
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سخت کنٹرول اور مبینہ ٹول وصولی کا نظام نافذ کر دیا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے خلیج سے نکلنے والے تیل اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے۔
اس اقدام کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف تقریباً 2000 جہاز گزرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔
کئی شپنگ کمپنیاں خطرات کے باعث طویل متبادل راستے اختیار کرنے کے بجائے انتظار کو ترجیح دے رہی ہیں
ایران کا ’ٹول بوتھ‘ نظام کیسے کام کرے گا؟
برطانوی شپنگ جریدے ’لائڈز لسٹ‘ کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے غیر رسمی طور پر ایک نگرانی کا نظام قائم کیا ہے جس کے تحت:………
جہاز مالکان کو پہلے ایران سے منسلک ثالثوں سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔
جہاز کی مکمل تفصیلات، کارگو، عملے کے نام اور منزل فراہم کی جاتی ہے۔
ایرانی بحری کمان معلومات کی جانچ کرتی ہے۔
منظوری ملنے پر کلیئرنس کوڈ اور مخصوص راستہ دیا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں داخل ہونے پر ایرانی اہلکار ریڈیو کے ذریعے کوڈ کی تصدیق کرتے ہیں۔
بعد ازاں ایرانی کشتی جہاز کو لراک جزیرے کے قریب سے محفوظ راستے سے گزارتی ہے۔
منظوری نہ ملنے والے جہازوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہے







