ColumnQadir Khan

پاکستان کا دو مرحلوں پر مشتمل امن منصوبہ

پاکستان کا دو مرحلوں پر مشتمل امن منصوبہ
قادر خان یوسف زئی
اسلام آباد کی موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک انتہائی پرخطر لیکن ناگزیر عالمی ثالثی کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ وائٹ ہائوس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے حالیہ واضح اور دو ٹوک بیان نے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ امریکہ کے نزدیک پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں ’’ واحد ثالث‘‘ ہے اور یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان مواصلاتی رابطوں کو مکمل طور پر پاکستانیوں کے ذریعے ہی استوار کیا جا رہا ہے۔ اپریل کے دوسرے ہفتے میں اسلام آباد میں ہونے والے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے پہلے دور کا انجام بظاہر کسی حتمی معاہدے کی صورت میں نہیں نکل سکا، لیکن اس نے مستقبل کے مذاکرات کے لیے وہ بنیادی خدوخال ضرور طے کر دئیے ہیں جن پر اب دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان ہونے والی براہِ راست گفتگو دراصل دو انتہائی متضاد تزویراتی اہداف کا تصادم تھی۔
امریکہ کا غیر متزلزل مطالبہ یہ ہے کہ ایران اپنے جوہری عزائم اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے، جبکہ تہران کے لیے یہ مطالبات اس کی بقاء اور قومی خودمختاری پر براہِ راست حملے کے مترادف ہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ کسی بھی تزویراتی رعایت سے قبل تمام معاشی پابندیوں کا غیر مشروط اور فوری خاتمہ کیا جائے۔ اس سفارتی تعطل کے پس منظر میں معاشی جنگ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی تجارتی جہاز رانی کا گلا گھونٹ دیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی ٹریژری نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر کے اور نئی پابندیاں عائد کر کے ایک ایسی معاشی بمباری شروع کر دی ہے، جس کا مقصد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے۔ اس صورتحال میں فریقین کے لیے طویل عرصے تک اس جمود کو برقرار رکھنا ناگزیر حد تک تباہ کن ہے۔ اسی نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے، پاکستان نے انتہائی مہارت سے ایک دو جہتی سفارتی حکمت عملی مرتب کی ہے۔اس تزویراتی حکمت عملی کا پہلا اور انتہائی اہم جزو وزیرِ اعظم شہباز شریف کا 15سے 18اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا ہنگامی اور طویل سفارتی دورہ ہے۔ اس دورے کا مقصد محض دو طرفہ تعلقات کو استوار کرنا نہیں، بلکہ خطے کے اہم ترین ممالک کو ’’ اسلام آباد معاہدے‘‘ کی حمایت کے لیے ایک متفقہ اور کثیر الفریقی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات، قطر کی قیادت سے روابط اور ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت دراصل اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مابین امن کے قیام کے لیے خطے کی بڑی طاقتوں کے تزویراتی وزن اور ان کی معاشی اہمیت کو اپنے ثالثی کردار کی پشت پناہی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ قطر کی جانب سے جنگ بندی کی توثیق اور ترکیہ کے وزیرِ دفاع کا اس عمل کو مستحکم کرنے کا بیان اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ ممالک پاکستانی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسی حکمت عملی کا دوسرا اور سب سے فیصلہ کن جزو پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا انتہائی اہم دورہ ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ان کی ملاقاتیں اور واشنگٹن کا تازہ ترین پیغام تہران تک پہنچانا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کس قدر گہرائی میں جا کر اس عالمی بحران کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ذاتی سفارت کاری اور ان کا وہ منفرد عالمی تشخص ہی ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی کھلے عام سراہا گیا ہے، جس نے پاکستان کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ ان دو کٹر دشمنوں کو ایک ہی میز پر لا بٹھائے۔
مستقبل کے امکانات اور اسلام آباد معاہدے کے دوسرے دور کی کامیابی کے سو فیصد زمینی حقائق کا اگر ہم غیر جذباتی اور خالص تزویراتی بنیادوں پر جائزہ لیں تو چند باتیں بالکل واضح اور حتمی نظر آتی ہیں۔ پہلی اور سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ 22اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان انتہائی قوی ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاس نے اس حوالے سے باقاعدہ درخواست کی تردید کی ہے، لیکن امریکی حکام کا یہ تسلیم کرنا کہ بات چیت ‘پیداواری’ ہے اور وہ معاہدے کے امکانات پر پرامید ہیں، اس امر کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی فریق فوری طور پر دوبارہ میزائل حملوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسری حتمی حقیقت یہ ہے کہ آئندہ مذاکرات کے لیے جنیوا یا کسی اور یورپی شہر کی بجائے اسلام آباد کا انتخاب ہی سب سے زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ امریکی صدارتی انتظامیہ اور خود صدر ٹرمپ نے اس امر کا اشارہ دیا ہے کہ وہ دوبارہ اسلام آباد جانے کی طرف زیادہ مائل ہیں، اور امریکی ترجمان کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور ممکنہ طور پر وہیں ہو گا جہاں پچھلی بار ہوا تھا۔ تیسری اہم ترین حقیقت اس ’’ دو مرحلوں پر مشتمل امن منصوبے‘‘ پر انحصار ہے جسے پاکستان نے پیش کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ بیان کہ اگر امریکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور ایران کی ’’ ریڈ لائنز‘‘ کا احترام کرے تو ایک منصفانہ معاہدہ ممکن ہے، اس امر کی طرف واضح اشارہ ہے کہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ان تمام مصدقہ اور تصدیق شدہ شواہد کی روشنی میں یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ دوسرے دور کے مذاکرات میں کسی جامع اور حتمی امن معاہدے ( یعنی جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے) کی توقع رکھنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ اعتماد کا وہ فقدان جو کئی دہائیوں پر محیط ہے، راتوں رات ختم نہیں ہو سکتا۔ تاہم، اس امر کے سو فیصد امکانات موجود ہیں کہ فریقین پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیں گے، جس کا بنیادی مقصد ’’ کنٹرولڈ مینجمنٹ‘‘ اور معاشی بحران کو ٹالنا ہے۔ اس ممکنہ پیش رفت کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دے گا اور بدلے میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر کے پابندیوں میں اس حد تک نرمی کرے گا جس سے عالمی معیشت کو سانس لینے کا موقع ملے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم کا خطے کے ممالک کا دورہ اور آرمی چیف کی تہران میں براہِ راست مداخلت دراصل اسی پہلے مرحلے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی بے مثال کوششیں ہیں۔ سفارتی محاذ پر اسلام آباد کی حیثیت عالمی سطح پر ایک ناگزیر قوت اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو ٹالنے والے کلیدی اور اکلوتے کردار کے طور پر تسلیم کی جا چکی ہے۔ یہ ایک کڑا امتحان ہے جس میں کامیابی نہ صرف خطے کو تباہی سے بچا لے گی بلکہ پاکستان کے اپنے سٹریٹجک قد کاٹھ کو بھی ایک نئی اور مستحکم جہت عطا کرے گی۔

جواب دیں

Back to top button