یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت ؐ۔ ایمان کی اساس

یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت ؐ۔ ایمان کی اساس
تحریر: رفیع صحرائی
مسلمان کی پہچان اس کے عقیدے سے ہوتی ہے اور اس عقیدے کی بنیاد محبتِ رسولِ اکرمؐ ہے۔ یہی وہ محبت ہے جس نے صدیوں سے امتِ مسلمہ کے دلوں کو ایک مرکز پر جمع رکھا ہوا ہے۔ حضور نبی کریمؐ کی ذاتِ اقدس مسلمانوں کے لیے محض ایک عظیم شخصیت نہیں بلکہ ایمان، عقیدت اور روحانی وابستگی کا سرچشمہ ہے۔ چنانچہ جب بھی دنیا کے کسی کونے میں رسولؐ اللہ کی شان میں گستاخی یا بے ادبی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پوری امت کے دل زخمی ہو جاتے ہیں۔ اسی احساسِ ایمانی کی تجدید اور اظہار کے لیے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ہر سال 15مارچ کو یومِ تحفظِ ناموسِ رسالتؐ منایا جاتا ہے۔
یہ دن دراصل اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ مسلمان رسولؐ اللہ کی عزت و حرمت کے معاملے میں کسی مصلحت، مفاد یا دبائو کو قبول نہیں کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امتِ مسلمہ نے ہر دور میں ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ کے لیے قربانیاں دی ہیں اور یہی جذبہ آج بھی مسلمانوں کے ایمان کا زندہ ثبوت ہے۔
ناموسِ رسالت سے مراد رسولؐ اللہ کی عزت، حرمت، تقدس اور مقامِ رسالت کا تحفظ ہے۔ اسلام میں حضورؐ کی شان و عظمت کا احترام ایمان کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر رسولؐ اللہ کے ادب و احترام کو اہلِ ایمان کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
ترجمہ: رسولؐ اللہ کی تعظیم اور توقیر ایمان والوں کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں ان لوگوں کے بارے میں سخت وعید بھی سنائی گئی ہے جو رسول اللہ ٔ کو اذیت پہنچاتے ہیں ( سورۃ الفتح: 9-8)
اسی طرح سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 57میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ رسولؐ اللہ کی عزت و حرمت کا تحفظ دراصل ایمان کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے‘‘۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی حضورؐ کی محبت کو ایمان کی تکمیل سے جوڑا گیا ہے۔
حضرت انسؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ٔ نے فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائوں‘‘۔ ( صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ محبتِ رسول ٔ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور اسی محبت کا تقاضا ناموسِ رسالتؐ کا تحفظ بھی ہے۔
تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کا مطلب محض جذباتی نعروں یا وقتی احتجاج تک محدود نہیں۔ اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ مسلمان حضور نبی کریمؐ کی سیرتِ طیبہ اور تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور معاشرے میں ادبِ رسالت کا شعور پیدا کریں۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ گستاخی یا توہین کے کسی بھی واقعے کے خلاف قانونی، مہذب اور پرامن انداز میں آواز بلند کی جائے۔ پاکستان میں اس دن کو منانے کا رجحان گزشتہ چند دہائیوں میں نمایاں ہوا۔ جب عالمی سطح پر بعض گستاخانہ واقعات اور توہین آمیز اقدامات نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا تو پاکستان میں مذہبی و سماجی حلقوں نے عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے یومِ تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے عنوان سے اجتماعات اور پروگرام منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ دن مسلمانوں کے اجتماعی احساسات اور عقیدے کے اظہار کی علامت بن گیا۔
موجودہ دور میں جب اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر مقدسات کے احترام کو چیلنج کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں تو ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان اور عقیدے کے بارے میں بیدار رہیں۔
یومِ تحفظِ ناموسِ رسالتؐ دراصل اسی بیداری اور شعور کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ یہ دن نئی نسل کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ رسول اللہ ٔ کی محبت صرف عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔
یومِ تحفظِ ناموسِ رسالتؐ منانے کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ سیرتِ نبویؐ کے پیغام کو عام کیا جائے۔ نوجوان نسل کو حضورؐ کے اخلاق اور تعلیمات سے روشناس کرایا جائے۔ معاشرے میں ادبِ رسالت کے شعور کو فروغ دیا جائے اور حضورِ اکرمؐ کی شانِ اقدس میں گستاخی کے خلاف قانونی اور مہذب انداز میں جدوجہد کی جائے۔
پاکستان میں اس دن کے موقع پر مختلف شہروں میں اجتماعات، کانفرنسیں اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں میں سیرت النبی ٔ کے موضوع پر خصوصی خطابات ہوتے ہیں۔ علماء اور دانشور حضورؐ کی سیرتِ طیبہ اور مقامِ رسالت پر روشنی ڈالتے ہیں جبکہ درود و سلام کی محافل میں عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت دراصل ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ رسول اللہ ٔ کی محبت کو محض نعروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے اپنی زندگیوں کا عملی حصہ بنایا جائے۔ اگر مسلمان حضورؐ کی سیرتِ طیبہ کو اپنا لیں تو یہی عمل دراصل ناموسِ رسالت کا سب سے مضبوط تحفظ بن سکتا ہے۔ حضور نبی کریمؐ کی سیرت انسانیت کے لیے ہدایت کا روشن مینار ہے۔ اسی مینار کی روشنی میں امتِ مسلمہ اپنی راہوں کو روشن کر سکتی ہے اور یہی روشنی ناموسِ رسالتؐ کے حقیقی تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔







