CM RizwanColumn

ایران پڑوسی ممالک پر حملوں سے گریز کرے

جگائے گا کون ؟

ایران پڑوسی ممالک پر حملوں سے گریز کرے

تحریر: سی ایم رضوان

اب تو حماس نے بھی کہہ دیا ہے کہ ایرانی بھائی پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کریں، حماس نے خطے کے تمام ممالک سے اپیل ہے کہ اس جارحیت کو روکنے میں تعاون کریں اور تمام ممالک باہمی بھائی چارے کے رشتوں کو برقرار رکھنے کے لئے تعاون کریں جبکہ جس دن سے امریکا اسرائیل ایران جنگ شروع ہوئی ہے اس دن سے پاکستان کا یہی موقف ہے کہ اس آگ کو یہیں پر بجھا دیا جائے اور پاکستان کی پہلے دن سے یہ سفارتی کوششیں جاری ہیں جو کہ انشاء اللہ جلد رنگ لائیں گی لیکن دوسری طرف ایک بپھرے ہوئے بھیڑیئے کی طرح اسرائیل اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں پانچ بڑے محاذوں پر نبرد آزما ہے، ان میں غزہ ( حماس) ، لبنان ( حزب اللہ)، ایران، یمن ( حوثی) اور شام و عراق کے مزاحمتی گروہ شامل ہیں۔ ان کثیر الجہتی جنگوں کے پیچھے اسرائیل کا بقا کا تحفظ، بدمعاشی کی دھاک بٹھانا، سات اکتوبر کے واقعات کے بعد اپنی فوجی ہیبت کو بحال کرنا ہے جو خطے میں اس کی بقا کی ضامن سمجھی جاتی تھی۔ اسرائیل دنیا پر یہ تاثر قائم کرنا چاہتا ہے کہ اس پر حملہ کرنے والے کسی بھی گروہ یا ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ دوسری طرف ایران نے اسرائیل کے گرد اپنے اتحادیوں ( حماس، حزب اللہ، حوثی) کا ایک جال بن رکھا ہے جسے ’’ حلقہِ آتش‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کا مقصد ان تمام گروہوں کی عسکری صلاحیت کو ایک ساتھ نشانہ بنا کر ایران کے اس حصار کو کمزور کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے مشترکہ حملے کا خطرہ ٹل جائے۔ اسرائیل اپنی سرحدوں کی ازسرِ نو حد بندی اور سکیورٹی زونز کے قیام کی کوششوں میں بھی مصروف ہے۔ جبکہ شمالی محاذ پر لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کو دریائے لیطانی سے پیچھے دھکیلنا بھی اس کی ترجیح ہے تاکہ شمالی اسرائیل کے بے گھر شہری واپس آباد ہو سکیں۔ اسرائیل کے جنوبی محاذ غزہ میں حماس کے حکومتی اور فوجی ڈھانچے کو مکمل ختم کرنا بھی اسرائیل کے مقاصد میں شامل ہے تاکہ وہاں سے دوبارہ کبھی خطرہ پیدا نہ ہو۔ ایران کے جوہری پروگرام اور اثر و رسوخ کو نشانہ بنانا بھی اسرائیل کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسرائیل ان محاذوں کو استعمال کرتے ہوئے اصل توجہ ایران پر مرکوز کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد ایران کو براہِ راست جنگ میں الجھا کر یا اس کے مہروں کو توڑ کر اسے اتنا کمزور کرنا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے نہ بڑھا سکے اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ محدود ہو جائے۔ اسرائیل کا ایک طویل مدتی مقصد یہ بھی ہے کہ ان جنگوں کے ذریعے مزاحمتی بلاک کو مفلوج کر دیا جائے، تاکہ عرب ممالک کے ساتھ ابراہیمی معاہدات جیسے تعلقات کو دوبارہ بحال کیا جا سکے اور ایران کے مقابلے میں ایک نیا علاقائی بلاک بنایا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی اس وقت حکمتِ عملی دفاعی سے زیادہ جارحانہ ہے، جہاں وہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت نہیں کر رہا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان حالات میں جن مصائب کا اس وقت عرب ریاستوں کو سامنا ہے وہ اس حوالے سی کسی حد تک اس کے ذمہ دار بھی ہیں کیونکہ انہوں نے ماضی میں ایک ایسی ریاست کو قائم ہونے اور پھلنے پھولنے دیا تھا جس کی سزا اب ان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ اب امریکا کی مدد حمایت اور شہ پر اسرائیل نے جو جنگ ایران پر مسلط کر رکھی ہے۔ بدقسمتی سے متعدد خلیجی ریاستیں نہ چاہتے ہوئے بھی اس جنگ میں فرنٹ لائن پر آ گئی ہیں کیونکہ ایران نے امریکی، اسرائیلی حملوں کا جواب دیتے ہوئے گزشتہ پندرہ روز میں اپنے عرب پڑوسیوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ ایران کے اِن حملوں کا بنیادی ہدف سعودی عرب سمیت اِن تمام خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ہیں، لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ ان خلیجی ممالک میں موجود سویلین انفراسٹرکچر اور تیل، گیس کے بنیادی ڈھانچے بھی ایرانی حملوں کی زد میں آ رہے ہیں۔ عرب حکومتیں پہلے روز سے ہی یہ جنگ نہیں چاہتی تھیں اور خلیجی رہنماں نے اس کو روکنے کی کوششیں بھی کیں لیکن اب یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ایران کے یہ حملے خلیجی ریاستوں کو بھی اس جنگ میں کھینچ لیں گے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا بیان اس حوالے سے اہم ہے کہ ’’ تمام ریڈ لائنز پہلے ہی عبور کی جا چکی ہیں۔ ہماری خود مختاری اور سالمیت پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ ہمارے بنیادی انفراسٹرکچر پر حملے ہو رہے ہیں۔ ہمارے رہائشی علاقوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان حملوں کے اثرات بالکل واضح ہیں۔ جہاں تک ممکنہ جوابی کارروائی کا تعلق ہے، ہماری قیادت کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔ لیکن ہم یہ بالکل واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے حملے نہ تو نظر انداز کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کا جواب دینے بغیر انہیں چھوڑا جا سکتا ہے‘‘۔ دوسری جانب سعودی عرب کا موقف ہے کہ وہ ایرانی حملوں کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ گو کہ ایران کی جانب سے ان کارروائیوں کے دوران خلیجی ریاستوں پر داغے جانے والے زیادہ تر میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ہدف پر پہنچنے سے قبل ہی تباہ کر دیا جاتا ہے مگر تباہ ہونے والے میزائلوں کا ملبہ آتشزدگی اور ہلاکتوں کا سبب بنتا ہے۔ تاہم ڈرون، جو دفاعی نظام سے زیادہ آسانی سے گزر جاتے ہیں، اکثر معمولی نقصان پہنچاتے ہیں اور یہی صورتحال خلیج میں تجارت، سفر اور سیاحت کے نظام کو درہم برہم کیے ہوئے ہے۔ اس کے مدمقابل ایران کی حکمتِ عملی یہی ہے کہ اپنے عرب پڑوسیوں کے لئے خطرات بڑھانا تاکہ وہ امریکہ پر جنگ ختم کرنے کے لئے دبائو ڈالیں اور امریکہ جنگ بندی پر مجبور ہو جائے۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ اب تک ایران نے تقریباً اتنے ہی میزائل اور ڈرون متحدہ عرب امارات پر داغے ہیں جتنے کہ اسرائیل پر۔ متحدہ عرب امارات خطے کی اہم تیل اور گیس کی صنعت کو ایران اپنے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ اس میں خلل ڈالنا عالمی معیشت کو جھٹکا دے سکتا ہے۔ تاہم اب اس ایرانی حکمتِ عملی کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ ایران خطرہ مول لے رہا ہے مگر اس کا اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خلیجی ریاستیں واشنگٹن کے مزید قریب ہو جائیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ خلیجی ریاستیں کسی نہ کسی شکل میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف اس جنگ کا حصہ بن جائیں۔ تاحال خلیجی ریاستوں نے امریکہ کو اپنی سرزمین یا فضائوں سے ایران پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دی ہے، مگر یہ صورتحال اب بدل سکتی ہے اور وہ کسی بھی وقت ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں میں شریک ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کی غزہ میں کی گئی مہلک اور تباہ کن کارروائیوں، اور لبنان و شام جیسے ممالک میں اس کی فوجی مداخلت نے عربوں کے ساتھ اس کے تعلقات کو مزید کشیدہ کیا ہے۔ جب اسرائیل نے گزشتہ سال قطر پر حملہ کر کے وہاں حماس قیادت کے چند اراکین کو قتل کرنے کی کوشش کی، تو عرب ریاستیں شدید غصے میں آ گئی تھیں۔تاہم اس کے باوجود اب یہ واضح ہے کہ ایران کے جوابی حملوں نے خلیجی ریاستوں کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک، بشمول سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عمان، نے گزشتہ اتوار کو ہنگامی اجلاس میں یکجہتی کا اظہار کیا اور عہد کیا کہ وہ اپنی سلامتی کے دفاع، اپنی سر زمین، شہریوں کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔ اماراتی صدر کے سینئر سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ آپ کی جنگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نہیں ہے۔ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ عقل و ذمہ داری کے ساتھ پیش آئیں، اس سے پہلے کہ ( آپ کی عالمی سطح پر) تنہائی اور جاری کشیدگی کا دائرہ وسیع ہو جائے۔

گزشتہ روز ایران کی جانب سے سعودی عرب پر ایران کے مبینہ میزائل حملوں کے بعد ایران سعودی عرب جنگ کے خدشات نے بھی سر اٹھا لیا ہے اس صورت میں پاکستان کا غیر متعلق رہنا بعید از قیاس ہے۔ گزشتہ روز شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات اور اس سے قبل جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے وزیر اعظم شہباز شریف کی ٹیلی فون پر بات ہوئی جس کے بعد ان کی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات اس پیشرفت کو ایران جنگ کے تناظر میں کافی اہمیت کی نظر سے دیکھا گیا۔ اس کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ملاقات میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی طویل المدتی مدد اور حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے موجودہ مشکل صورت حال میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا اور خطے میں امن کی کوششوں میں ساتھ دے گا۔ ولی عہد اور پاکستانی وزیراعظم نے دنیا اور خطے کی سکیورٹی، استحکام پر حالیہ عسکری تنازع کے اثرات پر خصوصی گفتگو کی۔ اس ملاقات میں سعودی جنرل انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے صدر خالد الہمدان بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کی جانب سے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاوہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ جبکہ پاکستان سعودی عرب اور عرب اتحادیوں سے بیک چینل رابطوں کے ذریعے یہ بات کر رہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیلی چال میں پھنس کر استعمال نہ ہوں جبکہ دوسری جانب ایران کو قائل کرنے کی کوش کر رہا ہے کہ تنازع کو مزید پھیلانا خود اس کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہو گا۔ اسلام آباد نے تہران کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی یاد دہانی کرائی ہے۔ اس پیچیدہ صورت حال میں پاکستان مہارت اور نزاکت سے سفارت کاری کر رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ ایران اپنی چہار طرفہ جنگ سے باز آ جائے اور مسلم اور غیر مسلم اور پڑوسی اور غیر پڑوسی ملک کے درمیان فرق کو مدنظر رکھے۔

جواب دیں

Back to top button