امن کیلئے پاکستانی کوششیں

امن کیلئے پاکستانی کوششیں
ضرور رنگ لائیں گی
پاکستان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا جنگ بندی برقرار رکھیں، پاکستان سہولت کاری کا کردار اداکرتا رہے گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی اور مذاکراتی عمل پر دی گئی حالیہ بریفنگ خطے کی سفارتکاری میں ایک اہم اور قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عدم اعتماد اور سیاسی تنازعات عالمی امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، پاکستان کا سہولت کاری کا کردار ایک مثبت اور فعال سفارتی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد ادوار اسلام آباد میں منعقد ہوئے، جن میں 24گھنٹے تک جاری رہنے والے طویل مذاکرات بھی شامل تھے۔ ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی، جن کی قیادت اہم سیاسی شخصیات نے کی۔ یہ امر خاص طور پر اہم ہے کہ پاکستان کی درخواست پر فریقین نے نہ صرف جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی بلکہ اسلام آباد آ کر مذاکرات میں حصہ لینے پر بھی رضامندی دکھائی۔ پاکستانی قیادت، بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ مذاکرات ممکن ہو سکے۔ اس عمل میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے بھی معاونت فراہم کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سول اور عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی جنگ بندی یا مکالمے کو فوری طور پر دیرپا امن کی ضمانت نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفارتکاری کا آغاز ہمیشہ چھوٹے مگر اہم قدموں سے ہوتا ہے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات اسی سمت ایک پیش رفت کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو خطے میں ایک ذمے دار اور متوازن ریاست کے طور پر پیش کیا ہے،
جو تنازعات کو بڑھانے کے بجائے انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نہ صرف اس عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا بلکہ مستقبل میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطے اور مکالمے کو فروغ دینے میں کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس سفارتی کوشش کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے خطے کے دیگر اہم ممالک کو بھی اعتماد میں لیا ہے۔ سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے اسحاق ڈار کے روابط اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اس عمل کو کسی محدود دائرے میں نہیں رکھنا چاہتا بلکہ ایک وسیع تر علاقائی سفارتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ خاص طور پر ترکیہ کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہنا اور انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد کی کوششوں کو علاقائی سطح پر اہمیت دی جارہی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے نہ صرف سفارتی کامیابی ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی کردار کی توثیق بھی ہے۔ تاہم اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل نہایت حساس اور نازک ہوتا ہے۔ کسی بھی فریق کی جانب سے معمولی خلاف ورزی یا سیاسی دبائو اس پورے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان سمیت تمام متعلقہ فریقین پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس عمل کو مستقل مزاجی اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک نازک مگر اہم موقع ہے کہ وہ عالمی سفارت کاری میں اپنی حیثیت کو مزید مضبوط کرے۔ ایک طرف یہ کردار اس کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنا سکتا ہے، تو دوسری جانب اسے یہ ثابت کرنے کا موقع بھی دیتا ہے کہ پاکستان صرف خطے کا ایک ریاستی فریق نہیں بلکہ امن کے قیام میں ایک سہولت کار کے طور پر بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ خطے کی موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی جائے۔ جنگیں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کرتی ہیں بلکہ معاشی اور سماجی ترقی کو بھی دہائیوں پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی یہ کوشش کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری رہے، ایک مثبت سفارتی سوچ کی عکاس ہے۔ آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ایک ذمے دار ریاست کے طور پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر یہ کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں اور فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کی نئی راہیں بھی کھول سکتی ہیں۔
ملک گیر پولیو مہم کا آغاز
پاکستان میں پولیو کا خاتمہ ایک قومی ذمے داری ہے، جس کے لیے ریاست اور معاشرہ دونوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ 2026ء کی دوسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز ایک اہم قدم ہے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب مل کر اس مہم کو ہر صورت کامیاب بنائیں، کیونکہ پولیو ایک ایسا موذی مرض ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار بنا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کروڑوں بچوں تک پولیو کے قطرے پہنچانے کا ہدف اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اس بیماری کو جڑ سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس مہم کے دوران وٹامن اے کی فراہمی بھی بچوں کی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی، تاہم اس مہم کی حقیقی کامیابی کا دارومدار عوام خصوصاً والدین کے تعاون پر ہے، والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے لازمی پلوائیں اور ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض علاقوں میں غلط فہمیوں اور افواہوں کی وجہ سے مزاحمت کی جاتی ہے جو نہ صرف خطرناک ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ علما کرام، اساتذہ اور سماجی رہنما بھی آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں، تاکہ ہر گھر تک یہ پیغام پہنچ سکے کہ پولیو سے بچائو ممکن ہے۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ہیلپ لائن اور واٹس ایپ سہولت عوام کے لیے آسانی کا ذریعہ ہیں، جن سے رابطہ کرکے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اس قومی مہم کو کامیاب بنائیں، تاکہ آنے والی نسلیں ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل حاصل کر سکیں اور پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے کا خواب حقیقت بن سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا ذمے دارانہ کردار ادا کرے اور درست معلومات عوام تک پہنچائے صحت کے ادارے اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں اور فیلڈ میں موجود ورکرز کو مکمل سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ بغیر کسی خوف و خطر کے اپنی ذمے داریاں انجام دے سکیں۔ سیکیورٹی کے موثر انتظامات بھی ناگزیر ہیں، کیونکہ بعض عناصر اس مہم میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے عناصر کا سدباب کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پولیو کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے، جس میں کامیابی ضروری ہے۔





