Column

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

پٹرولیم مصنوعات کی

قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات نے ایک بار پھر عالمی معیشت کو شدید دبائو میں ڈال دیا ہے۔ اس خطے کو دنیا کی توانائی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں پیدا ہونے والی سیاسی یا عسکری کشیدگی کے اثرات فوری عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔ انہی حالات کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ایسے وقت میں جب بیشتر ممالک اپنے معاشی دبائو کو عوام تک منتقل کرنے پر مجبور ہیں، پاکستان کی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ ایک اہم اور قابلِ توجہ اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے یہ اعلان کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، دراصل ایک ایسے وقت میں عوامی ریلیف کی کوشش ہے جب عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کے شدید بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کا مطلب صرف ٹرانسپورٹ مہنگی ہونا نہیں بلکہ اس کے اثرات خوراک، زرعی پیداوار، صنعت، بجلی اور روزمرہ استعمال کی ہر شے تک پہنچتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حالیہ عالمی حالات میں حکومت کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے کے باعث پٹرول کی قیمت میں قریباً پچاس روپے اور ڈیزل کی قیمت میں پچھتر روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز زیر غور تھی۔ اگر یہ اضافہ کر دیا جاتا تو پہلے سے مہنگائی کے شکار عوام کے لیے حالات مزید مشکل ہوسکتے تھے۔ تاہم وزیراعظم نے یہ بوجھ عوام تک منتقل کرنے کے بجائے حکومت کی سطح پر برداشت کرنے کی ہدایت دی، جو ایک مثبت اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی سپلائی چَین بھی متاثر ہورہی ہے۔ اس خطے میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نہ صرف تیل کی ترسیل کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی بے یقینی صورت حال پیدا کرتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو بڑی حد تک درآمدی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے ایسے حالات معاشی دبا کا باعث بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو اکثر عالمی قیمتوں کے مطابق ملکی قیمتوں میں ردوبدل کرنا پڑتا ہے۔ لیکن موجودہ صورت حال میں حکومت کا یہ فیصلہ کہ قیمتیں نہ بڑھائی جائیں، عوامی مشکلات کو مدنظر رکھنے کا واضح ثبوت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت اپنی استطاعت کے مطابق عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کرے گی۔ ان کا یہ کہنا کہ مشکل حالات میں بوجھ کمزور طبقوں پر ڈالنے کے بجائے اشرافیہ اور حکومت سے شروعات کی جائے گی، ایک ایسا پیغام ہے جو عوامی توقعات سے ہم آہنگ ہے۔ حکومت کی جانب سے مالی نظم و ضبط اور بروقت پالیسی سازی کے ذریعے معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی کوشش بھی قابلِ ذکر ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے مشکل حالات میں صرف فوری فیصلے ہی نہیں بلکہ طویل المدتی حکمتِ عملی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر حکومت توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی پیداوار اور توانائی کے بہتر استعمال کی پالیسیوں پر سنجیدگی سے کام کرے تو مستقبل میں عالمی منڈی کے اتار چڑھائو کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتیں بھی بچت اور مالی نظم و ضبط کے اقدامات میں تعاون کر رہی ہیں۔ پاکستان جیسے وفاقی نظام میں معاشی استحکام کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی انتہائی اہم ہوتی ہے۔ اگر تمام سطحوں پر حکومتی ادارے مشترکہ طور پر کفایت شعاری اور شفافیت کو فروغ دیں تو اس کے مثبت اثرات قومی معیشت پر ضرور مرتب ہوں گے۔ حکومت کے اس فیصلے کو ایک وقتی ریلیف کے طور پر ضرور دیکھا جاسکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب لے جانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ قابلِ تجدید توانائی جیسے سولر، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں کو تیزی سے فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ مقامی تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ درآمدی انحصار کم کیا جا سکے۔ عالمی حالات کے پیش نظر یہ دعا بھی کی جارہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو اور خطے میں امن قائم ہو۔ کیونکہ اس خطے کا استحکام نہ صرف عالمی معیشت بلکہ پاکستان سمیت کئی ممالک کی معاشی صورت حال کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر عالمی سطح پر حالات بہتر ہوتے ہیں تو یقیناً تیل کی قیمتوں میں بھی استحکام آسکتا ہے جس کا فائدہ براہِ راست عوام کو پہنچے گا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ حالات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا حکومتی فیصلہ ایک مثبت قدم ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت عوامی مشکلات سے آگاہ ہے اور حتی الامکان ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ضروری ہے کہ معیشت کو مضبوط بنانے، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے اور مالی نظم و ضبط کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں۔ اگر حکومت اسی جذبے کے ساتھ عوامی مفاد کو ترجیح دیتی رہی اور معاشی اصلاحات پر سنجیدگی سے عمل کیا گیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نکل آئے گا بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کے طور پر ابھرے گا۔

لکی مروت: پولیس پر حملہ، 7اہلکار شہید

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے قبائلی سب ڈویژن بیٹنی میں پولیس موبائل کے قریب ہونے والا دھماکہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس افسوس ناک واقعے میں ایس ایچ او سمیت سات بہادر پولیس اہلکاروں کی شہادت نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ سانحہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکا خیز مواد پولیس موبائل کے قریب نصب کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او صدر اعظم اور دیگر اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں اے ٹی ایس کے اہلکار بھی شامل تھے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلے ہی بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ خیبر پختونخوا پولیس گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں کے افسران اور جوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کے تحفظ کے لیے مسلسل فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا پولیس نے انتہائی مشکل حالات میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے۔ محدود وسائل اور مسلسل خطرات کے باوجود پولیس کے جوانوں نے جس بہادری اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ لکی مروت کا حالیہ واقعہ بھی اسی جدوجہد کی ایک دردناک مثال ہے۔ اس سانحے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کرنا ایک ضروری قدم ہے۔ دہشت گرد عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا ریاست کی اولین ذمے داری ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیوں کے لیے ضروری ہے کہ انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات کو بہتر کیا جائے۔ صدر مملکت، وزیراعظم، سیاسی قیادت اور حکومتی نمائندوں کی جانب سے اس حملے کی شدید مذمت اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی موقف واضح اور مضبوط ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ اس موقع پر یہ بھی ضروری ہے کہ شہداء کے خاندانوں کی مکمل کفالت اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے۔ جو اہلکار وطن کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، ان کے اہل خانہ کی دیکھ بھال ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔ اگر شہداء کے خاندانوں کو عزت، تحفظ اور سہارا فراہم کیا جائے تو یہ اقدام دیگر اہلکاروں کے حوصلے بھی بلند کرتا ہے۔ لکی مروت کا سانحہ یقیناً ایک بڑا المیہ ہے، لیکن ایسے واقعات قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جنگ لڑی ہے اور بڑی حد تک کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم کو مزید مضبوط کریں۔ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی شہداء کی قربانیوں کا حقیقی خراج ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button