پاکستان: عالمی تنازعات کا ناگزیر ثالث

پاکستان: عالمی تنازعات کا ناگزیر ثالث
قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست کی بساط پر جب بھی بڑی طاقتوں کے مفادات کا ٹکرائوہوا، پاکستان نے اپنے جغرافیائی اور تزویراتی محلِ وقوع کی مجبوریوں اور ضرورتوں کے تحت ایک ناگزیر ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ اگر ہم سرد جنگ کے عروج سے لے کر آج اپریل 2026ء کے ہولناک مشرقِ وسطیٰ بحران تک کی تاریخ کا غیر جانبداری سے مطالعہ کریں، تو یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج کو پاٹنے کے لیے جس سفارتی پل کی ضرورت پڑی، وہ اکثر اسلام آباد سے ہو کر ہی گزرا ہے۔ یہ محض کوئی اتفاق نہیں بلکہ سفارتی ہنر مندی اور جغرافیائی جبر کا وہ سنگم ہے جس نے پاکستان کو عالمی تنازعات کے حل میں ایک کلیدی فریق بنا دیا ہے۔اس سفارتی تسلسل کا پہلا بڑا اور ڈرامائی مظاہرہ 1971ء میں دیکھنے کو ملا، جب پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان عشروں پر محیط برف پگھلانے کے لیے ایک انتہائی خفیہ اور کامیاب کردار ادا کیا۔ جب امریکہ کو ویتنام جنگ سے باعزت انخلا اور سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے بیجنگ کی ضرورت پڑی، تو صدر رچرڈ نکسن اور ہنری کسنجر نے رابطے کے لیے یحییٰ خان کی حکومت پر ہی سب سے زیادہ اعتماد کیا۔ جولائی 1971ء میں ہنری کسنجر کا اسلام آباد سے خفیہ طور پر بیجنگ روانہ ہونا ایک ایسا زلزلہ خیز واقعہ تھا جس نے سرد جنگ کے دو قطبی نظام کی بنیادیں ہلا دیں اور دنیا کو کثیر القطبی نظام کی طرف دھکیل دیا۔
اس کے ایک دہائی بعد ہی پاکستان کو اپنے مغربی بارڈر پر سوویت یونین کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔ دسمبر 1979 ء میں افغانستان میں سوویت افواج کے داخلے نے پاکستان کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ 1982 ء سے شروع ہونے والے جنیوا مذاکرات، جو اقوام متحدہ کی سرپرستی میں بالواسطہ مذاکرات کی شکل میں ہوئے، پاکستان کے لئے بھی عالمی سفارت کاری کا یہ ایک صبر آزما امتحان تھا۔ ان مذاکرات کے قریباً 12ادوار ہوئے جن میں بارہا شدید تعطل آیا۔ مثال کے طور پر، مئی 1986ء میں شروع ہونے والا مذاکرات کا حتمی دور فریقین کے مابین شدید اختلافات کی بنا پر 23مئی کو معطل ہو گیا تھا اور اسے بحال ہونے میں دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ بالآخر، اپریل 1988ء میں جنیوا معاہدات پر دستخط ہوئے اور سوویت افواج کا انخلا ممکن ہو سکا۔
افغان سرزمین پر عالمی طاقتوں کی کشمکش کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور ایک طویل جنگ میں الجھ گیا، تو ایک بار پھر مذاکرات ہی واحد راستہ ثابت ہوئے۔ اس مرحلے پر خطے کی ایک اور ابھرتی ہوئی طاقت، چین نے بھی اپنی روایتی عدم مداخلت کی پالیسی ترک کرتے ہوئے ’’ تخلیقی شمولیت‘‘ کا راستہ اپنایا۔ چین نے ارومچی اور بیجنگ میں کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوششیں کیں، لیکن افغان طالبان کا اصل ہدف براہِ راست امریکہ سے بات چیت تھا۔ دوحہ امن عمل میں قطر نے اگرچہ میزبانی اور عالمی غیر جانبداری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان طالبان کا سیاسی دفتر قائم کیا، لیکن زمینی حقائق اور عملی پیش رفت پاکستان کے مرہونِ منت تھی۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے اکتوبر 2018ء میں ملا عبدالغنی برادر کو رہا کرا کے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ یہ عمل بھی ہموار نہیں تھا، ستمبر 2019ء میں کیمپ ڈیوڈ کے بحران کے باعث صدر ٹرمپ نے مذاکرات کو ’’ مردہ‘‘ قرار دے دیا جس سے تین ماہ کا تعطل آیا، اور پھر فروری 2020ء کے دوحہ معاہدے کے بعد قیدیوں کے تبادلے پر تنازع کی وجہ سے بین الافغان مذاکرات میں چھ ماہ کی طویل معطلی آئی۔
ان تمام تاریخی حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہیں، تو پاکستان کا کردار مزید پیچیدہ اور اہم نظر آتا ہے۔ 1979ء میں جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52سفارت کاروں کو 444دن تک یرغمال بنایا گیا، تو اس وقت الجزائر نے ایک کامیاب ثالث کا کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں جنوری 1981ء میں الجزائر معاہدہ طے پایا۔ اسی دوران پاکستان میں بھی مشتعل ہجوم نے امریکی سفارت خانے کو نذرِ آتش کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے انتہائی محتاط سفارت کاری کا آغاز کیا اور واشنگٹن میں ایرانی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھال لی۔یہ دہائیوں پر محیط محتاط سفارت کاری اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب 28فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملوں نے خطے کو ایک تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس جنگ کے اثرات پاکستان پر براہِ راست پڑے، جہاں معاشی بحران کے ساتھ ساتھ کراچی، گلگت اور دیگر شہروں میں شدید عوامی ردعمل اور پُر تشددمظاہرے شروع ہو گئے۔
چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کی مصلحتوں اور مجبوریوں کے باعث سفارتی خلا پیدا ہوا، جسے پُر کرنے کے لیے ایک بار پھر پاکستان میدان میں آیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پر مشتمل اعلیٰ سطحی ٹیم نے پسِ پردہ خاموش سفارت کاری کے ذریعے امریکہ کا 15نکاتی مسودہ ایران تک اور ایران کا جواب واشنگٹن تک پہنچایا۔ اس سفارتی محنت کا پہلا اور سب سے بڑا نتیجہ 7اپریل 2026ء کو سامنے آیا، جب دونوں ممالک ایک 14روزہ جنگ بندی پر رضامند ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد، 11اور 12اپریل کو اسلام آباد میں وہ تاریخی سہ فریقی مذاکرات ہوئے جس کی مثال 1979ء کے انقلاب کے بعد نہیں ملتی۔ یہ پہلا موقع تھا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف پر مشتمل وفود ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہوئے۔ تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے ان اعصاب شکن مذاکرات میں حسب توقع پہلی نشست میں تمام نکات پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا اور ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ۔
اس تعطل کے باوجود، سفارتی اور تزویراتی حلقوں میں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان نے ایک ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا ہے۔ شدید عالمی کشیدگی، معاشی دبا، اور داخلی بحرانوں کے باوجود 1979ء کے بعد پہلی بار امریکہ اور ایران کو ایک میز پر لا بٹھانا پاکستان کی سفارتی تاریخ کی ایک بے مثال کامیابی ہے۔ ماضی کے یہ تمام واقعات اور حال کا یہ سنگین بحران اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو اپنے مشکل ترین تنازعات سے نکلنے یا ان کی شدت کم کرنے کے لیے ہمیشہ پاکستان کی ضرورت رہی ہے۔ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑنے والا ایک ایسا خاموش مگر موثر کردار ہے جس کے بغیر اس خطے میں امن کی کوئی بھی عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی۔





