ColumnImtiaz Aasi

مشرق وسطیٰ کے حالات پر ایک نظر

مشرق وسطیٰ کے حالات پر ایک نظر

تحریر : امتیاز عاصی

امریکہ، ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی نے خطے کے حالات کو اور کشیدہ کر دیا ہے۔ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح اور حالیہ امریکہ ایران جنگ کے دوران پاکستانی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی نے ریاست پاکستان کا دنیا میں وقار بلند کر دیا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی دفاعی قوت ہے جس سے ہمارا دشمن بھارت بھی خائف ہے۔ امریکہ، ایران کی جنگ کے جہاں تک منفی اثرات کا تعلق ہے پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو قبل از وقت قرض کی رقم واپس کرنا پڑی ہے۔ اس موقع پر سعودی عرب جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھائی چارے کی بنیاد پر تعلقات استوار ہیں فوری پیسوں کا بندوبست نہیں کرتا تو یہ بات عالمی سطح پر ہماری جگ ہنسائی کا باعث بن سکتی تھی۔ سعودی عرب دنیا میں واحد ملک ہے جو ہر مشکل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہاہے۔ خا ص طور پر ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو امریکی پابندیوں کو سامنا کرنا پڑا۔ سعودی عرب ہماری مدد نہیں کرتا تو ہماری مشکلات میں اور زیادہ اضافہ ہو سکتا تھا، مگر سعودی عرب نے نہ صرف مالی مدد کی بلکہ تیل کی فراہمی کو بھی فرخدالی سے جاری رکھا۔ سعودی عرب، جہاں حق تعالیٰ کا گھر اور اس کے پیارے رسولؐ کا روضہ اقدس ہے، جو عالم اسلام کے مسلمانوں کے دلوں کا مرکز و محور ہے، دونوں ملکوں کے درمیان بھائی چارے کی اصل بنیاد ہے۔ ہم امریکہ ایران کی جنگ کی بات کر رہے تھے۔ دراصل ایرانی قیادت اور سکول کے معصوم بچوں کی امریکی حملوں میں شہادتوں سے پوری ایرانی قوم غم سے نڈھال ہے۔ امریکہ ایران کے درمیان پاکستان کی کوششوں سے ثالثی کا عمل خوش اسلوبی سے جاری تھا کہ درمیان میں امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر کے مذاکرات کے دوسرے رائونڈ میں تعطل پیدا کر دیا ہے۔ ایران جو پہلے سے ہی امریکہ پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں تھا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے امریکہ پر ایران کے اعتماد کو سخت ٹھیس پہنچی۔ پاکستان کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا رائونڈ اسلام آباد میں ہونا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی، جس سے مذاکرات کا دوسرا رائونڈ تعطل کا شکار ہو گیا۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے ایرانی قیادت کو مذاکرات سے کنارا کشی پر مجبور کر دیا ہے۔ بلاشبہ ایران جسے کئی عشروں سے امریکی پابندیوں کا سامنا ہے، اس طویل عرصے میں ایرانی قوم کا زندہ رہنا اور معاشی مشکلات سے عہدہ برآ ہونا عالمی سطح پر ایک تاریخ ہے۔ ایران کا ان تما تر پابندیوں کا مقابلہ کرکے اپنے ملک کا دفاع کرنا بھی ایک علیحدہ تاریخ ہے۔ کوئی مانے نہ مانے حالیہ جنگ میں ایران فاتح ہو کر نکلا ہے، جبکہ امریکہ کی عالمی سطح پر ساکھ کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ خلیجی ملک جو امریکہ پر اپنے دفاع کے لحاظ سے بڑا بھروسہ کرتے تھے، امریکیوں سے کنارا کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سوال ہے امریکہ نے ان ملکوں میں اڈے ان کی حفاظت کے لئے قائم کئے تھے نہ کہ ایران پر ان اڈوں سے حملے کرنے کے لئے قائم کئے تھے۔ امریکی میزائلوں کے جواب میں ایران نے جب ان اڈوں کو نشانہ بنایا تو ان ملکوں کو سمجھ آگئی یہ معاملہ تو کچھ اور ہے۔ بعض حلقوں میں یہ سوال گردش کرتا ہے ایران نے مسلمان ملکوں میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ کیوں بنایا؟ سوال ہے اگر ان اڈوں سے ایران پر میزائل گرائے جائیں گے تو کیا ایران ان ملکوں کی طرف پھول بھیجتا۔ ظاہر ہے جب کسی ملک پر حملہ ہوگا اس نے اس کا جواب اسی حساب سے دنیا ہوتا ہے۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے جن مسلمان ملکوں میں امریکیوں کے اڈے قائم کئے گئے تھے وہ امریکہ سے بتدریج کنارا کشی اختیار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

تازہ ترین حالات میں امریکہ نے اپنی بحریہ کو بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل کو مزید گزند پہنچ سکتی ہے۔ یہ سطور لکھنے تک دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی، بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات تھیں۔

درحقیقت امریکہ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کے تحت غلط ہے۔آبنائے ہرمز ایران اور سلطنت عمان کی ملکیت ہے، لہذا امریکہ کا اس کی ناکہ بندی کرنا ہی غلط ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے ایران نے اس جنگ میں امریکی کی سپر پاور ہونے کا پول کھول دیا ہے۔ پاسدران انقلاب تو ہمہ وقت امریکہ کے ساتھ لڑنے کو تیار ہے، یہ امریکہ ہے جو دھمکیوں سے کام چلا رہا ہے، ورنہ حقیقت میں امریکہ جنگ کے حق میں نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کو اندرونی طور پر بھی اس جنگ کی خلاف مخالفت کا سامنا ہے، پھر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل جاری تھا کہ ایران پر حملہ کر دیا گیا، جس نے امریکہ کا عالمی سطح پر اعتماد کھو دیا ہے۔ دراصل امریکہ کا ایران کے ساتھ جنگ کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا، شائد اسی لئے نیٹو ممالک نے جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا، جس سے امریکہ کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ دیکھا جائے تو ایران کا موقف اپنی جگہ درست ہے، وہ دھمکیوں کی آڑ میں مذاکرات نہیں کرے گا بلکہ وہ جنگ کے لئے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ اس جنگ میں بری طرح پھنس گئے ہیں، وہ ایران کو دھمکیاں لگا کر اپنے مقاصد پورا کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ ایرانی قیادت امریکہ کے اس بھلاوائے میں آنے کو بالکل تیار نہیں ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے امریکہ، ایران جنگ کی دنیا کے بہت سے ملکوں نے مذمت نہیں کی، لیکن حقیقت میں وہ امریکہ کے اس طرز عمل سے ناخوش ہیں۔ امریکہ ایران سے غیر ضروری مطالبات منوانے کے لئے کوشاں ہے، اگر امریکہ، ایران کے ساتھ مکمل جنگ بندی اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہوتا وہ پہلے مرحلے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا اعلان کر سکتا تھا، لیکن حالات و واقعات سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا امریکہ کی ایران بارے نیت ٹھیک نہیں ہے، وہ کسی نہ کسی طریقہ سے ایران کو زیر کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ دنیا کا اکیس فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ دونوں ملکوں نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھا تو خطے کے ملکوں میں تیل کے بحران کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

جواب دیں

Back to top button