Column

امریکہ، ایران مذاکرات کامیاب یا ناکام

امریکہ، ایران مذاکرات کامیاب یا ناکام
میری بات
روہیل اکبر
دنیا کی سیاست میں بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جو صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات بھی انہی حساس معاملات میں شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں یا ناکامی کی طرف جا رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ کشیدگی، بداعتمادی اور مفادات کے ٹکرائو سے بھری پڑی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کے یکطرفہ علیحدگی نے حالات کو دوبارہ کشیدہ بنا دیا۔ اس کے بعد پابندیوں، دھمکیوں اور خطے میں پراکسی جنگوں نے ماحول کو مزید خراب کیا اب جب کہ ایک بار پھر مذاکرات شروع ہیں تو اسے مکمل کامیابی یا مکمل ناکامی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ان مذاکرات میں وقتی پیش رفت ضرور ہوتی ہے، جیسے قیدیوں کا تبادلہ، محدود پابندیوں میں نرمی یا کشیدگی میں کمی، مگر بنیادی مسائل جوں کے توں موجود رہتے ہیں۔ اگر کامیابی کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ بات اہم ہے کہ دونوں ممالک مکمل تصادم سے گریز کر رہے ہیں اور بات چیت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ سفارتکاری کا جاری رہنا بذات خود ایک مثبت اشارہ ہے، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ دوسری طرف ناکامی کا پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو اپنی خودمختاری کا حصہ سمجھتا ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ یہی بنیادی اختلاف مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مزید برآں، مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، اسرائیل کا کردار اور عالمی طاقتوں کے مفادات بھی ان مذاکرات کو متاثر کرتے ہیں۔ ہر فریق اپنے اسٹریٹیجک مفادات کو مقدم رکھتا ہے جس کی وجہ سے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات نہ مکمل طور پر کامیاب ہیں اور نہ ہی مکمل ناکام یہ ایک جاری عمل ہے جس میں کبھی پیش رفت ہوتی ہے اور کبھی تعطل آ جاتا ہے۔ اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب دونوں فریق اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں گے۔ آخر کار یہ کہنا بجا ہوگا کہ دنیا کو اس وقت جنگ نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے۔ اگر ایران اور امریکہ اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی یہ مذاکرات صرف سفارت کاری نہیں بلکہ طاقت، مفادات اور بقا کی ایک پیچیدہ جنگ بن چکے ہیں۔ خصوصاً ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے پوری دنیا کو ایک غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ ہر بار جب مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو امید بھی پیدا ہوتی ہے اور خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں کیا واقعی یہ مذاکرات امن کی طرف لے جائیں گے یا صرف وقتی سکون کا ذریعہ ہوں گے؟ ایران اپنی خودمختاری، علاقائی اثر و رسوخ اور اپنے ایٹمی پروگرام کو اہم سمجھتا ہے۔ امریکہ اپنی عالمی قیادت، پابندیوں اور سیاسی دبائو کے ذریعے اثر قائم رکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی اور خطے میں خطرات کو سب سے بڑی ترجیح دیتا ہے۔ یہ تینوں فریق ایک دوسرے پر مکمل اعتماد نہیں رکھتے اور یہی عدم اعتماد ہر مذاکرات کو مشکل بنا دیتا ہے۔ ظاہر میں جب مذاکرات کی میز سجتی ہے تو دنیا امید کرتی ہے لیکن پس پردہ مفادات کی جنگ اس امید کو کمزور کر دیتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں پرانا تنازع آج بھی موجود ہے اور اسرائیل ان مذاکرات کو اپنی سلامتی کے لیے ایک حساس معاملہ سمجھتا ہے۔ کبھی پابندیاں لگتی ہیں، کبھی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور پھر اسی کے بعد مذاکرات کی طرف واپسی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ اسرائیل اکثر ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کرتا ہے جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری میں مداخلت سمجھتا ہے۔ امریکہ ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ توازن اکثر کمزور ثابت ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مذاکرات وقتی طور پر کشیدگی کم کر دیتے ہیں لیکن مستقل امن قائم کرنے میں ابھی تک ناکام نظر آتے ہیں۔ دنیا کے عام لوگ ان سیاسی فیصلوں کے اصل متاثرین ہیں۔ مہنگائی، جنگ کا خوف اور غیر یقینی صورتحال ان کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔ اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو مذاکرات کی کامیابی صرف معاہدوں پر نہیں بلکہ اعتماد، نیت اور عمل پر منحصر ہے۔ جب تک ایران، امریکہ اور اسرائیل ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک مکمل کامیابی مشکل نظر آتی ہے۔ لیکن پھر بھی امید باقی ہے پاکستان ہمیشہ عالمی تنازعات میں امن اور صلح کی حمایت کرتا ہے پاکستان کا موقف ہے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں پاکستان ہر ملک کے ساتھ متوازن خارجہ پالیسی رکھتا ہے۔ اسرائیل کے معاملے پر پاکستان فلسطین کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کو اہم سمجھتا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک سرحدی سلامتی پر بھی تعاون کرتے ہیں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات میں احتیاط سے بات کرتا ہے۔ پاکستان کسی بھی جنگی اتحاد کا حصہ بننے سے گریز کرتا ہے پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کرتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو پاکستان تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھتا ہے پاکستان دہشت گردی اور جنگ دونوں کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ پاکستان سفارت کاری کو مسائل کا بہترین حل سمجھتا ہے اور پاکستان خطے میں ترقی اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔

جواب دیں

Back to top button