقسمتی سے ،دوتہاری اکثریت رکھنے والے ’’ شریف‘‘ سیاستدان نے پورا نظام حکومت ہی تبدیل کرنے کی ٹھان لی۔ ایک ایسی دوتہائی اکثریت کی بنیاد پر ،جو واقعتا اس کی اپنی تھی ہی نہیں لیکن اس زعم میں کہ وہ واقعی عوام میں انتہائی مقبول ہے اور اسے عوام نے ہی دوتہائی اکثریت سے منتخب کیا ہے،اپنے محسنوں ہی نہیں بلکہ اس نظام کو ہی لپیٹنے کی کوشش کی،جس میں وہ مسند اقتدار پر بٹھایا گیا تھا،مقصد صرف اتنا تھا کہ کسی بھی صورت اسے اقتدار سے الگ نہ کیا جا سکے لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ بعد ازاں دس سالہ معاہدہ کرکے،ملک بدری کا سودا کیا کہ اس کے سوا جان بچانے کی کوئی صورت باقی نہیں بچی تھی اور ایک تاجر و موقع پرست سیاستدان کے لئے ،جان بچانا اس لئے ضروری تھا کہ اگر جان باقی ہے تو اقتدار میں آنے کا موقع موجود ہے کہ تاجران میں اصولی سیاست کس چڑیا کا نام ہے؟یہی صورتحال ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت اور اس کے قائدین کا رہا کہ ملک بدری کے دوران ایک طرف سابق معزول و معتوب وزیراعظم کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کی کوششیں ہوتی رہی،میثاق جمہوریت پر دستخط ہوتے رہے جبکہ موقع ملتے ہی،ایک آمر کے ساتھ بھی روابط جاری رہے گو کہ ان روابط کا منطقی نتیجہ دونوں ملک بدر سابق وزرائے اعظم کی ملک واپسی اور سیاست کی دروازے کھلنے پر ہی ختم ہوتا مگر عوامی حمایت کی بجائے، آمر کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دی گئی۔ یہاں یہ امر بہرطور برمحل ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں عوامی حمایت کا دعوی کرنے والے ،دیکھنے میں خواہ کتنے ہی جمہوری ہوں درحقیقت نرگسیت کے شکار اور ذاتی حیثیت میں کسی آمر سے کم نہیں رہے،لہذا ان حکمرانوں نے اپنے خلاف مقدمات کا سامنا عدالتوں کی بجائے،آمروں کے ساتھ بیٹھکوں میں کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ اس کا ایک ثبوت مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی ،چار سال بعد وطن واپسی کے موقع پر بھی سامنے آیا،جب عدالتی اہلکار،ان کی ضمانت کنفرم کرنے کے لئے ،ایئرپورٹ پر جا حاضر ہوئے کہ ان کے معاملات بہرطور کہیں اور طے ہو چکے تھے گو کہ یہ طرزعمل ہمارے عدالتی نظام کو بری طرح ننگا کر گیا مگر صد افسوس کہ وہ تو صرف ایک ٹریلر تھا کہ اصل پکچر تو چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کے بعد چلی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ،تاریخ کے کسی بھی طالبعلم کو اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ جس پاکستانی سیاستدان نے ،جمہوریت کی بات کی یا عوامی حمایت کے زعم میں ،مقتدرہ کی بات سننے سے انکار کیا،اس کے خلاف کیا کیا کچھ نہیں کیا گیا،اسے کیسے کیسے جھکانے کی کوشش نہیں کی گئی،کس کس طرح اس کو توڑنے کی کوشش نہیں کی گئی بصورت دیگر اس کو کس طرح عبرت کانشان نہیں بنایا گیا؟ابتداء تو خیر قائداعظمؒ سے ہی ہو گئی تھی کہ جن کو ہم بابائے قوم کہتے تھے، ان کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا اور کس طرح ان کی جان کے درپے ہوئے،اس کے بعد قائد ملت ہوں یا مادر ملت، ان پر کیسے کیسے گھنائونے اور رکیک الزامات نہیں لگائے گئے اور کیسے انہیں زندگی سے نجات دلائی گی،جو آج بھی ایک سربستہ راز ہے، یہ سب کرنے والے کون تھے؟ مادر ملت کے دست راست، شیخ مجیب الرحمٰن کو غدار بنانے والے اور اس کے خلاف مقدمات کی بھرمار کرنے والے کون تھے اور کون کون آلہ کار رہا؟ انہی آلہ کاروں میں سے ایک بعد ازاں قائد عوام بھی بنا مگر جیسے ہی اس قائد عوام کو عوامی حمایت کا نشہ چڑھا، اس کا نشہ کیسے اتارا گیا؟کیا آج کی عدلیہ نے اس کو عدالتی قتل تسلیم نہیں کیا؟قائد عوام کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹوں کو تسلیم نہیں کیا؟عدالتی تعصب کا اعتراف نہیں کیا؟عدالتوں پر دبائو کا اقرار نہیں کیا؟مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج عدالتیں آزاد، دبائو سے پاک اور تعصب سے مبرا ہیں؟ آج کی عدالتیں تو ماضی کی عدالتوں سے بھی گئی گزری دکھائی دیتی ہیں کہ ماضی میں تو خیر مارشل لاء تھا جبکہ آج کی عدالتیں تو قانون سازی کے نتیجہ میں بے دست و پا ہو چکی ہیں اور اپنے روزمرہ کے امور کی انجام دہی میں بھی اشارہ ابرو کی منتظر دکھائی دیتی ہیں۔ بہرطور اس سب کے باوجود بھی اگر غیر جانبدارانہ دیکھا جائے تو اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ مقدمات کی پیروی میں یا عدالتوں کے فیصلوں کے سامنے ،ماضی میں پیپلز پارٹی نے سر جھکایاجبکہ اس وقت پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی بہنیں تمام تر جانبداری کا الزام لگانے کے باوجود،انہی عدالتوں کے سامنے پیش ہو رہے ہیں ۔ ان کا یہ رویہ اس امر کا غماض ہے کہ وہ واقعتا قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ عدالتیں ،اس قدر مجبور ہیں کہ خود کو تسلیم کرنے والوں کو بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کی پارٹی اور ان کے اراکین ہیں، جو عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک تو جا پہنچے ہیں لیکن بدقسمتی سے انتخابات میں عوام سے عمران خان کی رہائی کے وعدے کرنے کے باوجود،عملا کچھ کرنے سے قاصر ہیں یا کرنا ہی نہیں چاہتے؟ عوامی حمایت عمران خان کے ساتھ ہونے کے باوجود،جو کچھ علی امین گنڈا پور نے کیا،جس طرح ڈی چوک کا اعلان کر کے،سر بکفن کا اعلان کرکے،عوام کی بڑی تعداد کو بے یارو مددگار چھوڑ کر،جس طرح کے پی ہائوس کی چھت سے ہوتے ہوئے،کئی اضلاع عبور کرکے،اگلے دن کے پی اسمبلی جا پہنچے،وہ کہانی چیخ چیخ کر ایک ہی داستان سنا رہی ہے کہ عمران خان کے نام پر ایوانوں میں پہنچنے والے،عمران خان کی رہائی کا سودا کر چکے ہیں کہ ان کی موجیں ہی اسی صورت ہیں کہ عمران خان پابند سلاسل رہے وگرنہ عمران خان کے آزاد ہوتے ہی ان سب کو یا تو تحریک کا حصہ بننا پڑے گا یا گھروں میں بند ہوکر گمنامی کی زندگی گزارنا ہو گی۔ تسلیم کہ پنجاب حکومت نے فاشزم کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور کسی بھی صورت عوام کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی،کسی بھی احتجاجی کال کی صورت قبل او وقت ہی کریک ڈائون شروع کردیا جاتا ہے اور چادر و چاردیواری کا تقدس بری طرح پامال کرکے،تحریک انصاف کے اراکین اور عوام کو بری طرح ہراساں کردیا جاتا ہے،ان پر بے جا مقدمات کی بھرمار کر دی جاتی ہے،ان پررزق و کاروبار کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیںکہ مسلم لیگ ن کا یہ آج کا وتیرہ نہیں ہے بلکہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو بھی ایسے حربوں سے ہی پنجاب میں توڑا گیا تھا۔حد تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری،نامور وکیل سلمان اکرم راجہ ،انتہائی سلجھے ہوئے نفیس شخص کے لئے کاغذات نامزدگی تک جمع نہیں کرانے دئیے گئے اور وہ آج بھی کچھ نہیں کر پائے،عوامی نبض کو جاننے کے باوجود پنجاب میں عوام کو متحرک نہیں کرپائے،اپنی اس کمی کو سمجھتے ہوئے،تین بار عہدے سے مستعفی ہوئے مگر عمران خان نے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی،دوسری طرف بیرسٹر سیف، جن کے تعلقات پر کسی کوئی ابہام نہیں،اس کڑے وقت میں بجائے عمران خان کی رہائی کے لئے بروئے کار آئیں، عمران خان کی بہنیں جو اس وقت بھی بغیر کسی سیاسی مفاد کے،فقط اپنے بھائی کی زندگی و رہائی کے لئے ملاقات کے دن اڈیالہ جاتی ہیں، کو ہدف تنقید بنایا جارہا ہے۔ یہی بہنیں ہے جو تحریک انصاف کے لئے اڈیالہ جیل سے پیغام لاتی رہی ہیں اور پارٹی سے کہتی رہی ہیں کہ عمران خان کا ہدایت ہے کہ عدالتوں سے انصاف نہیں مل سکتا، حل کے لئے سڑکوں پر آنا ہوگا مگر یہ پارٹی قائدین، سڑکوں پر نکلنے کی بجائے، اقتدار کے مزے، عمران خان کی رہائی کے سودے کی عوض، لوٹ رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button