Column

امن کا سوال اور پاکستان

امن کا سوال اور پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ اہم مشاورتی اجلاس اور اس میں ایران و امریکا کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی خواہش کا اظہار نہ صرف پاکستان کی فعال سفارت کاری کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ خطہ ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ نہایت مختصر ہو چکا ہے۔ اس اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کی شرکت اس بات کا ثبوت ہی کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو مربوط اور کثیرالجہتی انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔ وزیراعظم کا یہ بیان کہ ’’ ہم امید رکھتے ہیں کہ ایران اور امریکا کو جلد مذاکرات کی میز پر دوبارہ بٹھانے میں کامیاب ہوں گے‘‘، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست شدید کشیدگی، اعتماد کے فقدان اور علاقائی تنازعات کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات برسوں سے تنائو کا شکار ہیں اور ان کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے تک پھیل چکے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی کوششیں ایک ثالث کی ہیں، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہوسکتی ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی نتیجے پر پہنچے اختتام پذیر ہوا تھا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے یہ اصول رکھتی آئی ہے کہ ہمسایہ ممالک اور اہم عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کو ترجیح دی جائے۔ اس اجلاس میں اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے انعقاد کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ وزیر خارجہ کی جانب سے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطوں پر وزیراعظم کو اعتماد میں لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان سفارت کاری کو محض رسمی عمل نہیں بلکہ ایک متحرک اور مسلسل عمل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا سوال محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی معیشت، توانائی کی سیاست اور بین الاقوامی سلامتی سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف خطے میں پراکسی تنازعات کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، تجارتی راستوں اور سفارتی اتحادوں پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ایسے ملک کی کوششیں جو دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے کی خواہش رکھتا ہو، وہ عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ کردار کوئی نیا نہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان نے چین اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بہتری، افغانستان میں امن عمل اور خلیجی تنازعات میں مثبت سفارتی کوششوں کے ذریعے اپنا ایک اہم مقام بنایا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں چیلنجز زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ایک طرف بڑی طاقتوں کے درمیان اسٹرٹیجک رقابت ہے اور دوسری طرف علاقائی ممالک کے اپنے اپنے مفادات اور تحفظات ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کو انتہائی متوازن، محتاط اور اصولی سفارت کاری اختیار کرنا ہوگی۔ اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام کی موجودگی اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ معاملہ محض رسمی بیانات تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ کی سطح پر جاری رابطے اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے مشاورت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان ایک وسیع تر سفارتی نیٹ ورک کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی کا انحصار صرف نیک خواہشات پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ٹھوس سیاسی ارادے، باہمی اعتماد اور عملی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا، جس میں پاکستان کا کردار سہولت کار کا ہوسکتا ہے مگر فیصلہ کن نہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی یہ کوشش قابلِ ستائش ہے کہ وہ خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا مختلف بلاکس میں تقسیم ہورہی ہے، مکالمے کی شمع کو روشن رکھنا خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ کس حد تک دونوں فریقین کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کو بھی محفوظ رکھ سکتا ہے اور ساتھ ہی خطے میں امن کے قیام کے لیے مثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر موجودہ سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سفارتی دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

تجارتی اصلاحات، روشن معیشت

وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27کے بجٹ میں غیر ضروری تجارتی پابندیوں اور رکاوٹوں کے خاتمے کا فیصلہ ایک دور اندیش اور بروقت اقدام ہے، جو ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نے جس جرأت اور سنجیدگی کے ساتھ یہ اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا ہے، وہ نہ صرف کاروباری برادری کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ قریباً 60سے 70غیر ضروری پابندیوں کا خاتمہ اور 2600سے زائد تجارتی رکاوٹوں کو مرحلہ وار کم کرنے کا منصوبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہ وہ رکاوٹیں تھیں جو برسوں سے کاروباری سرگرمیوں کو سست روی کا شکار کیے ہوئے تھیں۔ ان کے خاتمے سے نہ صرف درآمدی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ برآمدی شعبے کو بھی نئی زندگی ملے گی۔ ٹیرف کی شرح کو 10.7فیصد سے کم کر کے 9.5فیصد پر لانے اور 2030ء تک اسے 7.4فیصد تک لانے کا ہدف ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے صنعتی شعبے کو خام مال سستے داموں دستیاب ہوگا، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت کم اور مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے بتدریج خاتمے سے نہ صرف صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ مارکیٹ میں شفافیت اور مقابلے کا رجحان بھی فروغ پائے گا۔ ٹیکسٹائل، ادویہ سازی، لیدر اور کیمیکل جیسے اہم شعبوں کے لیے خصوصی اصلاحاتی اقدامات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ حکومت برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک جامع وژن رکھتی ہے۔ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت کیے جانے والے یہ اقدامات کاروبار میں آسانی پیدا کریں گے اور پاکستان کو عالمی تجارتی نظام میں مزید موثر انداز میں شامل کریں گے۔ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف معاشی بحالی بلکہ پائیدار ترقی کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ان اصلاحات پر اسی تسلسل اور عزم کے ساتھ عملدرآمد جاری رہا تو پاکستان جلد ہی ایک مستحکم اور مسابقتی معیشت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یہ بجٹ بلاشبہ ترقی، استحکام اور خوشحالی کی سمت ایک مضبوط قدم ثابت ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button