ColumnTajamul Hussain Hashmi

دنیا بھر کے یتیم خانے

دنیا بھر کے یتیم خانے
تجمل حسین ہاشمی
دنیا کے نقشے پر جنگیں صرف سرحدیں نہیں بدلتی، یہ نسلوں کی تقدیر بھی لکھتی ہیں۔ بارود کی بو جب فضا میں گھلتی ہے تو اس کا اثر عمارتوں پر نہیں ، انسانوں کے وجود پر ہوتا ہے۔ سب سے متاثر معصوم بچوں کے دل ہوتے ہیں ۔ یہ زخم بعد میں یتیم خانوں کی صورت میں نظر آتے ہیں ، جہاں زندگی تو ہوتی ہے مگر ماں کی گود باپ کے کندے نہیں ہوتے ، دادی کا پیارا اور دادا کی لاٹھی نہیں ہوتی ۔ ماموں کی محبت اور چاچا کی چاہت نہیں ہوتی ۔ سانسیں تو ہوتی ہیں مگر ماں کی گود جیسا سکون نہیں ہوتا ۔ دنیا بھر میں کروڑوں بچے یتیمی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مختلف عالمی اندازوں کے مطابق اس وقت دنیا میں 14کروڑ سے زائد یتیم بچے موجود ہیں، جبکہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں یتیم خانے مختلف شکلوں میں کام کر رہے ہیں ان میں سے رجسٹرڈ، کچھ غیر رجسٹرڈ، اور کچھ انسانی ہمدردی کے سہارے چل رہے ہیں۔ کیا یہ ادارے اس خلا کو بھر سکتے ہیں جو ایک ماں باپ کی جدائی چھوڑ جاتی ہے؟۔
وہ بھی ایک یتیم خانہ تھا جہاں 700 بچے لائے گئے تھے۔ ان کے والدین جنگ کی آگ میں جل چکے تھے۔ ان معصوم چہروں پر ایک ہی خوف تھا کہ کہیں اب ان کی باری نہ آ جائے۔ ان میں سے ایک بچہ امریکی فوجی کو دیکھ کر دیوار کے پیچھے چھپ جاتا تھا، جیسے موت ابھی بھی اس کا پیچھا کر رہی ہو۔ یہ صرف ایک بچہ نہیں، یہ پوری انسانیت کا ڈر تھا جو ایک ننھے وجود میں سمٹ آیا تھا۔ قوم کا لیڈر اس بے بسی کو ہی کم کر سکتا ہے ۔ 2003ء کی عراق جنگ کے بعد، عالمی اداروں کے مطابق 8لاکھ سے 10لاکھ عراقی بچے ایک یا دونوں والدین سے محروم ہو گئے۔ ایک نسل، جس کا مستقبل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔ صدام حسین ملک سے فرار ہو گیا ، صدام اور امریکا کو ان یتیم خانوں کی کیا خبر ، اپنی زد آنا نے لاکھوں گھروں کو آگ میں جونک دیا . فلسطین غزہ میں 20000سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں اور 39000سے 50000بچوں نے اپنے والدین کو کھو چکے ہے ۔ یہ اعداد و شمار نہیں، یہ چیخیں ہیں جو ملبے تلے بھی سنائی دیتی ہیں۔
حالیہ ایران جنگ میں بھی یہی منظر دہرایا جا رہا ہے۔ ایران کے اسکول پر حملے میں 100سے زائد بچے شہید ہو گئے، جبکہ ابتدائی دنوں میں 1100سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہوئے ۔ یوکرین میں جنگ کے دوران 3200سے زائد بچے متاثر ہوئے، جن میں 745سے زیادہ ہلاک ہیں، اور ہزاروں یتیم مزید بن چکے ۔ سوڈان میں 12.6ملین افراد بے گھر ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
عالمی سطح پر صورتحال اور بھی ہولناک ہے۔ 2024۔2025کے دوران 473ملین سے 520ملین بچے مسلح تنازعات والے علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یعنی ہر پانچ میں سے ایک بچہ جنگ کے سائے میں پل رہا ہے۔ 48.8ملین بچے بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں 19ملین سے زائد پناہ گزین بچے شامل ہیں۔ گزشتہ صرف ایک سال میں 41370سنگین خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، جن میں 11967بچوں کی ہلاکت یا معذوری شامل ہے۔
یہ وہ دنیا ہے جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے جنگیں مسلط کرتے ہیں، ان جنگوں کا ایندھن معصوم بچے بنے ہیں ۔ اپنے بچوں کے لیے سکون خریدنے والے، دوسروں کے بچوں سے ان کا سکون چھین لیتے ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسا عالمی نظام ہے؟ پاکستان خود اس درد سے گزر چکا ہے۔ 16دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں 132بچوں کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ وہ دن پاکستان کا نہیں پوری انسانیت کا سوگ تھا۔ یتیمی صرف ایک لفظ نہیں، ایک ایسی کیفیت ہے جو نسلوں تک ساتھ چلتی ہے۔
طاقتور ممالک کو سوچنا ہو گا، کیا یتیم خانے اس مسئلے کا حل ہیں ؟ دنیا بھر میں یتیم خانے بڑھ رہے ہیں، کیونکہ جنگیں بڑھ رہی ہیں۔ جنگیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ انسانیت انصاف کم ہوتا جا رہا ہے۔ جب تک طاقتور اپنے فیصلوں میں انسانیت انصاف پسندی کو شامل نہیں کریں گے یہ اعداد و شمار بڑھتے رہیں گے، اور یتیم خانوں کی دیواریں اونچی ہوتی رہیں گی۔ ایران ، امریکا جنگ میں پاکستان نے امن مذاکرات کی ابتدا کی ہے ، ایران، امریکا کو میز پر لے آیا ہے ۔ اب دنیا کے طاقتوروں کو جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دینی پڑے گی۔ بین الاقوامی قوانین کو کاغذوں سے نکال کر زمین پر نافذ کرنا ہو گا۔ جنگیں محرومیوں اور تباہی کو جنم دیں گی۔ ریاست پاکستان نے دنیا کے لیے امن کا راستہ کھولا ہے ، آج وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دنیا کے سکون اس کے امن کے لیے متحرک ہیں، صلح جوئی کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اس جنگ کو رکوانے کے لیے اپنا بھر پورا کردار ادا کر رہے ہیں، فیصلہ اب ان ممالک کے ہاتھ میں ہے، پاکستان اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران اس کا منہ بولتا ثابت ہے۔
پاکستان کئی برس تک دہشتگردی کا شکار رہا، ہزاروں اپنے شہید ہوئے ۔ پاکستانی قوم اور سکیورٹی اداروں نے اس ناسور کا بھر پور مقابلہ کیا، آج بھی اس دہشتگردی سے لڑ رہے ہیں، جو دوسرے ممالک کی پیدا کردہ ہے۔ اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کیا۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ اسلام امن پسند مذہب ہے اور پاکستان اسلامی ملک ہے، امن کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔ پاکستانی قیادت پر قوم کو فخر ہے، اور 24کروڑ عوام اپنی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button