رمضان المبارک اور مہنگائی کا طوفان

رمضان المبارک اور مہنگائی کا طوفان
ضیاء الحق سرحدی
رمضان المبارک کی آمد کے باعث اشیاء خورو نوش کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، رمضان کی آمد سے بازاروں میں خریداری میں بھی تیزی آگئی ہے۔ وطن عزیز کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے گرانی کے عذاب کو بھگت رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے مہنگائی کم کرنے اور قیمتوں میں اضافہ کو نوٹس لینے کی خبر بھی اب اپنی اہمیت کھو رہی ہے کیونکہ حکومت میں ایسے عناصر موجود ہیں جو وزیر اعظم کے بیان کے فوراً بعد مہنگائی کا تازیانہ رسید کرکے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ملک میں رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 29.9فیصد ہو گئی ۔ ملک میں 7سال بعد غربت کے اعدادوشمار جاری کر دیئے گئے۔ تازہ ترین تخمینوں کے مطابق گزشتہ 6سال کے دوران ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال25۔2024ء میں پاکستان کی 29.9 فیصد آبادی غربت کے بے رحم شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں غربت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2018۔19ء میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی لیکن گزشتہ 6سالوں کے دوران اس میں تقریباً 6.9 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔2024۔25ء کے حالیہ سروے پر مبنی تخمینوں کے مطابق اب ملک میں غربت کی شرح 28.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ صوبائی سطح پر بھی غربت کے گراف میں تیزی دیکھی گئی ہے جس سے خاص طور پر پنجاب اور سندھ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ 2018 کے بعد غربت کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے تھے گزشتہ 7 سال میں چاروں صوبوں میں غربت میں اضافہ ہوا۔ ہم نے پہلی بار کثیر الجہتی غربت کے اعداد وشمار پیش کیے۔شہری علاقوں میں غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہوگئی۔ پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے بڑھ کر 23.3 فیصد ہوگئی، سندھ میں غربت 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد ہوگئی، خیبر پختوانخوا میں غربت 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد ہوگئی، بلوچستان میں غربت 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد ہوگئی۔کسی ملک کی ترقی میں غربت کے تخمینوں کا اہم کردار ہوتا ہے،غربت کے خاتمے کے بغیر معیار زندگی بہتر نہیں ہوسکتی۔ معاشی ناہمواری ختم کرنا اہم ہدف ہے۔ تمام بنیادی اشیائے ضرور یہ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ کر دیا خود ساختہ مہنگائی کی شدید لہر کے باوجود شہر بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور مارکیٹ کمیٹی بھی زیر زمین چلی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ نے بھی پر اسرار خاموشی اختیار کر لی مارکیٹ کمیٹی نے پھلوں اور سبزیوں کو اے، بی اور سی کے 3 درجات میں تقسیم کر کے معیار کے اعتبار سے 3 الگ الگ قیمتیں مقر ر کر دیں لیکن گرانفروشوں نے سی کلاس کے لئے اے کلاس کی قیمتیں مقرر کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا عوامی حلقوں نے شہر بھر میں فوری طور پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں کی تعیناتی اور ان کے نام و فون نمبر پبلک کرنے کا مطالبہ کر دیا تا کہ عوام بر وقت شکایات کر سکیں ۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں اور مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ ملی بھگت سے پھلوں اور سبزیوں سمیت تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے عام آدمی کی قوت خرید جواب دے گئی۔ رمضان المبارک کے آغاز پر مہنگائی کا طوفان عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کر رہا ہے۔ مقدس مہینے کی آمد سے عین قبل بنیادی اشیائے ضروریہ، پھلوں، سبزیوں، گوشت، انڈوں، آٹے، چینی، گھی، تیل اور دیگر خور دو نوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اضافہ مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا ہے، جس سے محدود آمدنی والے گھرانوں کی قوت خرید مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ٹماٹر، پیاز، آلو، لہسن جیسی روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جبکہ پھلوں کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی قابل مذمت ہے۔ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے یہ مافیا ز عوام کی کمزوری کا فائدہ اٹھارہے ہیں جبکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی موثر اور ٹھوس کارروائی نظر نہیں آرہی۔ المیہ یہ ہے کہ ملک بھر میں ضلعی انتظامیہ کے افسران دفاتر سے نکلنے کو تیار نہیں، جبکہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ خود مارکیٹس میں نکلیں، دکانوں، ہول سیل منڈیوں اور گوداموں کا معائنہ کریں، ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں۔ نرخ ناموں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نہ صرف جرمانے بلکہ دکانیں سیل کرنے، مقدمات درج کرنے اور دیگر قانونی اقدامات کئے جائیں تا کہ مارکیٹ میں انصاف اور شفافیت قائم ہو۔ افسوس کہ انتظامیہ کی جانب سے صرف کاغذی کارروائیاں، نمائشی ریڈز اور فوٹو سیشنز ہی دیکھنے کو مل رہے ہیں، جو کسی بھی طرح عوام کے لیے حقیقی ریلیف کا باعث نہیں بن رہے۔ یہ ملی بھگت اور لاپر واہی عوام کے صبر کی آزمائش کر رہی ہے۔ دوسری جانب، رمضان سے قبل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی مہنگائی کی آگ میں تیل ڈالنے کا کام کر رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہو گئی ہے، جو براہ راست صارفین پر بوجھ ہے۔ بجلی کے بلوں میں اضافہ، گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھائو اور بار برداری کے نرخوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے، جس سے روز مرہ زندگی مزید مشکل اور نا قابل برداشت ہو گئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غریب عوام کی گردن پر ہی بار بار چھری نہ چلائے۔ اشرافیہ کی مراعات، غیر ضروری سہولیات، پر تعیش اخراجات اور فضول خرچیوں پر فوری قابو پایا جائے۔ حکومت کو فوری طور پر عملی ٹھوس اور شفاف اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ عوام کی آواز سنی جائے، منافع خوروں اور مافیاز کو سبق سکھایا جائے اور مقدس مہینے کی برکات ہر طبقے تک پہنچائی جائیں۔ ورنہ معاشی دبا معاشرتی انتشار کا سبب بن سکتا ہے، جو کسی کے لیے بھی مفید نہیں۔ اب وقت ہے کہ ذمہ دار ادارے جاگیں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ حکومت اگر اب بھی خاموش رہی تو یہ نہ صرف معاشی بحران بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی سنگین چیلنج بن جائے گا۔ پورے ملک میں ہزاروں افسران انتظامی عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور انہیں بھرتی ہی اس مقصد کیلئے کیا جاتا ہے کہ وہ نچلے درجے تک گورنس کو بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اسی کام کیلئے انہیں دوسرے سرکاری ملازموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تنخواہ بھی دی جاتی ہے، گاڑیاں، گھر ،عملہ اور دیگر مراعات و سہولیات اس کے علاوہ ہیں لیکن یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ بیوروکریسی گورننس کو بہتر بنانے کی بجائے ساری توانائی اور وسائل صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنے پر خرچ کرتی ہے اسی لئے ملک آج اس حال کو پہنچ چکا ہے کہ عام آدمی کو ریاست اور جمہوریت پر اعتماد نہیں ہے۔ہم بار بار اس خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگر حکومت نے مہنگائی کو نہ روکا تو ستائے ہوئے عوام سڑکوں پر نکل کر سیاسی عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔حکومت کو اس مہنگائی کا نوٹس لینا چاہیے اور ابھی سے کوئی سد باب کرنا چاہیے۔ دُنیا بھر کے مہذب ممالک میں اُن خصوصی دنوں اور تہواروں کے موقع پر اشیائے ضرور یہ کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہے جب کہ وطن عزیز میں اُلٹی گنگا بہتی ہے اور ہر شے کے دام بڑھ جاتے ہیں، عوام پر مہنگائی کے نشتر اس بے رحمی سے برسائے جاتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ آخر یہ مجسٹریسی نظام کس مرض کی دوا ہے کہ مہنگائی تو روز بروز ترقی کر رہی ہے لیکن مجسٹریسی نظام تاحال کارگر ثابت نہیں ہوسکا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر نا جائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کریں اور منافع خور تاجروں پر جرمانہ عائد کرنے کے بجائے سخت ترین سزائوں کے اقدامات کیے جائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی حکومت کے نمائندوں کو صحیح معنوں میں عوام کا خادم بنایا جائے اور ان سے مہنگائی کے خاتمے کے لئے مرکزی کردار ادا کرایا جائے بلکہ رمضان المبارک میں عوام کو گرانی کے عذاب سے بچانے کو موثر بندوبست بھی کیا جائے۔ تمام بازاروں کا ذمے داران دورہ کریں اور وہاں سرکاری نرخ نامے کے مطابق اشیاء ضروریہ کی فروخت ممکن بنائیں،گراں فروشوں کے خلاف کڑی کارروائیاں کی جائیں اور سخت سے سخت اقدامات کیے جائیں بصورت دیگر مہنگائی کا سونامی غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دے گا ۔لہٰذا حکومت کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ منافع خوروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنی چاہیے جو نرخ نامے مقرر کرنے کے کمزور طریقہ کار کی وجہ سے غریب عوام کو بلا خوف دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔







