نشینی اگر کتاب سے ہو
- ہم نشینی اگر کتاب سے ہو
تحریر : صفدر علی حیدری
کتاب کی کہانی دراصل انسان کے خود کو دریافت کرنے کی وہ داستان ہے جس کا آغاز اس لمحے ہوا جب کائنات کے لامتناہی سکوت میں پہلی بار انسانی آواز کا ارتعاش شامل ہوا۔ ابتدا میں یہ آواز محض ایک پکار تھی، ایک جبلی ضرورت، جو شاید کسی انجانے خوف، حیرت یا بقا کی تڑپ کے زیرِ اثر حلق سے نکلی ہو گی۔ لیکن جوں جوں شعور کی شمع روشن ہوئی، انسان نے اس بے معنی آواز کو ’’ معنی‘‘ کے پیرہن عطا کیے۔ یہی وہ پہلا معجزہ تھا جس نے انسان کو کائنات کی دیگر مخلوقات سے ممتاز کر کے ’’ اشرف‘‘ کے منصب پر فائز کیا۔ جب آواز ’’ لفظ‘‘ بنی، تو گویا کائنات کے سربستہ رازوں کو زبان مل گئی۔
انسان نے جب اپنے احساسات، اپنے ڈر، اپنی محبت اور اپنی حیرت کو لفظوں کا روپ دیا، تو اس نے دراصل اپنے وجود کا اعلان کیا۔ پھر ان بکھرے ہوئے لفظوں نے ترتیب پائی، رشتوں کے نام رکھے گئے، جذبوں کی حد بندی ہوئی اور یوں جملے تخلیق ہوئے۔ یہ سفر آواز سے لفظ، لفظ سے جملے اور جملے سے داستان تک پھیلا ہوا ہے۔ لیکن انسانی ارتقا کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ آواز ہوا کے دوش پر بکھر کر تحلیل ہو جاتی تھی اور جملے وقت کی گرد میں دب کر حافظے سے محو ہو جاتے تھے۔ اپنی سوچ کو قید کرنے اور اپنے تجربات کو وقت کے ہاتھوں مرنے سے بچانے کی اسی تڑپ نے انسان کو لکھنے پر مجبور کیا۔ جب پہلا نقش کسی غار کی دیوار پر ابھرا یا پہلی لکیر مٹی کی تختی پر کھینچی گئی، تو دراصل کتاب کا بیج بو دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان نے اپنی فانی ذات کو ابدیت بخشنے کا فن سیکھ لیا۔
کتاب محض کاغذ کے چند اوراق اور سیاہی کے نقوش کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی روح کا عکس اور کائنات کے شعور کی کلید ہے۔ یہ اس آواز کا تسلسل ہے جو ہزاروں سال پہلے انسان نے پہلی بار نکالی تھی۔ کتاب انسان کی سب سے خاموش مگر سب سے گہری رفاقت ہے۔ یہ وہ ہم نشین ہے جو نہ کبھی شور مچاتی ہے، نہ کسی مطالبے کی تکرار کرتی ہے اور نہ ہی وقت بے وقت کی شکایت۔ بس ایک بار اس کی آغوش میں آ جائیں تو یہ اپنے اندر پوشیدہ لامتناہی دنیائوں کے سربستہ دروازے آپ پر وا کر دیتی ہے۔
کتاب دراصل انسانی تجربے کا وہ محفوظ حافظہ ہے جو وقت کی دست برد سے آزاد ہے۔ ایک فرد کی طبعی زندگی محدود ہوتی ہے، مگر کتاب اسے ہزاروں سالوں کی تاریخ اور لاکھوں زندگیوں کا نچوڑ ایک لمحے میں عطا کر دیتی ہے۔ ایک عام آدمی اپنے عہد کے مخصوص حالات میں مقید ہوتا ہے، مگر صاحبِ کتاب قاری صدیوں کا سفر چشمِ زدن میں طے کر لیتا ہے۔ وہ ماضی کی معتبر گواہ بھی ہے اور مستقبل کی دھندلی راہوں میں جلا ہوا چراغ بھی۔ جب انسان نے پتھروں سے ہٹ کر چمڑے، ہڈیوں اور پھر کاغذ پر لفظ اتارے تو دراصل اس نے اپنی یادداشت کو وقت کے ہاتھوں سے چھین لیا۔ الفاظ جب قرطاس پر بکھرے تو خیال کو وہ دوام حاصل ہوا جو موت کی سرحدوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ تاریخِ انسانی میں الہامی کتب کا مقام سب سے بلند رہا ہے۔ یہ وہ کتب ہیں جنہوں نے نہ صرف انسان کو جینے کا ڈھنگ سکھایا بلکہ اسے کائنات کے خالق سے متعارف کرایا۔ انسان نے جب بھی راستہ کھویا، ان کتابوں نے اسے سمت دکھائی۔ جب فکر منتشر ہوئی تو کتاب نے اسے ترتیب دی، اور جب اخلاقی بحران پیدا ہوا تو کتاب نے اسے اصول عطا کیے۔ اس طرح کتاب صرف معلومات کا خزانہ نہیں بلکہ رہنمائی کا وہ ابدی نور بن گئی جو صدیوں سے انسانیت کے دشوار گزار راستوں کو روشن کر رہا ہے۔ کتاب نے انسان کو صرف پڑھنا نہیں سکھایا، بلکہ سوچنا بھی سکھایا، سوال کرنا بھی سکھایا اور ان سوالوں کے جواب خود تلاش کرنا بھی سکھایا۔
ہم نشینی اگر کتاب سے ہو تو انسان اپنے زمانے کی قید سے نکل جاتا ہے۔ کتابوں کے ذریعے ہم دنیا بھر کی سیر کر لیتے ہیں۔ ہم ایسے شہروں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں کبھی ہمارے قدم نہیں پڑے، ایسے لوگوں سے مکالمہ کر لیتے ہیں جنہیں کبھی دیکھا نہیں، اور ایسے زمانوں میں جی لیتے ہیں جو ہماری پیدائش سے صدیوں پہلے گزر چکے ہیں۔ یوں کتاب ہمیں وقت اور جگہ کی حدوں سے آزاد کر دیتی ہے۔ ایک لمحے میں ہم تاریخ کے کسی عظیم معرکے کے عین درمیان کھڑے ہوتے ہیں اور دوسرے لمحے کسی صوفی کے حجرے کی سکینت میں اتر جاتے ہیں۔ کبھی ہم افلاطون کے فلسفے سے الجھتے ہیں اور کبھی کسی شاعر کے تخیل کی پرواز کے ساتھ آسمانوں کی سیر کرتے ہیں۔
کتابیں ہمیں کائنات کے ہر گوشے کی معلومات فراہم کرتی ہیں۔ تاریخ، فلسفہ، ادب، سائنس، تہذیب، ثقافت، ہر میدان میں کتاب ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ ایک کتاب ہمیں ماضی کا شعور دیتی ہے، دوسری حال کی سمجھ عطا کرتی ہے، اور تیسری مستقبل کے امکانات کی جھلک دکھاتی ہے۔ اس طرح کتاب انسان کے ذہن کو وہ وسعت دیتی ہے جو اسے تعصب اور تنگیِ نظر سے نکال کر آفاقیت کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ کتاب پڑھنے والا شخص محض معلومات کا انبار نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک منفرد نقطہ نظر پیدا کرتا ہے۔ وہ چیزوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنا سیکھتا ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھتا ہے اور دلیل کی زبان سمجھنے لگتا ہے۔
کتاب انسان کو بظاہر تنہا کرتی ہے مگر حقیقت میں اسے پوری انسانیت سے جوڑ دیتی ہے۔ مطالعہ ایک داخلی عمل ہے، ایک ایسا سفر جو انسان اپنی ذات کے اندر کرتا ہے، لیکن اس سفر کے دوران وہ دوسروں کے تجربات، ان کے دکھوں اور ان کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے۔ جب ہم کسی مصنف کی تحریر پڑھتے ہیں، تو دراصل ہم اس کے دل کی دھڑکن سن رہے ہوتے ہیں۔ ہم کسی افسانوی کردار کے المیے پر آنسو بہاتے ہیں اور کسی کی کامیابی پر مسکراتے ہیں۔ یہ عمل انسان کو نرم دل، وسیع النظر اور ہمدرد بناتا ہے۔ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانیت کا درد سانجھا ہے اور دنیا کے کسی بھی کونے میں لکھا گیا لفظ ہمیں ایک لڑی میں پرو سکتا ہے۔
اگر ہم اپنے ماضی کے دریچوں سے جھانکیں تو بچپن کی ایک الگ ہی دنیا نظر آتی ہے۔ آج کے بچوں کے برعکس، جن کا بچپن اسکرین کی مصنوعی روشنی میں گم ہو چکا ہے، ہمارے بچپن میں کتابوں کا ایک خاص مقام تھا۔ بچوں کے لیے خوراک جتنی ضروری تھی، مطالعہ بھی اتنا ہی عزیز تھا۔ ہم صرف کھانے کی چیزیں نہیں خریدتے تھے، ہم کتابیں بھی خریدا کرتے تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی کتابیں، باریک کاغذ، رنگین سرورق اور سادہ سی چھپائی، مگر ہمارے لیے وہ کسی طلسمی خزانے سے کم نہ تھیں۔
کبھی کسی اسٹال سے مل جاتیں، کبھی کسی پرانی کتابوں والے کی ریڑھی سے، اور کبھی ہم کسی لائبریری کے گرد چکر لگاتے۔ وہاں سے کتاب حاصل کر لینا ایک مہم ہوا کرتی تھی، جیسے کوئی قیمتی فتح حاصل کر کے گھر لا رہے ہوں۔ اس سفر میں ایک خاص خوشی ہوتی تھی، ایک بے چینی کہ کب گھر پہنچیں اور پہلا صفحہ کھول کر کہانی کی دنیا میں گم ہو جائیں۔ اس وقت شاید ہم شعوری طور پر نہیں سمجھتے تھے، مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ پیٹ کی بھوک کے ساتھ ساتھ ذہن کی بھوک مٹانا بھی ہماری جبلت میں شامل تھا۔ ایک ہاتھ میں کوئی ٹافی یا بسکٹ اور دوسرے ہاتھ میں کتاب، یہی ہمارے بچپن کی معراج تھی۔ اس دور میں وقت سست رفتار تھا، توجہ بکھری ہوئی نہیں تھی اور تخیل کی پرواز کی کوئی حد نہ تھی۔ ہم ایک ایک کہانی میں گھنٹوں، بلکہ دنوں گم رہتے تھے۔
مطالعہ انسان کے اندر ایک خاموش انقلاب برپا کرتا ہے۔ یہ تبدیلی کسی دھماکے کی طرح نہیں آتی، بلکہ آہستہ آہستہ انسان کی شخصیت کی تہوں میں اترتی ہے۔ پڑھنے والا شخص زیادہ صابر، زیادہ غور و فکر کرنے والا اور زیادہ فہم و ادراک رکھنے والا بن جاتا ہے۔ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے عقل و دانش کی راہ اختیار کرتا ہے۔ کتاب انسان کو بولنے سے پہلے سوچنا سکھاتی ہے اور ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے فہم عطا کرتی ہے۔ کتاب پڑھنے والا معاشرے کا وہ فرد ہوتا ہے جو ہجوم کا حصہ بننے کے بجائے اپنی انفرادی پہچان برقرار رکھتا ہے۔
اب اگرچہ مطالعہ کا شوق معدوم ہوتا جا رہا ہے اور ہم اسکرین کے اسیر ہو چکے ہیں، مگر لکھے ہوئے الفاظ کی اہمیت کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ زمانے بدلتے ہیں، ذرائع بدلتے ہیں، مگر لفظ کی تاثیر ابدی رہتی ہے۔ تحریر کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ بولے ہوئے الفاظ فضا میں گم ہو سکتے ہیں، مگر لکھے ہوئے الفاظ نسلوں تک اپنا اثر برقرار رکھتے ہیں۔ کتاب دراصل وقت کے خلاف انسان کی سب سے بڑی مزاحمت ہے۔ یہ آنے والی نسلوں سے ایک خاموش مگر پر اثر مکالمہ ہے۔
آج پی ڈی ایف اور ای بُک کا دور ہے۔ ایک کلک پر پوری لائبریری موبائل میں سما جاتی ہے۔ معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ لیکن یہاں ایک عجیب تضاد سامنے آیا ہے۔ علم قریب آ گیا ہے مگر ‘قاری’ دور ہو گیا ہے۔ کتابیں بے شمار ہیں مگر پڑھنے والے کم ہو گئے ہیں۔ شاید مسئلہ دستیابی کا نہیں بلکہ ‘توجہ’ اور ‘یکسوئی’ کا ہے۔ ہم معلومات کے ہجوم میں تو رہتے ہیں مگر علم کی گہرائی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ آج ہمیں ان قارئین کو چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑے گا جو صفحہ کھول کر اس کے معنی میں اترنا جانتے ہوں، جو جلدی میں نہ ہوں اور جو لفظ سے رشتہ قائم کرنا جانتے ہوں۔
ہم نشینی اگر کتاب سے ہو تو انسان کبھی تنہا نہیں رہتا۔ اس کے پاس صدیوں کی دانش، ہزاروں ذہنوں کی رفاقت اور بے شمار تجربات کا خزانہ ہوتا ہے۔ جسم کو خوراک ملے تو انسان زندہ رہتا ہے، مگر روح اور ذہن کو کتاب ملے تو انسان’’ بامعنی‘‘ زندگی جیتا ہے۔ کتاب انسان کے اندر ایک ایسا چراغ روشن کرتی ہے جو بیرونی اندھیروں کا محتاج نہیں ہوتا۔عالمی یومِ کتاب ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ کتاب کو دوبارہ اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ اپنے گھروں میں ایک چھوٹا سا کتب خانہ ضرور قائم کریں، چاہے وہ چند کتابوں پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو۔ بچوں کے ہاتھوں میں کھلونوں کے ساتھ ساتھ کتابیں بھی دیں۔ اسکولوں میں کتاب کو صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ علم کی جستجو کا وسیلہ بنائیں۔ کیونکہ جب کسی گھر میں کتاب داخل ہوتی ہے، تو صرف کاغذ نہیں آتے، بلکہ سوچ آتی ہے، شعور آتا ہے اور نسلوں کو روشن کرنے والی روشنی آتی ہے۔
کتاب خاموش ہوتی ہے مگر اس کی خاموشی میں پوری کائنات کی پکار شامل ہوتی ہے۔ جو اس خاموشی کو سننا سیکھ لیتا ہے، وہ زندگی کے حقیقی معنی پا لیتا ہے۔ آئیے! کتاب سے اپنی ہم نشینی کو دوبارہ استوار کریں، کیونکہ یہی وہ رشتہ ہے جو ہمیں انسان ہونے کا وقار عطا کرتا ہے۔
کسی شاعر نے اسے کتاب سے عشق کہ آخری صدی قرار دیا تو کسی نے کہا:
ہم نشینی اگر کتاب سے ہو
اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں







