انسدادِ گداگری آرڈیننس میں حالیہ ترامیم

انسدادِ گداگری آرڈیننس میں حالیہ ترامیم
تحریر: فیع صحرائی
انسداد گداگری آرڈیننس 1958میں حالیہ ترامیم کے بعد پنجاب حکومت نے گداگری کو محض سماجی مسئلہ نہیں بلکہ منظم جرم کے طور پر دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھیک منگوانا ناقابلِ ضمانت جرم قرار دینا، سرغنہ عناصر کے لیے قید و جرمانے بڑھانا اور بچوں و معذور افراد کے استحصال پر سخت سزائیں مقرر کرنا اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان ترامیم کی منظوری دے دینا ہی کافی ہے؟ اس ترامیم پر عملدرآمد کب کرایا جائے گا؟
گداگر مافیا اب مقامی چوراہوں تک محدود نہیں رہا۔ اطلاعات کے مطابق اس نے ملکی سرحدوں سے نکل کر خلیجی اور زیارتی ممالک تک اپنا جال پھیلا دیا ہے، خصوصاً سعودی عرب اور عراق میں اس مافیا نے اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ لیے ہیں جہاں حج، عمرہ اور زیارات کے مواقع پر پاکستانی گداگروں کی گرفتاریوں کی خبریں وقتاً فوقتاً منظرِ عام پر آتی رہتی ہیں۔ اس سے نہ صرف قومی وقار متاثر ہوتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ افراد انفرادی طور پر جاتے ہیں یا منظم نیٹ ورک کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں؟ اگر موخر الذکر بات درست ہے تو معاملہ صرف غربت نہیں بلکہ انسانی اسمگلنگ اور منظم جراءم کا بھی ہے۔
رمضان المبارک شروع ہوتے ہی بڑے شہروں کے چوک، مساجد، بازار اور ٹریفک سگنلز گداگروں سے بھر جاتے ہیں۔ عبادت گزاروں کے جذبات، صدقات و خیرات کا رجحان اور زکوٰۃ کی تقسیم گداگر مافیا کے لیے سنہری موقع بن جاتا ہے۔ صورتِ حال بعض شہروں میں اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ: دروازوں، گاڑیوں اور دکانوں پر مسلسل دستک ہونا معمول بن گیا ہے۔ بچوں اور معذور افراد کو آگے کر کے لوگوں پر جذباتی دبائو ڈالا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بھیک دینے سے انکار کر دے تو اسے بددعائیں دی جاتی ہیں یا اس کے خلاف سخت بدتمیزی کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک شریف شہری خود کو بے بس اور شرمندہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ گداگر بھکاری کم اور غنڈے بدمعاش زیادہ لگنے لگتے ہیں جن کا ہتھیار پستول نہیں بلکہ ان کی زبان ہوتی ہے جس کی کاٹ تلوار سے بھی تیز ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب واقعی مجبوری ہے یا ایک منظم کاروبار ہے؟
ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں گداگروں کی تعداد چار کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر یہ اعداد درست کے قریب بھی ہوں تو یہ صورتِ حال تشویشناک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک بہت بڑا طبقہ قومی پیداوار میں حصہ ڈالنے کے بجائے غیر رسمی معیشت پر بوجھ بن چکا ہے۔ ایک تو یہ لوگ کوئی کام کر کے ملکی پیداوار میں اضافہ نہیں کرتے دوسرا کام کرنے والوں پر بھی بے جا بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح سے یہ گداگر ملکی معیشت پر دوہرا بوجھ ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر گداگر پیشہ ور نہیں ہوتا۔ غربت، بے روزگاری اور سماجی ناانصافی کئی لوگوں کو اس طرف دھکیل دیتی ہے۔ مگر جب یہی مجبوری منظم مافیا کے ہاتھوں کاروبار بن جائے تو پھر ریاست کو مداخلت کرنا ہی پڑتی ہے۔ حالیہ ترامیم کے تحت بھیک منگوانا ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ بچوں اور معذور افراد کے استحصال پر 5 سے 10سال تک قید اور بھاری جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ دہرائے گئے جرم پر دگنی سزا تجویز کی گئی ہے۔ یہ سب خوش آئند اقدامات ہیں۔ لیکن صرف گرفتاریوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک پیشہ ور مافیا اور اصل سرغنہ پکڑے نہ جائیں، بھکاریوں کی بائیو میٹرک رجسٹریشن نہ ہو، فلاحی و بحالی مراکز فعال نہ ہوں اور بیرونِ ملک بھیجے جانے والے گروہوں کی چھان بین نہ ہو تب تک یہ جنگ ادھوری رہے گی۔اگر گداگر مافیا واقعی سرحد پار نیٹ ورک، انسانی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور بچوں کے استحصال میں ملوث ہے تو پھر اس کے خلاف کارروائی بھی عام پولیسنگ سے آگے ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ انسدادِ دہشت گردی طرز کی خصوصی ٹاسک فورس قائم کرے۔ رمضان میں خصوصی کریک ڈائون مہم چلائے۔ مساجد و عوام کو باقاعدہ آگاہی مہم کے ذریعے متبادل طریقہ خیرات فراہم کرے اور مستحق افراد کو سرکاری سماجی تحفظ پروگراموں سے جوڑے۔
گداگری کا مسئلہ دو حصوں میں تقسیم ہے: یشہ ور مافیا ، جس کے خلاف سخت قانون اور فوری کارروائی ضروری ہے۔ حقیقی مستحقین: جن کے لیے باعزت روزگار، فنی تربیت اور سماجی تحفظ ناگزیر ہے۔ ریاست اگر صرف لاٹھی استعمال کرے گی تو مسئلہ وقتی طور پر دب جائے گا مگر ختم نہیں ہوگا۔ اگر قانون کی سختی کے ساتھ سماجی بحالی کو بھی جوڑ دیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ رمضان کی رحمتیں مافیا کے کاروبار کی بجائے واقعی مستحقین تک پہنچ سکیں گی۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم خیرات دے کر ضمیر مطمئن کرنا چاہتے ہیں یا ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس میں کسی کو ہاتھ پھیلانے کی نوبت ہی نہ آئے۔





